Header Ads

Breaking News
recent

پب جی اور ہماری نوجوان نسل

 


‏عنوان: پب جی اور ہماری نوجوان نسل


ہمارے بچپن کے دور میں ہماری مائیں٫ ہماری نانیاں٫ دادیاں اپنے پاس بٹھا کر ہمیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔جن میں کچھ اصلاحی کچھ اسلامی کچھ خوابوں کی دنیا سے وابستہ ہوتی تھی ۔جن سے ہمیں دین و دنیا کی آگاہی کے ساتھ ساتھ ہمارے جنرل نالج میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔شام کے وقت تمام بچے گلی محلوں میں ایسی گیمز کھیلتے تھے جن سے وہ ذہنی و جسمانی طور پر تندرست رہتے تھے اور آپس میں پیار محبت بھی بڑھتا تھا۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ جدت آتی گئی ویڈیو گیمز آئے اور آج کل موبائل فون پر ہر بچہ گیم کھیلتا ہے۔موبائل فون پر گیمز کھیلنا غلط بھی نہیں٫اگرایک حد تک ہو لیکن اس چیز کی زیادتی کے نقصانات بھی بہت ہیں کیونکہ موبائل فون پر گیم کھیلنے سے انسان سارا دن ایک جگہ پر بیٹھ کر کر اپنے ہاتھوں کو چلاتا ہے لیکن اپنے جسم کے باقی حصے کو کوئی حرکت نہیں دیتا۔  بہت سی گیمز ایسی ہیں جن کو بچے کھیلتے بھی تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے روز مرہ کے باقی کام بھی سر انجام دیتے تھے جن میں ان کی پڑھائی یا پھر کچھ بھی وہ ضرور کرتے تھے لیکن آج کل ایک ایسی گیم آئی ہے جو کہ ہماری نوجوان نسل میں بہت زیادہ مقبول ہے۔

"پب جی"نامی ایک گیم جو کہ آج کل ہر نوجوان کھیل رہا ہے یہ بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔نوجوان نسل اس گیم کی اتنی عادی ہوچکی ہے کہ وہ  دن میں اس کو ایک دفعہ بھی نہ کھیلے تو اس کو سکون نہیں آتا ایسی گیم ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے ۔نوجوان نسل جو کہ پہلے پڑھائی اور دوسرے روز مرہ کے کاموں میں دلچسی لیتی تھی اب وہ صرف اس گیم میں اتنا مگن ہوتی ہے کہ ان کو دن رات کا بھی پتہ نہیں چلتا ہے نوجوان نسل اپنا مستقبل برباد کر رہی ہے سارا دن صرف موبائل میں پب جی کھیلنے سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔

پب جی گیم بچوں کو تشدد کرنا سکھاتی ہے۔یہ گیم منشیات کی لت سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اس سے نفسیاتی بیماریاں پیداہوتی ہیں۔ اس میں گروپ کی شکل میں دوسروں کو قتل اور ان کی املاک پر قبضہ کرکے نیز دوسروں کو بے ازیت پہنچا کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مکمل اختتام تک گیم کھیلنے والے نوجوانوں کو جرائم کے نت نئے طریقے ملتے ہیں۔ بچوں کے سادہ ذہن نئے نئےجرائم کا گڑھ بن رھے ہیں۔ یہ گیم خون خرابہ کا باعث بنتی ہے۔ گیم کھیلنے والے نوجوانوں کو ہر طرح کے ہتھیار بندوق  کے نام یاد ہو جاتے ہیں۔ نیز اس گیم میں منشیات کا استعمال، گروپوں کے درمیان لڑائی ،تشدد اور نازیبا الفاظ کا خوب استعمال کیا جاتا ہے۔پچھلے کچھ سالوں میں کچھ ایسے واقعات سننے کو آئے ہیں جس میں نوجوان اپنے فیملی یا اپنے دوستوں کو حقیقی زندگی میں  نقصان پہنچا چکے ہیں اور کچھ واقعات میں لوگ موت کا باعث بھی بنے ہیں۔

اس کے علاوہ اس گیم کو کھیلنے سے جسمانی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔گیم میں موجود اینی میشن کی روشنی سے نکلنے والی شعاعیں اُن نوجوانوں کو مرگی کے عارضہ میں مبتلا کرتی ہے، جو یہ گیم کثرت سے کھیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ گیم کھیلنے والوں کے ہاتھوں میں رعشہ پیدا ہوتا ہے۔ گیم میں تیز رفتاری کا مظاہرہ کرنے سے ہڈیوں اور عضلات کا مرض لاحق ہوجاتا ہے  گیمز سے نکلنے والی روشنی سے آنکھیں بھی متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ اس میں آنکھوں کی حرکت تیز ہوجاتی ہے اور موبائیل اسکرین سے مقناطیسی لہروں کا نکلنا بھی آنکھوں کے لئے مضر ثابت ہوتا ہے۔

اور مسلسل اس گیم کو کھیلنے کی وجہ سے وہ اپنی انرجی اور وقت کو برباد کر رہے ہیں۔

میرے نزدیک اس گیم کو کھیلنے کے صرف نقصانات ہیں۔ مجھے اس گیم میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارے۔ اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور انہوں نے اپنے مستقبل میں کیا کرنا ہے اور وقت بہ وقت اس گیم کے نقصانات سے نوجوان نسل کو آگاہ کرتے رہے۔پب جی ایک لعنت ہے جو ہمارے بچوں کو جسمانی واخلاقی اعتبار سے کھوکھلا کر رہی ہے بظاہر آپ کے بچے سسٹم پر گیم میں مصروف نظر آتے ہیں؛ لیکن آپ کو پتہ نہیں کہ تشدد ان کے رگ وریشہ میں گھلتا کا رہا ہے۔جو کہ آنے آنے والے وقت کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔


تحریر: کائنات واجد


1 comment:

Powered by Blogger.