بشیراں بمقابلہ نذیراں
بشیراں اور نذیراں آپس میں درانی جیٹھانی ہیں۔ دونو ں کے شوہر محنت مزدوی کرتے ہیں۔گھروں کی درمیانی دیوار سانجھی ہے۔ ایک دوسرئے کے گھر میں کیا پکتا ہے۔دونوں جانب پتہ چلتا ہے۔ کوئی نئی چیز آئے تو دوسرئے گھر میں لڑائی تب تک چلتی ہے جب تک وہ چیز آنہ جائے۔یہ سلسلہ سالوں سے جاری ہے۔ آپس میں تعلقات امریکہ اور روس کی سرد جنگ کی طرح رہتے ہیں۔ شوہر حضرات دن کو رات اور رات کو دن کہتے نظر آتے ہیں۔ نہ سردی کی فکر نہ گرمی کا ہوش۔ بس گھر کی ضرروتیں پوری کرنے میں لگے ہیں۔ اس تمام کوشش میں زندگی کی خوبصورتی ان سے بہت دور چلی گئی ہے۔ ضرروریات اتنی بڑھا لی گئی ہیں کہ اب پوری کرنے کا بھوت سوار ہے۔ میں جب آتے جاتے انکو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ چھوٹی فیملیوں کا یہ حال ہے تو پھر بڑے گھرانے کیا کرتے ہوں گے۔ محلاتی سازشیں ہر لیول پہ یکساں ہیں۔ پھر بنی اسرائیل کی عادات یاد آتی ہیں کہ کیسے وہ حضرت موسی علیہ السلام سے روزانہ نت نئی فرمائشیں کرتے تھے۔ من و سلوی انکو پسند نہ آیا۔ سکون کی زندگی کو ہزار جوکھوں میں پھنسا بیٹھے۔ اگر ہم دنیا کے حالات کا جائزہ لیں تو آپکو ہرطرف بشیراں اور نذیراں ہی نظر آئیں گی۔ مادہ پرستی نے زمین جیسے خوبصورت سیارئے کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ جسم کو پتوں سے ڈھانپنے سے سفر شروع کرنیوالا انسان آج ترقی کی اس منزل پہ کھڑا ہے جہاں جو بھی سوچے تو روبوٹ وہ چیز حاضر کردیں۔ حضرت سلمان علیہ السلام کی طاقت کو سائنسی ایجادات میں قید کرنے کی اس دھن نے اسے اندھا کردیا ہے۔ قدرت نے اپنی سب سے اشرف مخلوق کے لئے اپنی لامحدود کائنات میں سب سے بہترین سیارئے کا انتخاب کیا۔ درخت اگائے، سورج کو روشنی پر پابند کیا۔ چاند کو چاندنی عطا کی۔ درختوں کو سانس بخشی۔ پانی کو پیاس بنایا۔ لیکن انسان من و سلوی کی نعمت کو ترک کرکے من پسند ذائقے کے جس سفر پر صدیوں پہلے چلا تھا آج وہ سفر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ واپسی کا راستہ مٹ چکا ہے۔ اور مستقبل مریخ اور چاند پر ڈھونڈ اجارہاہے۔کہیں بادل ٹوٹ رہے ہیں۔ غیر متوقع برف باری تو کہیں سیلاب آرہے ہیں۔ برف کا براعظم اب پانیوں میں پانی ہورہا ہے۔ عالمی ادارئے ہر گزرتے سال کو بہتر اور آنیوالے سال کو چیلنج قرار دئے رہے ہیں۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ انسان نے ایساکیوں کیا؟ توجواب کی سوچ سے دماغ ماوف ہوجاتا ہے کہ پتہ نہیں کیوں؟ انسان کی طبیعت میں جستجو کا جو مادہ قدرت نے رکھا ہے وہ اس کے سہارئے آج موت کو کنٹرول کرنے کے تجربات کر رہا ہے لیکن قدرت کے حسن کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ 2040تک سمندروں میں اتنا پلاسٹک کا کچرا ہوگا کہ آبی حیات کا نام و نشان تک نہ ہوگا۔ اس خوفناک منظر سے بچنے کے لئے پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے سینکڑوں تجربات کئے جارہے ہیں۔ خلا میں محوگردش 6 ہزار سے زائد سیٹلائٹس نے آسمان کا حسن پراگندہ کردیا ہے۔ آنیوالے10سالوں میں نئی نسل کو ستارے نظرہی نہیں آئیں گے۔ ناسا اربوں ڈالر خرچ کرکے ناکارہ سیارچوں کو ہٹانے کے مشن پر ہے حالانکہ اسی ناسا نے روس کو نیچا دکھانے کے لئے خلا کو پھوپھی کا گھر بنادیا۔ ایلن مسک اس سے بھی 2 ہاتھ آگے جا نکلا اکیلا ہی ہزاروں سیٹلائٹس روانہ کرنے کے مشن پر لگا ہوا ہے۔ دنیا کی7 ارب آبادی میں صرف کاروں کی تعداد 1.4بلین ہے۔ دھوئیں نے نہ صرف انسانیت کی صحت کو برباد کرکے رکھ دیا ہے بلکہ اوزون کی تہہ کو بھی ہیلو ہائے کہا ہے۔ 10 ملین فیکٹریاں دنیا بھر کے پانی کو نہ صرف گندہ کررہی ہیں بلکہ کاربن کے اخراج کابہت بڑا ذریعہ ہیں۔امریکہ اور چین ان کمپنیوں میں 20فیصد کے اکیلے مالک ہیں جبکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے اقدامات میں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں۔لیکن اپنے ملکوں میں کوئی اقدامات کرتے نظر نہیں آتے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والے مقولے کو بالکل سچ ثابت کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ دنیا میں کنکریٹ سے بنے گھروں کی تعدا 1.2بلین ہے۔آخری 10 سالوں میں ان میں 258فیصد اضافہ ہوا ہے۔ منافقت کی انتہا دیکھیں کہ ایک طرف ہم پاکستان میں سیمنٹ کی ریکارڈ فروخت پر بغلیں بجارہے ہیں تودوسری طرف بلین ٹری سونامی کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں۔ میں نے ایک بھلے آدمی کو بتایا کہ کنکریٹ کے گھر بھی گلوبل وارمنگ کا بہت بڑا ذریعہ ہیں تو جواب ملا جناب میرا گھر بننے سے کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ جواب لاجواب تھا اس لئے کوئی مزید سوال نہیں بنتا تھا۔جرمنی اس وقت دنیا میں لکڑی کے گھر بنانے میں سب سے آگے ہے۔ منافقت ملاحظہ فرمائیے کہ کہا جارہا ہے کہ لکڑی کے گھروں سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہوگی لیکن یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ جو لکڑی کے گھر بنانے کے لئے اتنے درخت کاٹے جارہے ہیں وہ کمی پوری کون کرئے گا؟ اس وقت دنیا میں انداز 3.04ٹریلین درخت ہیں۔ جو 7 ارب کی آبادی کے مقابل اوسط 422درخت فی آدمی بنتی ہے۔ انسان کی پیدائش سے پہلے تقریبا 6ٹریلین درخت تھے۔ یعنی انسان نے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے آدھے درختوں کا صفایا کردیا ہے۔ بڑئے بڑئے جنگلوں کو ختم کرتا جارہا ہے اور رہائشی عمارتوں سے بدلتا جارہا ہے۔ دنیا کے موجودہ 50 فیصد درخت صرف دنیا کے 5ملکوں میں ہیں۔ جن میں امریکہ چین روس برازیل اور کینیڈا شامل ہیں۔ کینیڈ ا میں فی آدمی درختوں کی تعداد9 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ مصر میں یہ تعداد ایک درخت فی آدمی بھی نہیں ہے۔ بھارت میں فی آدمی درختوں کی تعداد30 جبکہ پاکستان میں 5 ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ گولے بارود کا بے دریغ استعمال بھی ہے۔ بیسویں صدی میں 108ملین لوگ جنگوں میں مارے گئے۔ جبکہ پہلی 19 صدیوں میں یہ تعداد 150سے1بلین بنتی ہے۔ اکیسویں صدی کے پہلے 20سالوں کی جنگیں 8 لاکھ لوگوں کی جان لے چکی ہیں جبکہ کئی معرکے ہونے کو ہیں۔ جدید سے جدید جنگی ہتھیاروں کی دوڑ نے گلوبل وارمنگ کو بڑھاوا دیاہے۔ میں امریکہ کو اپنے محلے کی بشیراں اور نذیراں کو روس سے تشبیہ دیتا ہوں کیونکہ مادہ پرستی کی یہ جنگ فرد واحد سے ہی ملکوں کی پالیسیوں میں جگہ بناتی ہے۔ اقوام متحدہ کا برائے نام ادارہ تمام عالمی مسئلوں کو حل کرنے میں ناکام ہے۔ اسکا ذیلی ادارہ انٹر گورنمنٹل پینل برائے کلائمیٹ چینج جو 1988 میں وجود میں آیا۔ اب تک 5 رپورٹس جاری کرچکا ہے۔ 2014کی رپورٹ کے مطابق زمین کے گلوبل درجہ حرارت میں 1.5کی کمی کرنیکی سخت ضرورت ہے۔ اس ادارئے کی اگلی رپورٹ 2022میں جاری کی جائے گی۔ جسکی روشنی میں دنیا اپنے اگلے 10 سال کے منصوبے ترتیب دئے گی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ادارہ صرف رپورٹ جاری کرنیکا مجاز ہے۔ کسی ملک کو وارننگ جاری نہیں کرسکتا۔ پھر بھی 2007میں اسے امن کے نوبل انعام سے نواز دیا گیا۔ 2050تک ترقی پذیر ممالک میں جنگلات کی شرح ایک فیصد تک آنے کا خطرہ لاحق ہے۔ ہمارا پیارا پاکستان بھی پہلے 10ممالک میں شامل ہے۔ دنیا سالانہ 10بلین درختوں سے محروم ہو رہی ہے۔ یہی شرح برقرار رہی تو 2050 میں درختوں کی مجموعی تعداد 2ٹریلین تک گرنے کا احتمال ہے۔ اس لئے دنیا کے کرتا دھرتا کانفرنسوں پر کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ برطانیہ سالانہ50 لاکھ کنکریٹ کے گھروں کو گرا کر ماحول دوست گھر بنانے کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ یورپی ممالک برطانیہ کی پیروی کرنے میں پیش پیش ہیں۔ چین اپنی تمام کاربن خارج کرنیوالی توانائی کو ماحول دوست توانائی پر منتقل کرنے میں لگا ہے۔ لیکن پاکستان کو تیل و گیس کے منصوبے لگا کر خوشی کے شادیانے بجانے کی سہولت مہیا کررہا ہے۔ سب کی نظریں ایک دوسرئے کے اقدامات پر ہیں۔ لیکن وہ تمام عوامل جو گلوبل وارمنگ کی وجہ ہیں لیکن کمائی کا ذریعہ بھی ہیں انکو بند یا فوری ختم کرنیکا حوصلہ کسی میں نہ ہے نہ ہوگا۔ لہذا یہ مادہ پرستی کا ماحول جاری و ساری رہنے کا امکان ہے۔
۔۔۔!


No comments: