سمندر کے نظام
سمندر کے نظام
قارئین ! جب ہم ارتقائی سائنس دانوں سے پوچھتے ہیں کہ پانی جو زندگی کے لئے انتہائی ضروری ہے وہ صرف ہماری ہی زمین پر کیوں ہے ؟
تو جواب ملتا ہے کہ یہ ایک اتفاق ہے ۔
کیا واقعی یہ ایک اتفاق ہے ؟
ذرا اس پوسٹ میں جائزہ لیتے ہیں کہ یہ "ایک" اتفاق ہے یا اتفاقات کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ختم ہی نہیں ہو رہا ۔
صرف پانی کے معاملات کا تجزیہ کریں تو اتفاقات کی لائن لگ جاتی ہے ۔
کیسے ؟
آیئے سمجھتے ہیں ۔
اگر آپ سائنس سے سوال پوچھیں کہ زمین پر پانی کیوں ہے ؟
تو جواب ہو گا ۔
چونکہ زندہ رہنے کے لئے پانی درکار تھا لہٰذا پانی آگیا ۔
کہاں سے ؟
پتہ نہیں ۔
کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
کیا اس میں ایک ڈیزائنر کا اعتراف نہیں آتا کہ جسے پتہ تھا کہ جس مخلوق کو ڈیزائن کیا جا رہا ہے اس کا پانی کے بغیر گزارا نہیں ؟
پانی کیوں ضروری ہے ؟
پانی اگر نہ ہوتا تو زمین پر زندگی وجود میں نہیں آسکتی تھی ۔ آج بھی اگر پانی کسی وجہ سے ختم ہو جائے تو زندگی شائد کچھ ہی گھنٹوں میں دم توڑ دے ۔ اس میں انسان جانور پودے کیڑے یا جرثومے کی کوئی قید نہیں ۔ ہر وہ چیز جسے آپ زندہ کہیں وہ پانی کے بغیر مردہ ہو جائے گی ۔
مگر پانی کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے بس اپنے جسموں میں سے گزارتے ہیں ۔ جس طرح بیرونی جسم کو پانی سے دھونے کو ہم نہانا کہتے ہیں ۔ بالکل وہی کام اندرونی جسم کے لئے ہم پانی پینے کی صورت میں کرتے ہیں ۔
پانی کا ایک چھوٹا واٹر سائیکل ہے جسے سب جانتے ہیں ۔ سورج کا سمندر پر آگ برسانا ۔ پانی کا بخارات بن کر اڑنا ۔ بادل بنانا ۔ ہوا کا بادلوں کو چلانا اور پھر بارش کی شکل میں برس جانا ۔ یہ ایک چھوٹا سا واٹر سائیکل ہے ۔
مگر پانی کا ایک بہت بڑا واٹر سائکل بھی ہے ۔ اس واٹر سائیکل میں تمام زندہ اجسام آجاتے ہیں ۔
تمام اجسام اپنی اپنی ضرورت کے مطابق پانی جذب کرتے ہیں ۔ جب تک یہ اجسام زندہ رہتے ہیں ان کے جسموں میں پانی کی ایک مخصوص مقدار ہمیشہ موجود رہتی ہے ۔ پھر جب وہ جسم مردہ ہو جاتا ہے تو وہ پانی اس جسم سے الگ ہو کر دوبارہ زمین کا حصہ بن جاتا ہے ۔ یعنی ضائع کسی بھی صورت نہیں ہوتا ۔
اب اگلا سوال
سمندر کا پانی نمکین کیوں ہے ؟
جواب : نمک پہاڑوں سے بارش کے پانی کے ساتھ بہتا ہوا آتا رہا اور سمندر میں ملتا رہا حتیٰ کہ سمندر نمکین ہو گیا ۔
تو کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
یہ تو کیسے کا جواب ہے ۔ میرا سوال تو کیوں پر مبنی تھا ۔
اس سوال کو تھوڑا سا گھناؤنا کر دیتے ہیں ۔
ہم سائنس سے اس سوال سے پہلے ایک اور سوال پوچھ لیتے ہیں ۔
اگر سمندر میں نمک نہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟
سائنس ایک آہ بھر کر جواب دے گی کہ پھر اس زمین پر کسی حیات کا کوئی وجود نہ ہوتا ۔ نہ ہم ہوتے نہ تم ہوتے ۔ کوئی زندہ نہ ہوتا ۔
وجہ ؟
وجہ یہ کہ میٹھے پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ بہت زیادہ عرصے تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا ورنہ اس میں تعفن پھیل جائے گا جو پوری حیات کے لئے بذات خود ایک خطرہ بن جائے گا ۔ اس دنیا میں 36 کروڑ مربع کلو میٹر پر سمندر ہے ۔ یعنی زمین پر ایک حصہ خشکی ہے اور تین حصے پانی ۔ اور اگر یہ سارا پانی تعفن زدہ ہو جائے تو پوری زمین کو لپیٹ میں لے لے گا ۔
اس جواب کے بعد اب آپ پہلے والا سوال دوبارہ دہرائیں ۔
سمندر کا پانی نمکین کیوں ہے ؟
اور جواب ہو کہ نمک پہاڑوں سے بارش کے پانی کے ساتھ بہتا ہوا آتا رہا اور سمندر میں ملتا رہا حتیٰ کہ سمندر نمکین ہو گیا ۔
کیا اب یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
مجھے لگتا ہے کہ اب یہ جواب اس سے کروڑھا گنا زیادہ غیر تسلی بخش ہو چکا ہے جتنا پہلے تھا ۔
یعنی اگر تو معاملہ یہ ہے کہ سمندر کے نمکین ہونے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر ہماری بلا سے نمک جہاں سے مرضی آکر سمندر میں شامل ہو جائے ۔
مگر اگر ہمیں یہ پتہ چل جائے کہ سمندر میں ملا نمک ہماری زندگی اور موت سے جڑا ہے تو پھر اگلا سوال یقیناً ڈیزائنر کا اٹھے گا ۔
وہ کون ہے جو یہ جانتا تھا کہ سمندر لازمی طور پر نمکین ہونا چاہئے ؟
اگلا سوال ۔
سمندر میں لہریں کیوں پیدا ہوتی ہیں ؟
جواب یہ ہے کہ ہوا کے دباؤ اور چاند کی کشش کی وجہ سے سمندر میں لہریں پیدا ہوتی ہیں ۔
کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟
یہ بھی کیسے کا جواب ہے کیوں کا نہیں ۔
تو آیئے وہی پچھلا تجربہ یہاں بھی دہرا کر اس سوال کو بھی تھوڑا گھناؤنا کر دیں ۔
اگر سمندر میں لہریں پیدا نہ ہوتیں تو کیا ہوتا ؟
جواب وہی ہے ۔ نہ ہم ہوتے نہ تم ہوتے نہ یہاں کوئی حیات ہوتی ۔
وجہ ؟
وجہ یہ کہ سمندر میں جو نمک جا رہا ہے اس کا صرف سمندر میں جانا کافی نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا پانی میں حل ہونا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ جیسے ایک گلاس میں آپ دو چمچے نمک کے ڈال لیں ۔ مگر اس کو حل نہ کریں تو اس نمک کے اثرات صرف گلاس کی تہہ تک رہیں گے ۔ بالکل اسی طرح اگر پانی میں لہریں نہ ہوں تو نمک تہہ میں جمع ہوتا رہے گا مگر پانی میں حل نہیں ہو گا اور نتیجہ وہی تعفن ۔
اب ذرا بیٹھ کر سوچیئے کہ سمندر میں اچھال کا سبب محض ہوا اور کشش ہی ہے ؟
یا کوئی ہے جو ہر حال میں ہماری زندگی چاہتا ہے ؟
اگلا سوال ۔
بارش کیوں ہوتی ہے ؟
جواب یہ ہے کہ سورج اپنی تپش پانی پر برساتا ہے اور پانی بخارات کی شکل میں اڑ جاتا ہے بادل بنتے ہیں ۔ پھر ہوا ان بادلوں کو چلاتی ہے ۔ پھر وہ بادل خشکی پر جا کر برس جاتے ہیں اور وہ پانی ہم پیتے ہیں ۔
کیا یہ جواب تسلی بخش ہے ؟ اسے بھی تھوڑا گھناؤنا کر لیں ؟
اگر بارش نہ ہوتی اور ہم سمندر کا پانی بغیر اس فلٹر کے نظام کے براہ راست پیتے تو کیا ہوتا ؟
اس کا سائنسی جواب یہ ہے کہ ہم مر جاتے ۔
کیوں ؟
کیوں کہ نمک ملے پانی کو اول معدہ قبول ہی نہیں کرتا اور اگر قبول کر بھی لے تو وہ ڈی ہائیڈریشن کا سبب بن جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بیچ سمندر میں لوگ میٹھا پانی نہ ہونے کے سبب پیاس سے تو مر سکتے ہیں مگر سمندری پانی پی نہیں سکتے ۔
اب یہاں اتفاقات کا ایک طویل سلسلہ دیکھیئے ۔
زمین پر پانی کی موجودگی ؟
اتفاق ۔
پانی کا نمکین ہونا ؟
اتفاق ۔
پانی میں لہروں کا پیدا ہونا ؟
اتفاق ۔
پھر اس نمکین پانی کو نمک سے علیحدہ کر کے بادلوں کے راستے شفاف کر کے انسان پر برسا کر اسے پینے کا پانی فراہم کرنا ؟
اتفاق ۔
کیا آپ ان تمام اتفاقات سے اتفاق کرتے ہیں ؟
اگر آپ اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ ضرور کریں
اور تحریر پسند آئے تو ایک پیارا سا کمنٹ تو بنتا ہے
والسلام شائع کنندہ: رضوان احمد حقانی


No comments: