شادی سے پہلے منگیتر سے فون پہ بات کرنے کے نقصانات
نکاح سے قبل منگیتر سے فون پر رابطے کے نقصانات
ہمارے معاشرے میں اکثریت شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرتی ہے، جب انہیں روکا جاتا ہے سمجھایا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ کبھی کبھی کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ ہم حدود میں رہ کر بات کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ شادی سے پہلے انڈرسٹینگ ہوجاتی ہے اس لیے کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ اسکے بغیر دل نہیں لگتا شادی میں دیر ہے تو بات کرکے دل بہلا لیتے ہیں وغیرہ
یقین جانیں یہ تمام دلائل ذرہ برابر وذن نہیں رکھتے سیدھی بات ہے ہمارا اپنے نفس پر کنٹرول ہی نہیں ہے ہم خواہشات کے غلام بنے ہوۓ ہیں، جو دل کہتا ہے وہ ہم کرتے ہیں، ضمیر کی آواز ہمیں نہیں آتی، کہتے ہیں منگیتر کے بغیر دل نہیں لگتا ارے یہی تو آزمائش ہے کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی آگے کی زندگی بنانی ہے، یہی تو امتحان ہے کہ ہم اللہ کے حکم کو اوپر رکھتے ہیں یا اپنی دلی خواہشات کو پورا کرتے ہیں، جہاں 20 سے 25 سال انتظار کیا وہاں ایک دو سال انتظار کرنے میں کیا برائ ہے لیکن نہیں، ہم تو اپنے نفس کی مانیں گے،
پھر ساری عمر ایک دوسرے کو طعنے دیتے پھرو گے کہ شادی کے بعد بہت بدل گۓ ہو۔
ایک ساتھی نے کہا "انڈرسٹینڈنگ ہوجاتی ہے" جیسے کسی نرالی مخلوق سے نکاح ہونے جارہا ہے جو انڈرسٹینڈنگ کی انہیں ضرورت ہے، انڈرسٹینگ کے چکر میں گاڑی کے اپنے گیئر پھنس جاتے ہیں اور لگانے پر بریک بھی نہیں لگتا نتیجہ کسی برے حادثہ سے کم نہیں نکلتا، خدارا۔ میرے بھایئوں، میری بہنوں جاؤ ذرا جا کر دیکھو معاشرے میں منگیتر کے نام پر کس قدر بے حیائ عام ہوچکی ہے، ہوٹلیں ریسٹرونٹس، کافی شاپس بھرے پڑے ہیں، کون ہے؟ جواب ملتا ہے آپ کی ہونے والی بھابھی۔ اور تو اور تحفے تحائف کی لین دین اعلی سطح پر جاری ہے، بڑا مہنگا اینڈرائڈ موبائل گفٹ کیا جارہا ہے، کڑھائ والا سوٹ بھیجا جارہا ہے، یہاں تک بات محدود نہیں ہوتی بعض تو تمام حدیں پار کرجاتے ہیں کہ یہاں لکھنے سے گریذ کرتی ہوں۔
دراصل منگیتر سے بات کرنا تمام برایئوں کا زینہ ہے، پہلے بات ہوتی ہے کہیں گے صرف بات کرتے ہیں پھر دیکھنا دکھانا ہوگا، تصاویر بھیجی جایئں گی، پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے لیۓ تحفے خریدے جایئں گے، بات آگے بڑھے گی ملاقات کرنے کے مواقع ڈھونڈے جایئں گے۔ بات کرتے کرتے آہستہ آہستہ انسان دوسرے گناہوں کی طرف جانے لگتا ہے۔
اگر تم صرف موبائل پر ہی بات کرتے ہو نا تو یہ بھی تم خود اپنے منگیتر کو اپنے ہاتھ سے خراب کر رہے ہو، ساری شرم حیا ادب و آداب تم خود اپنے ہاتھ سے ختم کر رہے ہو، نکاح کی برکتیں رحمتیں سب اپنے ہاتھ سے ختم کر رہے ہو، جو لوگ نکاح سے پہلے موبائل فون پر باتیں کرتے ہیں نکاح کے بعد انکی زندگی پر 100 فیصد اسکے اثرات مرتب ہوتے ہیں، شادی کے کچھ ہفتوں بعد ہی تم خود محسوس کرو گے کہ بیوی میری عزت نہیں کرتی، میرا کہنا نہیں مانتی، جو بات پہلے تھی وہ اب نہیں رہی، وہ ادب، وہ اخلاق، وہ پیار، وہ محبت، وہ وعدے، وہ قسمیں سب ہوا میں گم ہوجایئں گے۔ لہذا میرے بھایئوں اس چیز سے مکمل دور رہنا ہے،
فحاشی کے اس دور میں بھی خواہشات کے خلاف لڑتے رہے اور اب انکی زندگی خوب سے خوب تر ہونے کو ہے، خدا گواہ ہے کہ بے شمار برکتیں اور رحمتیں انکے نکاح کا انتظار کررہی ہیں۔
تحریر: فاطمہ بلوچ @ZalmayX


No comments: