غلطی
غلطی ۔۔۔
تحریر ۔ ڈاکٹر راہی
اک غلطی نے بنا ڈالا تھا کافر
اک غلطی نے بنا ڈالا تھا مجرم
ہاں وہی غلطی جو سب کو زندہ درگور کرتی ہیں اور شعور کچل دیتی ہے
آپ کے وجود کو بھی اور رشتوں کوبھی ۔۔۔۔۔۔
خواہ آپ کتنے ہی بھلے مانس کیوں نہ ہوں ، خواہ آپ کے گنوں کا چرچا پورے خاندان میں ہو ۔۔۔
پچھلی عید پہ میرے اور میرے بھائی کے مابین رنجش نے ہمارے نِواس استھان میں طوفان برپا کر دیا تھا صرف میرے اندر ہی ۔۔۔
ہم جو کبھی بچھڑتے تو دور ناراض تلک نہیں تھے ہوتے ۔۔۔
اس دن ہو گئے!
خلش نے خوب فائدہ اٹھایا
ہماری پورے ایک ماہ تک ان بن چلتی رہی
نہ کھانے کا سکون تھا نہ جینے کا سکھ
زندگی کھوکھلی اور اچاٹ سی ہوکر رہ گئی تھی
اماں نے ابا سے شکایت کی
ابا نے بات غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہو اس بات کو اس قدر گھاس نہ ڈالی ۔۔
انہیں ہماری الفت کا کامل یقین تھا
اماں بھی روٹھ گئیں
خصوصاً مجھ سے
میری خطا کے کہسار نے مجھے روند ڈالا
مجھے انا پرست کہا گیا
جو کبھی میں تھا ہی نہیں،
مگر نفس کے بہکاوے نے مجھے
شیطان کا اسیر کر دیا تھا
نماذ بھی چھوڑ دی تھی۔
پھر کیا ہوا ؟
وہی جو اٹل تھا
دل اور دن دونوں اس اچھے تھے ۔۔
جب میں چھت والے کمرے پر اسباق رٹ رہا تھا
بکرا اپنی آواز سے مجھے مسلسل خلل پذیر کرتے ہوئے پڑھنے میری التفات کو منعطف کر رہا تھا
چڑچڑاہٹ ابھر ابھر کر غصہ کا روپ دھار رہی تھی
تب ہی میرے منہ سے کچھ ایسے الفاظ ادا ہوئے جن کی شاید میں میں معتدل حالت میں کلپنا بھی نہیں کر سکتا تھا
" علی یار اسے باندھ دو ، پڑھنے ہی نہیں دے رہا ۔"۔
بس غصہ آشتی کی بنیاد بنتے ہوۓ ایک رحمت بن کر نازل ہوا تھا گھمنڈ بھی چکنا چور ہو گیا اور شیطان کی قید سے بھی رہائی مل گئی
دونوں مل کر اشک بار رہے تھے
اور اگلے ہی پل ہم ہنسنے لگے۔۔
اماں نے اس دن خوب پارٹی کروای
اسی لیے ہم دونوں آج سوچ رہے تھے
ایک بار پھر سے آمادہ پرخاش ہو کر اماں سے پارٹی لیتے ہیں
اماں بھی ہنس رہی ہیں ، بھائی بھی اور میں بھی !
بکرے کے جانے میں دو دن تھے
اور جاتے جاتے اپنی گردن پر چھری پھرتے پھرتے میری مغروریت کو بھی ساتھ بہا لے گیا !
جو کام ہم نہیں کر پاتے وہ جانور کر جاتے ہیں !


No comments: