دو عورتوں کا قتل اور ہمارا منافق سماج
دو عورتیں دو قتل اور ہمارا منافقانہ سماج
تحریر ۔ ڈاکٹر زونیرا ۔ @DoctorZunera
نور مقدم قتل میں ایز آلویز وکٹم بلیمنگ کی جا رہی ہے کہ لڑکی لڑکے سے ملنے کیوں گئی
ان کے تعلقات کی نوعیت کچھ بھی ہو اس بحث کو سماجی و مذہبی نکتہ نظر سے دو منٹ کے لیے سائیڈ پہ کر کے دیکھئیے اور بتائیے
کہ جس طریقے سے اس لڑکی کا قتل کیا گیا کیا وہ جسٹیفائی ہوتا ہے ؟
مرنے کے بعد جو وحشیانہ پن اس کے ساتھ کیا گیا کیا وہ جسٹیفائی ہے ؟
معاشرہ اس بربریت کو تو بربریت کہنے کو تیار نہیں مگر یہ ضرور کہہ رہا ہے کہ غلطی عورت کی تھی
غلطی بھلے عورت کی تھی کیا اس غلطی کی سزا دینے کا اختیار ملزم کو تھا ؟
اگر غلطی عورت کی تھی تو اسی مرد نے بھی وہی غلطی کی تھی اس کا سر کیوں اس کے تن پہ ہے اب تک پھر ؟
قراۃ العین قتل کیس میں تو سماج اور مذہب دونوں نے مرد و عورت کو ساتھ رہنے کا سرٹیفکیٹ دے رکھا تھا
چار عدد بچے بھی اسی جہنم کے رہائشی تھے جہاں ایک عورت سماج کے طے کیے ہوئے اصولوں
سے روگردانی نہ کر سکی اور مر کے ہی اس گھر سے نکلی
جہاں اس کی ڈولی گئی تھی
اس مرد کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ جب چاہے روئی جیسے دھنک کے رکھ دے اس عورت کو جو بوقت ضرورت اس کے جسم کی بھوک بھی مٹاتی تھی اور اس بھوک
کے کارن اپنے پیٹ میں اس کے ڈالے بیج کی حفاظت بھی کرتی تھی
آپ مان لیجئیے سرکار ہمارا معاشرہ ذہنی پستی کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے
عورت پہ ملکیت کا تصور اس قدر پختہ ہو چکا ہے کہ اس کے ایک انکار پہ آپ اس کا چہرہ بگاڑ دیتے ہیں
اس کے اعضاء کاٹ دیتے ہیں
زیادہ ہی برداشت نہ ہو تو جان سے ہی مار دیتے ہیں اس پہ بھی صبر نہ آئے تو سر کاٹ کے فٹ بال کھیلتے ہیں
تو پھر یہ مان لیجئیے کہ عورت کا انکار آپ کی انا سے بہت زیادہ طاقت ور ہے
اس ایک انکار پہ آپ کی مردانگی کا نام نہاد بت تہس نہس ہو جاتا ہے
عورت پہ ہاتھ اٹھانے والے کو تو میں مرد ہی نہیں سمجھتی
خدارا والدین سے گزارش ہے کہ اپنی بیٹیوں کو کمزور مت بنائیں ان کو مضبوط بنائیں ان کو ٹاکسک ریلیشن شپس سے نکلنے میں مدد دیں
ماؤں سے میری گزارش ہے کہ اپنے بیٹوں کو مرد بنانے پہ زور دینے کی بجائے انسان بنانے پہ توجہ دیں
بیٹوں کو سپیرئیر مت بنائیں
انہیں سکھائیں کہ عورت کی عزت کرنی ہے اس کی شلوار یا اس کا سر نہیں اتارنا۔۔۔۔


No comments: