Header Ads

Breaking News
recent

زندہ قومیں

  


صرف جینا ہی زندگی نہیں کبھی کبھی مرنے والوں کو بھی زندہ کہا جاتا ہے۔

کبھی شعور کو زندگی کا نام دیا جاتا ہے تو کہیں بےشعوری کو مردہ ہونے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

کہیں پڑھے لکھے کو تو کہیں ان پڑھ کو بھی مردہ اور بے حس لوگوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

ہے زندگی جینے کا نام لیکن 

فلسفہ ازادی کا تو پردہ موت ہے۔

قومیں زندہ ہوتی ہیں قربانی سے جذبہ آزادی سے اپنی بہترین تہذیب سے اپنی بہترین روایات سے،اپنے بہترین نظام سے،شعور کے پیدا کرنے سے ،ایک دوسرے کے احساس سے،آئیندہ نسلوں کی بقاء کی سوچ سے۔

زندہ وہ قومیں ہوتی ہیں جن کے معاشرے میں مرد و عورت ، بچوں اور جانوروں کو تحفظ حاصل ہو۔

جہاں انسان اور انسانیت ہر جگہ نظر آتی ہو جہاں کے بچے گھروں میں قید نہ ہوں جہاں کی عورت مجبوری میں گھر سے نکلے تو اغوا اور جنسی ہراسانی کا ڈر نہ ہو۔ جہاں جاندار اور بے جان انسان ہو یا جانور ہر کا خیال درست طریقے سے رکھا جاتا ہو۔


جہان گھر کے باہر بھی ایسے ہی صفائی کا خیال رکھا جائے جیسا گھر میں ہے۔ جہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے کے بجائے ہر شخص اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر ٹھکانے لگائے۔

جہاں درخت لگائے جائیں درختوں کو تحفظ دیا جائے۔

زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو بجلی اس لیے نہیں بچاتیں کہ بل زیادہ ہو گا بلکہ اس لیے بچاتی ہیں کہ یہ ملک اور قوم کی ضرورت ہے۔

جہاں دودھ جیسی نعمتوں میں ملاوٹ نہیں کی جاتی جہاں پانی بجلی چوری نہیں ہوتیں۔

زندہ قومیں رشوت کے نظام پہ نہیں چلتی وہ اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں وہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتی ہیں۔

وہاں درندگی نہیں ہوتی انسانیت ہوتی ہے۔

وہاں ملاوٹ نہیں چیزیں خالص ہوتی ہیں ہوا منافقت نہیں بھائی چارہ رواداری اور انصاف ہوتا ہے۔

  آئیے ان سب کو دیکھ کر ہم فیصلہ کریں ہم کس قوم سے ہیں۔

زندہ یا مردہ؟

تحریر بشارت حسین 


No comments:

Powered by Blogger.