Header Ads

Breaking News
recent

مشرق وسطیٰ کا نیا کنٹرولر کون ہوگا

 


‏مشرق وسطی کا نیا کنٹرولر کون ہوگا؟

2019 میں ایسٹرن میڈی ٹیرن گیس فورم مصر کے کیرو اجلاس میں وجود میں آیا۔ جس میں اسرائیل، اردن،یونان، اٹلی، مصر، سائپرس شامل تھے۔ جبکہ 2020 میں فرانس بھی اسکا حصہ بن گیا۔ اس فورم کا مقصد بحیرہ روم میں چھپے گیس کے ذخائر تلاش کرنا ہے۔ ترکی نے بھی اس کا حصہ بننا تھا۔ لیکن اپنی الگ شناخت قائم کرنے اورفلسطین تنازعہ کے تناظر میں اسرائیل سےتعلقات میں گرمی نے رکاوٹ ڈالی۔ جبکہ یونان کےساتھ دہائیوں سے چل رہے سائپرس کے مسئلے نے بھی قدم روکے رکھے۔ لیکن مصر اوراردن جو کبھی اسرائیل کےحریف تھے۔معاشی اہداف کےحصول کے لئےسب بھلا بیٹھے۔ جبکہ فلسطینی انتظامیہ کا اس فورم کا حصہ بن جانا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مسائل اپنی جگہ لیکن جہاں مفادات ایک جیسے ہونگے وہاں گول میز پہ بیٹھنے میں حرج کیسا؟

اس فورم کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پس پردہ حمائت کررہے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ممالک عرب خطے میں اپنی اجاہ قائم رکھنے اور ایران کے بڑھتے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ بھی ہاتھ ملا چکے ہیں جبکہ دنیا بھر میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنے میں بھی پیش پیش ہیں۔ چونکہ مشرق وسطی کی ڈوریں امریکہ کے ہاتھ میں رہتی ہیں اس لئے اس فورم کی حمائت کرنا انکے لئے باعث فخر ہے۔ اس فورم نے بحیرہ روم میں کھدائی شروع کی۔ جبکہ ترکی پہلے سے اس عمل میں مصروف تھا۔ چناچہ سائپرس اور ترکی آمنے سامنے اور حمائتی پس پردہ آگئے۔ ترکی نے متعدد گیس کے ذخیرئے دریافت کرنیکا دعوی جاری رکھا جبکہ فرانس مسلسل ترکی کو دھمکاتا رہا۔ روس جو یورپ کو گیس کی سب زیادہ سپلائی کرنیوالا ملک ہے۔ ترکی کی حمائت کرتا نظر آیا کیونکہ مجوزہ فورم کی کامیابی کی صورت میں اسکی سپلائی کی مقدار میں کمی آجاتی۔ وجہ اٹلی اس فورم کا بڑا فعال رکن ہے۔ ماضی میں دنیا کی عظیم ایمپائر رہ چکاہے۔ یورپ یونین میں اپنا اثررورسوخ بڑھانا اورجرمنی کا کم کرناچاہتاہے۔ اب مفادات کے ٹکراو اورحصول کی اس کشمکش میں مشرق وسطی کے بنیادی مسائل کم ہونیکی بجائے مزید بڑھیں گے نتیجتا طاقت کا توازن ہر پل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا نظر آتا ہے۔ امریکہ اپنی اجاہ داری قائم رکھنے کے لئے عرب خطے میں سعودیہ کو متحرک جبکہ مشرق وسطی میں اسرائیل کی حمائت جاری رکھے گا۔ روس یقیننا یہاں اپنی معاشی طاقت کو لاحق خطرات کو کاونٹر کرنے کےلئے ترکی کو ہرممکن تعاون فراہم کرئےگا۔ ترکی چونکہ 2023 میں 1923 والی طاقت دوبارہ حاصل کرنے کے دعوے کررہا ہے اس لئے وہ عرب میں ایران کی مدد کرئے گا جبکہ مشرق وسطی میں روس کے تعاون کا مزہ لے گا۔ 

اس سب سے ہٹ کر دور پرئے بیٹھا سب کا دادا ابوجی برطانوی سامراجی سوچ اپنی پالیسی اکیلا سپرپاور مگر ظاہری طور پر سب کے ساتھ کا کھیل جاری رکھے گا۔۔۔۔!!!!


اگر آپ کو اس تجزئے کا مزہ نہیں آیا تو دفعہ کریں چائے کا ایک کپ نوش فرمائیں اور کہیں سانوں کی۔۔۔۔!!!!!!


سبحان اختر


No comments:

Powered by Blogger.