Header Ads

Breaking News
recent

ہم مسلمان کیوں ہیں

 




جن کو کراچی اور پنجاب میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا انکو اندازہ ہوگا کہ کراچی کا اپریل اور مئی اور پنجاب کا جون جولائی ایک جیسے ہیں۔وسط مئی کا ایک حبس اور گھٹن والا دن تھا۔ایک دوست کی بہن کی شادی تھی۔ساتھ شاپنگ کرنے کی حامی بھرلی۔چونکہ خود کی کوئی بیاہنے والی بہن تھی نہیں اس لئے ایڈونچر کا بھوت آسوار ہوا۔دنیا کے چھٹے اور پاکستان کے سب بڑے شہر کی عمدہ اور آرام دہ ٹرانسپورٹ میں سے کسی گاڑی کا کھڑے انتظار کررہے تھے۔جو بس کسی قریبی شاپنگ ایریا میں لے جائے۔رومال ساتھ نہ رکھنے کی بری عادت کیوجہ سے چہرے اور گردن کے پسینے کو ہاتھوں سے رفع دفع کرنے کا سلسہ جاری تھا۔کہ ایک چمچماتی گاڑی سامنے آکر رکی۔ادب اور شائستگی سے بھرپور ایک مردانہ آواز نے استفسارکیاکہ کہاں جائیں گے؟ہم نے اپنی رام لیلا سنائی۔تو جواب ملا کہ اسی راستے سے گزرنا ہے لہذا تشریف رکھئے۔شہر کے حالات کے تناظر میں یہ منظر کچھ مشکوک محسوس ہونے لگاتو موصوف نے ایک بھلے محکمے میں اچھی پوسٹ پہ مامور ہونے کا کارڈ دکھا کر مسکرانے پر اکتفا کیا۔مجبورا تشریف رکھنی پڑی۔کچھ سفر گزراتو وقت حال ہمارے ڈرائیور نے کچھ تمہید کے بعد ایک سوال پوچھنے کی استدعاکی کہ اگر جواب آتا ہے تو ضرور دیجئے گا اور اگر نہیں آتا تو غور ضرور کیجئے گا۔ضرور ضرور پر پوچھا گیا کہ آپ مسلمان کیوں ہیں؟اس برجستہ اور عجیب سے سوال پہ میرا دوست حیران سا ہوگیا۔چونکہ میرا دوست باریش تھا اس لئے اس سوال کو اسکی فیلڈ جان کر میں انجان بنا رہا۔دوست کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر وہی جواب دیا جو کبھی دوسری جماعت کی اسلامیات کی کتاب میں پڑھا تھاکہ ہم اللہ تعالی کا جتنا بھی شکرادا کریں وہ کم ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا۔بھلے آدمی نے جوابا کہا کہ اگر آپ کسی غیرمسلم کے گھر پیدا ہوتے تو پھر آپ تو غیر مسلم ہی رہتے؟اور سوالیہ نظروں سے سامنے والے شیشے میں میری طرف دیکھا۔میں جی ہا ں جی ہاں پر ہی اکتفا کرگیا۔کیونکہ اس منطق کا جواب بھلا میں کہاں دے سکتاتھا۔سفر تمام ہوااور ہم اپنے متعلقہ کام میں مصروف ہوگئے۔مگر وہ سوال مجھے آہستہ آہستہ تنگ کرنے لگا۔کہ واقعی اگر میں کسی غیر مسلم کے گھر پیدا ہوا ہوتا تو میں بھی غیر مسلم ہی رہتا۔جستجوکی انسانی فطرت بیدار ہوئی۔جواب تلاش کرنے کا سلسہ شروع ہوا۔گوگل بھائی جان اور باجی یوٹیوب سے رجوع کیا۔گوگل کو بھائی اور یوٹیوب کو باجی کہنے کی وجہ سگے بہن بھائیوں سے زیادہ اوسط انکے ساتھ وقت گزارنا ہے۔بڑئے بڑئے جیدعلماو مقررین کو سنا۔نتیجہ کسی نہ کسی فرقے کی حمائیت پہ جانکلتااور اس فرقے کی تقلید شروع کردیتا۔مگر سوال کا جواب ہنوز میسر نہ ہوا۔تاریخ کی کتابوں سے دل لگایا۔مگر تشفی نہ ہوئی۔ایسا نہیں کہ سوال کا جواب نہیں ملتاتھا یا اس بارئے مواد موجود نہیں تھا۔سب کچھ تھا مگر تذبذب یہ تھا کہ اگر سب ٹھیک ہیں تو پھر یہ فرقہ واریت کی جنگ کیوں؟ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں کا راگ کیوں نہیں الاپا جاتا؟یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ بس یہ عقیدہ ٹھیک ہے باقی سارئے غلط؟ تلاش کو بین المذاہب تک بڑھا دیاگیا۔تو ہندو مذہب جو آریائی تہذیب کو دنیا کی قدیم ترین تہذیب ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے۔شرک ہی شرک نظرآیا۔یہودیت اور نصرانیت کی عیسائیت نے بھی نفی کردی مگر خود بھی شرک کے سانچے میں ہے۔اب بچا اسلام جس سے ثابت ہوا کہ اسلامیات کی کتاب میں لکھی وہ سطر سچ ثابت ہوئی۔کیوں کہ اسلام توحیدمیں شرک کا قائل نہیں۔تو جوتوحیدکا بناشرک قائل ہوگیا۔اس کے لئے پھر توحید پرست بھی معزز ٹھہرئے۔ مگر اب بھی آدھا جواب تلاش کرنا باقی تھا کہ میں مسلمان کیوں ہوں؟اسکی منطق یہ سمجھ آئی کہ کسی نہ کسی موڑپرمیرئے آباواجداد غیرمسلم تھے۔مگر پھر انہوں نے اسلام کو پرکھا جانااور صراط مستقیم پر پاکر اختیارکرلیا۔اور انکی یہ نیکی ہمارئے تک آپہنچی۔ذہن نے پھر پلٹا کھایااور ایک اور سوال کود پڑا کہ جو سنی کے گھر پیدا ہوتاہے وہ سنی ہی رہتاہے اور جو شیعہ کے ہاں ہوتاہے وہ شیعہ ہی کیوں رہتاہے؟لیکن جب ہم دونوں فرقوں کی بنیادی اساس کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک ہی جیسی تعلیمات ملتی ہیں۔ جیسے توحید،رسالت،روزہ،نماز،حج،زکواۃ فرق صرف انجام دہی میں ہے۔لیکن اگر ہم اسلام کی بنیادی اساس پہ غور کریں جیسے عدل ومساوات،رواداری،باہمی بھائی چارہ،امن کا پرچارتو پھر یہ فرقہ واریت کی جنگ اسلام کی نفی کرتی نظر آتی ہے۔یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے۔اس لئے جوبھی عرض کیا ہے۔وہ محض مجھ سے شروع ہورہا ہے اور مجھ پہ ہی ختم۔ مگر یہ سلسہ صدیوں سے حل طلب ضرورہے۔ہرکوئی صراط مستقیم پہ ہونے کا دعوی کرتا ہے۔مگر ہزاروں لوگ فرقہ واریت کی جنگ کی نظر ہوگئے۔جبکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل اسلام کی بنیادی اساس میں سے ایک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر مسلم توحید پرست ہے اس لئے وہ وہابیت کے زمرئے میں آتا ہے۔شریعت محمدی پر اٹل قائم ہے۔اس لئے سنی بھی ہے اور شعیہ بھی۔بس اسکو اپنے اندر چھپے وہابی، سنی اور شیعہ کے مادئے کو اسلام کی بنیادی اساس کے سائے تلے رکھنے کی ضرورت ہے۔سب مسائل حل ہوجائیں گے۔میں اس بھلے آدمی کے لئے سالوں بعد بھی دعاگو ہوں کہ اس کی چند منٹ کی رفاقت نے مجھے سب کچھ نہیں مگر بہت کچھ سمجھنے کی کوشش کرنیکی راہ پہ لگا دیا۔آپ بھی یہ سوال اپنے آپ سے کیجئے کہ آپ مسلمان کیوں ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ بہت سارئے سوالوں کے جواب اور بہت سارئے نئے سوال سامنے آئیں گے۔ میرئے پچھلے کالم کے حقائق کو جنہوں نے پرکھااور سچ تسلیم کرکے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ان سب کا تہہ دل سے مشکورہوں۔کیونکہ اصلاح کی گنجائش کبھی ختم نہیں ہوتی

No comments:

Powered by Blogger.