افغانستان کی تازہ صورتحال
افغانستان
افغان طالبان کی پیش قدمی جاری مختلف جگہوں پہ افغان اہلکار سرنڈر کر کہ اپنا اسلحہ طالبان کو سونپ رہے ہیں گزشتہ روز طالبان نے قندوز شہر پہ حملہ کیا جہاں جنگ گلیوں تک آ پہنچی ان کے علاوہ صوبہ لغمان، پکتیا تیورہ غور کے مزید علاقے طالبان کے کنٹرول میں آگئے
بادغیس
افغانستان کےنائب صدر امراللہ صالح کی بادغیس سےرکن پارلیمان نائب زادہ کو غدار کہتےہوئےقتل کی دھمکی
امراللہ نے ٹیلی فون کال میں الزام لگایا کہ ان کےپاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ افغان فورسز کو طالبان کےسامنے سرنڈر کرنے کےلیے قائل کر رہےہیں۔ صالح نے تلافی کےلیے ایک گھنٹے کی مہلت دی
امریکی نمائندہ خصوصی زلمی خلیل زاد کا کہنا ہے افغان مسئلے کا واحد حل سیاسی تصفیہ ہے
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بیٹھ کر فیصلہ نہ کیا گیا تو افغانستان میں خانہ جنگی ہوگی خطہ متاثر ہوگا
افغانستان کا فیصلہ بندوق نہیں کرسکتی باہمی تصفیے سے مسائل حل کریں بھارت کو افغانستان میں اپنی انویسمنٹ ڈوبتی نظر آرہی ہے بھارت کہہ رہا ہے افغانستان میں مسائل کی وجہ پاکستان ہے لیکن دنیا کو معلوم ہوچکا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے امریکہ کو زمہ داری سے اختیارات منتقل کر کہ نکلنا چاہئے تھا انخلاء میں انہوں نے جلدی کی
دوسرے جانب افغان کے ساتھ افغان صدر کے بھی پست ہوگئے ہیں انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے طالبان وعدہ کریں اگر وہ افغانستان سے محبت کرتے ہیں تو ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے طور پہ تسلیم نہیں کریں گے اس بیان سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ صدر اشرف غنی ذھنی طور پہ ہار مان چکے ہیں
اور وہ اس بیان میں تسلیم کررہے ہیں کہ آنے والا دور طالبان کا ہے
ان سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب وہ مان رہے ہیں کہ اگلا دور طالبان کا ہے تو پھر یہ جنگ کیوں؟؟
عام عوام کا خون کیوں بہایا جارہا؟؟؟؟؟؟
؟؟؟؟؟؟


No comments: