سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
حضرت ابو بکر صدیق ؓ
ابو بکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ تیمی قریشی (پیدائش: 573ء— وفات: 22 اگست 634ء) پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، ہجرت مدینہ کے وقت آپ رفیق سفر تھے۔
رب تبارک وتعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام کو مبعوث فر مایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آخری نبی محمد رسول ا للہ صادق ا لو عدالا مین نے بنی نوع انسا نوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدا نیت کا پیغام دیا اور رشدو ہدایت کی تعلیم دی اور بتا یاکہ: اِھْدِ نَا ا لصِّرَاطَ ا لْمُسْتَقِیْمَ ہی سیدھا راستہ ہے، اسی پر چل کر انسان اللہ کی بار گاہ کا پیا را بندہ ہونے کاشرف حاصل کر سکتا ہے۔
جب نبی آخر الز ماں نے نبوت کا اعلان فر مایاتو لو گوں کو اسلام کی دعوت دی کہ اے لو گو! اللہ ایک ہے، اسی کی عبادت کرو اور میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ محمد رسو ل اللہ صادق الو عدالامین کا اعلان سنتے ہی سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم کو گلے لگا لیا اور پیشانی چومتے ہوئے کہا: لَااِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمْدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ’’میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
نبی اکرم پر ایمان لانیوالے سیدنا ابو بکر صدیقؓ سب سے پہلے انسان ہیں۔ظا ہری اعلان نبوت سے پہلے ہی رسول اللہ صادق الو عدالا مین کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ کی سچائی پر اعتبار کر نے پر اور ایمان لانے پر حضرتِ ابوبکرؓ کو ’’صدیق ‘‘ کا لقب ملا۔
ابو بکر صدیق عام الفیل کے دو برس اور چھ ماہ بعد سنہ 573ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ دور جاہلیت میں ان کا شمار قریش کے متمول افراد میں ہوتا تھا۔ جب پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے اسلام قبول کر لیا اور یوں وہ آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے۔ قبول اسلام کے بعد تیرہ برس مکہ میں گزارے جو سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کا دور تھا۔ بعد ازاں پیغمبر اسلام کی رفاقت میں مکہ سے یثرب ہجرت کی، نیز غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں پیغمبر اسلام کے ہم رکاب رہے۔ جب پیغمبر محمد مرض الوفات میں گرفتار ہوئے تو ابو بکر صدیق کو حکم دیا کہ وہ مسجد نبوی میں امامت کریں۔ پیر 12 ربیع الاول سنہ 11ھ کو پیغمبر نے وفات پائی اور اسی دن ابو بکر صدیق کے ہاتھوں پر مسلمانوں نے بیعت خلافت کی۔ منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد ابو بکر صدیق نے اسلامی قلمرو میں والیوں، عاملوں اور قاضیوں کو مقرر کیا، جا بجا لشکر روانہ کیے، اسلام اور اس کے بعض فرائض سے انکار کرنے والے عرب قبائل سے جنگ کی یہاں تک کہ تمام جزیرہ عرب اسلامی حکومت کا مطیع ہو گیا۔ فتنہ ارتداد فرو ہو جانے کے بعد ابو بکر صدیق نے عراق اور شام کو فتح کرنے کے لیے لشکر روانہ کیا۔ ان کے عہد خلافت میں عراق کا بیشتر حصہ اور شام کا بڑا علاقہ فتح ہو چکا تھا۔ پیر 22 جمادی الاخری سنہ 13ھ کو تریسٹھ برس کی عمر میں ابو بکر صدیق کی وفات ہوئی اور عمر بن خطاب ان کے جانشین ہوئے۔
حضرت ابو بکرؓ کی فضیلت میں بے شماراحا دیث ہیں ۔یہ حدیث مطا لعہ فر مائیں:
حضرت عبدا لعزیز بن عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کے زمانہ میں جب صحا بہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہاجاتا تو سب میں افضل اور بہتر ابو بکر رضی اللہ عنہ کو قرار دیتے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ،پھر عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو(صحیح بخاری)۔
جب قر آن کریم واحا دیث طیبہ میں حضرتِ ابوبکر صدیقؓ کی شان و فضیلت کاذکر ہے تو کوئی انسان آپؓ کی تعریف کیا کر سکتا ہے؟ چند خو بیاں مطالعہ فر مائیں:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کر نے کے بعد تما م اسلامی جہادوں میں شامل رہے۔
حق و با طل کی پہلی جنگ ’’جنگ ِ بدر‘‘، اُحُد،خندق،تبوک،حدیبیہ ، بنی نضیر، بنی مصطلق،حنین، خیبر، فتح مکہ سمیت تمام ’’غزوات‘‘(غزوہ)( وہ جہاد جس میں رسولِ کریم شریک ہوئے) میں سر کار دو عالم کی ہمرا ہی میںشا مل رہنے کا شرف حاصل رہا۔
غزوہ تبوک میں آپؓ نے جو اطاعت رسول ؐ کیا، ایثار(قربانی) وسخا وت کا نمونہ اللہ کے راہ میں پیش کیا،جس کی مثال تاریخ عالم میں ملنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔اس غزوہ میں سر کار دوجہاں کی تر غیب( کسی کام کے کر نے پر آ مادہ کر نا) پر تمام صاحب استطاعت صحا بہ نے دل کھول کر لشکرِ اسلامی کی امداد کی مگر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سب پر اس طرح سبقت حاصل کی،کہ آپ اپنے گھر کا سارا مال لے آئے۔جب رسو ل اللہ نے پو چھا کہ: اے بو بکر! گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھو ڑا ہے؟ توآپؓ نے عرض کیا’’گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسول ہی کافی ہیں‘‘
پر وا نے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے خدا کا رسول بس
آپ ؐنے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو جنت کی بشارت دی تھی۔ ابو دائود اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’انسانوں میں سب سے زیادہ میرے ساتھ جس نے دوستی اور مال کے ساتھ تعاون کیا ہے وہ ابوبکر صدیق ہیں۔ اگر میں اللہ کے سوا کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر صدیق کو بناتا۔‘‘
مشکوٰۃ شریف میں درج ہے کہ آپ ﷺ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ ’’آسمان پر جتنے ستارے چمک رہے ہیں وہ سب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ایک نیکی کے برابر ہیں۔
حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنی قوم میں بہت محبوب، نرم دل ، صاحبِ اخلاق اور بہترین نسب والے تھے
تحریر فاطمہ بلوچ


No comments: