سیکورٹی فورسز رضاکارانہ طور پہ ہمارے ساتھ شامل ہورہے ہیں
افغانستان سیکورٹی فورسز ہمارے ساتھ اپنی مرضی سے شامل ہورہے ہیں سرنڈر کے سو میں سے دس فیصد واقعات جنگ کے بعد ہوتے ہیں جب کہ نوے فیصد افغان فورس رضاکارانہ طور پہ سرنڈر کر کہ ہمارے ساتھ شامل ہورہے ہیں پہلے ڈرون حملے اور فضائی کاروائی کے وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں مل رہے تھے لیکن قابض قوتوں کے انخلاء کے بعد افغان فوج ہمارے ساتھ شامل ہورہی ہے. سلیم صافی کو انٹرویو میں سہیل شاہین نے بتایا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ شمالی حصوں میں طالبان کے پہلے دور حکومت میں ہمارے مخالفین تھے اب وہاں اکثر لوگ ہمارے سپورٹر ہیں کئے اعلی عہدیدار اور گورنرز تک ہمارے سپورٹر ہیں اسی وجہ سے شمالی حصوں میں بھی افغان فورسز سرنڈر کررہے ہیں
مزاکرات میں سنجیدگی کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے ہمارا مؤقف ہے جب تک تمام پارٹیز کو شامل نہ کریں تب تک افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنا ناممکن ہے کمیونسٹ دور ہو یا طالبان کا دور حکومت ایک پارٹی افغانستان میں امن قائم نہ کرسکی اسلئے مزاکرات ہماری اولین ترجیح ہے البتہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے اگر سنجیدہ ہوتی تو پہلے ہمارے قیدی رہا کرتے
ہم چاہتے ہیں تمام افغان ملکر ایک اسلامی حکومت اسٹبلش کریں
ایک سوال کے جواب میں کہا اسلامی امارت کا قیام ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے اور مزاکرات کے میز پر ہم اسے پیش کریں گے تاہم جو بھی فیصلہ ہو ہم اسے قبول کریں گے ہمارا بنیادی مقصد اسلامی نظام کا نفاذ ہے اور اسی مقصد کیلئے پچھلے بیس سال سے ہم نے قربانیاں دی ہیں
انڈیا سے ہماری اب تک ملاقات نہیں ہوئی ہم انڈیا سے بھی کہنا چاہتے ہیں آپ کسی ایک فریق کا نہیں افغانی عوام کا ساتھ دیں کٹھ پتلی حکومت کا ساتھ دینے کے بجائے افغان عوام کے فیصلے کا انتظار کریں
اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ہمارا کلچر، علاقہ زبان کے تعلقات ہیں ہم ان سے مضبوط برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں تا ہم پاکستان کا یہ کہنا کہ ہم طالبان حکومت کو. تسلیم کریں گے یہ بات قابل قبول نہیں افغانستان میں کونسی حکومت آئیگی یہ افغان عوام طئے کریں گے


No comments: