قربانی کے برکات اور لبرل طبقہ
قربانی میں برکت اور لبرل طبقہ
آج کل ہمارے معاشرے میں جو طبقہ خود کو ذیادہ پڑھا لکھا یا مغربی دنیا کی نظروں میں آزاد خیال ، لبرل سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ سب سے پہلے اسلام مخالف بیانات دینا شروع کردیتا ہے تاکہ دنیا میں اسے پزیرائ ملے
ایسا طبقہ دراصل لبرل نہیں بلکہ ایک ذہنی غلام کہلاتا ہے
حقیقی لبرل کبھی کسی کے مذھب سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا کیونکہ ان کا مقصد ہوتا ہے کسی مذھب سے اگر آپ تعلق رکھنا نہیں چاہتے تو کم سے کم ایسا کوئ عمل بھی نا کریں جس سے کسی بھی مذھب کے لوگوں کی دل آزاری ہو یا ان کو تکلیف پہنچے
لیکن ہمارے یہاں جو اپنے آپ کو لبرل سمجھتے ہیں وہ سب سے پہلے دین اسلام کے خلاف اپنا بغض نکالتے ہیں ان لوگوں کو پردے سے بھی مسئلہ ہوتا ہے تو روزہ،نماز ،قربانی حتی کے جہاد نام سے تو ان کے اندر نفرت کوٹ کوٹ کے بھری ہوتی ہے
قربانی کے حوالے سے یہ طرح طرح کی دلیلیں دیتے ہیں کبھی کہتے ہیں ان پیسوں سے غریب کی مدد کردیں ،کبھی کہتے ہیں جانوروں کو ذبح ہی نہیں کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ
لیکن خود بڑے بنگلوں ،بڑی گاڑیوں،مہنگے برینڈ کے کپڑوں اور مہنگے موبائل فون استعمال کرتے ہیں تب ان کو غریب نظر کیوں نہیں آتے
قربانی کی برکت کی بدولت آپ اندازہ لگائیں جن حرام جانوروں کو ذبح نہیں کیا جاسکتا جیسے کتے،بلیاں یہ بچے بھی ٨/١٠ پیدا کرتی ہیں لیکن آپ گلیوں بازاروں ،دیہاتوں کہیں بھی چلیں جائیں ان کی تعداد آپ کو ہر جگہ کم ہی نظر آئے گی بنسبت حلال جانوروں کے حلال جانور گائے،بکری،بھینس وغیرہ جو بچے بھی سال میں ایک بار ١،٢ پیدا کرتی ہیں سارا سال ان کا گوشت بازاروں میں ملے گا آپ کو اس کے علاوہ عید قرباں پر کروڑوں جانور ذبح کئے جاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی تعداد کہیں کم ہوتی نظر نہیں آئے گی آپ کہیں بھی چلے جائیں یہ حلال جانور آپ کو ریوڑ کی صورت نظر آئیں گے کیونکہ ہر چیز میں قدرت کی حکمت شامل ہوتی ہے پیدا کرنے والی تو وہ ذات ہے ان حلال جانوروں میں اتنی برکت شامل کردی گئ کہ یہ تاقیامت اس دنیا سے ختم نہیں ہوسکتے
عید قرباں پر غریبوں کی مدد بھی ہوتی ہے وہ غریب لوگ جو سارا سال ان لبرلز کی طرح آئے روز ،نہاری،کوفتہ،کڑاہی ،کباب وغیرہ نہیں کھاسکتے لیکن عید قرباں کی برکت سے ان تین دنوں میں ان کو بھی گوشت کھانے کا موقعہ ملتا ہے اس کے ساتھ جانوروں کی کھالیں کئ فلاحی اداروں اور غرباء کی بہت سی ضروریات پورا کرتی ہیں اتنے جانور جس سے خریدے جاتے ہیں وہ بھی انہی پیسوں سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں ایک دم اتنا پیسہ مارکیٹ میں آنے سے ملکی معیشت کا فائدہ ہوتا ہے ،جانوروں کا چارہ بیچنے والوں اور کسائیوں کو پیسے ملتے ہیں یقین کریں یہ ایک جانور کی قربانی نہیں ہوتی اس کے ساتھ کئ لوگوں کی خوشیاں جڑی ہوتی ہیں اور دوسری بات پاکستان اس وقت دنیا کا سب سے بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے جو فطرہ زکوات سب سے ذیادہ دیتے ہیں
برائے مہربانی آپ بغض اسلام سے باہر نکلیں یہ اسلامی احکام کی حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ کو سمجھ آنی ہے کہ کس طرح ہر دینی عمل میں حکمت پوشیدہ ہے جس پر عمل کرنے میں ہی انسانیت کی بھلائ ہے


No comments: