لندن کا پاکستانی بمقابلہ اصلی پاکستانی
لندن کا پاکستانی بمقابلہ اصلی پاکستانی؟
رضوان احمد میرا دوست ہے. لندن میں 15 سال سے رہائش پذیر ہے. سنگل اسٹوری گھر میں رہتا ہے. بڑے بیٹے کو چھت پر 2 کمرے بنانیکی آرزو لئے پچھلے 3 ماہ سے انتظار میں ہے. کہ کب کبوتر کے نوزائیدہ بچے اڑنا سیکھیں گے اور کب وہ تعمیر شروع کرےگا؟
آپ سوچ رہےہونگےکہ تعمیرکاکبوترکےبچوں سے کیا تعلق؟
1981 کے ایک برطانوی قانون کے مطابق اگر پہلے سے تعمیر شدہ گھر کی چھت, بالکونی یا روشندان میں کسی پرندے نے اپنا گھونسلا بنا رکھا ہے تو آپ اس کو چھیڑ نہیں سکتے جب تک وہ خود نہ ختم کرے. ورنہ سخت سزا بھی ہوگی اور جرمانہ بھی.
رضوان احمد بھائی کی چھت پر کبوتروں نے انڈے دے رکھے تھے. پھر بچے پیدا ہوے اب یہ بچے اڑ نہیں سکتے. جب اڑنا سیکھیں گے اپنے نئے گھونسلے بنائیں گے تو ہی رضوان صاحب اپنے بچے کا گھونسلا تعمیر کرسکیں گے. بیچارے کہہ رہے تھے کہ 3 ماہ پہلے کے ریٹس میں اور ابھی کے ریٹس میں کافی فرق آگیا.
ہے. مزید کچھ ماہ بچت کرکے رقم پوری کرنا پڑے گی. میں نے عرض کی کہ اگر اس وقت پھر کوئی کبوتر اوپر ہوا تو؟
تو رضوان احمد نے تاریخی جواب دیا کہ یار پھر انتظار کریں گے اور کیا اس سے تو پاکستان اچھاہے.گھونسلا ختم کرتے انڈے توڑتے اورگھر کی تعمیر شروع کرتے.یہاں تو قانون ہی بڑےسخت ہیں.
آپ ہی بتائیں کہ گورے کا ایک پرندے کا گھونسلا گرانے کو قانوناً جرم قرار دینا کیسا عمل ہے؟
کیا یہ انسانیت کے زمرے میں نہیں آتا اگر آتا ہے تو پھر غیر اسلامی ملک میں ہم اس پر عمل کرتے ہیں اور اسلامی ملک میں سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے؟
نوجوان صحافی سبحان اختر کو ٹویٹر پر فالو کرنے کیلئے


No comments: