Header Ads

Breaking News
recent

اسلام اور امن کا درس

 



‏*اسلام امن کا درس* 


ایک ماحول جو پچھلے کئ عرصے سے ملک اور بیرونی ملک اور مذہبی حوالے بنا ہوا ہے اس ماحول کو لے کر آج کل ہر خاص و عام شخص کی زبان زد عام ہے کہ اسلام ایک پر امن دین ہے امن کا درس دیتا ہے محبت کا درس دیتا ہے پر امن رہنے کا درس دیتا ہے.

 بلکل یہ بات مکمل طور پر پرفیکٹ کلئیر اور واضح ہے کہ اسلام ایک پر امن دین ہے اور امن کا درس دیتا ہے یہ ایک صاف اور عام الفاظ میں واضح پیغام ہے لیکن حسب عادت اس بات کا بھی کچھ محبت کے ٹھیکدار لوگوں نے جس بے ایمانی اور بے دردی کے ساتھ ناجائز معنی لوگوں کو سمجھائے ہیں۔

 اس کی مثال بھی کسی اور دور میں نہیں ملتی سکتی.

افسوس ہوتا ہے کہ تصویر کا ایک رخ دیکھا کر جس طرح مسلمانوں کو امن کا پیغام دیا گیا اور ظلم و تکلیف سہنے اور چپ کر کےدیکھنے کو امن کا نام دیا گیا ہے۔

 اس کا انحصار بھی اسی دور کے بڑے بڑے نامور دین کے ٹھیکداروں کو جاتا یے۔

 اور ہم بھی ساری مسلم قوم ایک ہی وقت شریف اور بدمعاش دونوں ہے ہم وہ قوم ہے جو پر امن رہنے کے مقام پر دوسرے کی گردن کاٹ دیتے ہیں۔

 اور ہمت اور ساتھ دینے کے وقت امن کی عینک پہن لیتے ہیں اور محبت محبت امن امن کا راگ لئے پھرتے ہیں.

کیا اب بھی کچھ ایسا باقی ہے جو ہمارے ساتھ نہیں کیا گیا شام میں بمباری اور قتل عام کیا گیا۔

 عراق میں مسلمانوں کا ناجائز خون بہایا گیا مگر جپ اسلام بس امن کا کہتا ہے بیت المقدس شریف پر حملہ کیا گیا۔ مسلمانوں کی بیٹی کو قید کر کے ظلم اور تکلیف دی گئی۔ صرف اس لیے کہ وہ مسلمان تھی جواب میں ہم نے ملعونہ کو چھوڑ دیا اور متحدہ میں کھڑے ہوکر فخر سے بتایا کہ ہم نے اپنے نبی کی گستاخ کو صحیح سلامت آپ تک پہنچادیا ہے۔

 بہت خوب کیونکہ اسلام امن اور محبت کا درس دیتا ہے برما میں مسلمانوں کے جسم کاٹے گئے انکو مختلف ت کلیفیں دی گئی۔ افغانستان میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا۔ اور اب بھی ان پہ ظلم ہی ہو رہا ہے

پچھلے 2 سال سے کشمیر میں ناجائز خون میں بہایا جا رہا ہے وہی چار مذمتی لائنز اور بس کیونکہ اسلام امن کا کہتا ہے 


 اس قوم کو بزدلی کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے ۔

نوجوانوں کو جذبہ ایمانی سے متعارف ہی نہیں کروایا گیا اور جذبہ ایمانی سے دور کیا جا رہا ہے۔ خدا کے لیے اب بس کردیں اور کتنا اس قوم کو بزدل کرنا ہے اور کتنا اندر سے کھوکلا کرنا ہے

اب تو اسلام کا مکمل پہلو لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دیں۔ 


ساری زندگی لوگوں کو اسلام کا ایک ہی رخ دیکھایا گیا جس سے آپ سے محبت کرنے والے خوش ہوئیں

 سیرت کا ایک ہی پہلو قوم کے سامنے رکھا گیا کہ حضور نے طائف والوں کو معاف کر دیا تھااذیت کے جواب میں دعا دی لیکن پوری بات کبھی بھی نہیں سمجھائی گئی کہ یہ جتنے بھی معافی والے حسن سلوک والے واقعات تھے یہ تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کےمتعلق تھے جس میں آپ نے خود کو تکلیف پہنچانے والوں سے حسن سلوک کرتے ہوۓ معافی دی تھی۔ لیکن جب بات اسلام اور دین متین کی آئی تو اس کی عزت کے لیے حضور علیہ السلام نے کیا کردار ادا کیا یہ کیوں نہیں بتایا جاتا 


کیوں کبھی اپنی ذات اور مذہبی دفاع میں فرق نہیں بتایا اس امت کو آپ محبت صرف محبت سب سے محبت کی بات کرتے ہیں لیکن یہ حدیث کیوں کسی کو نہیں پتہ کہ جو جس قوم سے محبت رکھے گا اسی میں شمار ہوگا۔ محبت کے چکر میں اچھائی اور برائی میں فرق کو ختم کر دیا گیا ہے ہر جگہ محبت ہی ہے تو نیکی اور گناہ میں فرق کیا ہو گا۔ پھر؟ ایمان اور کفر میں فرق کیا ہے پھر ۔؟


جہاں اسلام امن کی بات کرتا ہے وہاں دفاع کا بھی حکم آیا ہے لیکن یہ پہلو کیوں نہیں رکھا گیا نوجوانوں کے سامنے جہاں اللہ تعالٰی محبت کا حکم دیتا ہے وہی اللہ یہ بھی فرماتا ہے 

لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸﴾


"مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالٰی کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو اور اللہ تعالٰی خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالٰی ہی کی طرف لوٹ جانا ہے "


کبھی یہ کیوں نہیں بتایا گیا 

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ


یہ محبت کے ٹھیکدار کبھی یہ بیان نہیں کریں گے کہ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے 

اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًاؕ-وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ(۲۵)

ترجمہ:

 کنزالعرفان

"اور الله نے کافروں کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ واپس لوٹادیا، انہیں کچھ بھی بھلائی نہ ملی اور الله مسلمانوں کیلئے لڑائی میں کافی ہوگیا اور الله قوت والا، عزت والا

 ہے"

ایک اور جگہ فرمایا..

وَلَنْ تَـرْضٰى عَنْكَ الْـيَهُوْدُ وَلَا النَّصَارٰى حَتّـٰى تَتَّبِــعَ مِلَّـتَـهُـمْ سورہ البقرہ آیت 120 

"اورتم سے یہود اور نصاریٰ ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے"


دین اسلام پرامن ضرور ہے لیکن مساوی بھی ہے ہمیں ظلم نہ کرنے کا حکم ہے لیکن ظلم سہنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ مگر محبت کے چکر میں ہم اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ ہمیں ان کی نت نئی ایجادات تو نظر آرہی ہے برما و فلاسطین میں کٹتے مسلمان نظر نہیں آرہے۔ ان پر ہونے والا ظلم نظر نہیں آ رہا۔ اسلام محبت کی جگہ محبت کا حکم دیتا ہے مگر جہاں شعائر اسلام اور مسلمانوں کی حرمی کی بات ہوں وہاں کفر و شعائر کفر سے نفرت ضروری ہے وہاں دفاع اور مقابلہ ضروری ہے 

 لوگوں کو اسلام کا صرف ایک پہلو دیکھا کر چونا نہ لگایا جائے

 اتنی ہی محبت اور امن نہ تقسیم کریں کہ یہ لوگ کفر و ایمان میں فرق ہی ختم کر دیں گناہ کو گناہ سمجھنا ہی چھوڑ دیں اور سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاۓ ضروری ہوگیا ہے آج کہ نوجوانوں کو پکڑ کر بتایا جاۓ

 "لا یستوی اصحب النار و اصحب الجنہ" 

نہیں ہے برابر کہاں جا رہیں ہے آپ لوگ ؟

صرف حضور اکرم علیہ السلام کی مکی زندگی لوگوں کے سامنے نہ رکھیں مدنی بھی بتائیں وہ اپنی ذات کا معاملہ تھا جب مکہ میں سب کومعاف کردیا لیکن جب بات دین کی آئی تو سیدنا علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ بدر کے روز ہم اللہ کے رسول کی پناہ لے رہے تھے۔ آپ دشمن کے بالکل قریب تھے۔ صحابہ کہتے ہیں کہ جب لڑائی کے شعلے بھڑک اٹھے تو اللہ کے رسول لوگوں میں سب سے زیادہ لڑائی کرنے والے تھے۔ اب مزید گنجائش نہیں ہے مزید بزدلی نہ پھیلائیں اپنوں کا درد محسوس کریں عملاً میدان میں آجائیں


تحریر: فہد ملک

1 comment:

Powered by Blogger.