عید الاضحیٰ
عید الاضحی
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھجرت کرکے مدینہ تشریف لاۓ تواہل مدینہ کے لیے دودن ایسے تھے جس میں وہ لھو لعب کیا کرتے تھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( بلاشبہ اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بہتر اوراچھے دن عطاکیے ہیں وہ عید الفطر اورعیدالاضحی کے دن ہیں ۔ ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے السلسلۃ الصحیحیۃ میں صحیح قرار دیا ہے ۔۔۔۔عیدالاضحی کے موقع پر اہل اسلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں. قرآن مجید میں قربانی کا مقصد واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے. سورہ الحج کی آیت نمبر37 پارہ نمبر17 میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:
”اللہ تک تمہاری قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع فرماں بنادیا ہے اس بات کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت بخشی ہے۔ اس کی بڑائی بیان کرو اور اے پیغمبر! نیک لوگوں کو خوشخبری سنادیجئے“
ان آیات میں صاف بتایا گیا کہ قربانی کا مقصد کیا ہو اور کس نیت سے کرنی چاہئے. اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا ہے بلکہ جتنے اخلاص اور اللہ سے محبت کے ساتھ قربانی کی جائے گی اتنا ہی اجر کا مستحق ہوگا۔۔۔ قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کردے۔ لہذا ہمیں من چاہی زندگی چھوڑ کر ربّ چاہی زندگی گزارنی چاہئے۔ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں گزاری ،جو حکم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ملا فوراً اس پر عمل کیا۔ جان ،مال وطن اور لخت جگر غرض سب کچھ اللہ کی رضا میں قربان کردیا، ہمیں بھی اپنے اندر یہی جذبہ پیدا کرنا چاہئے اللہ ہمیں ہدایت دے دکھاوے اور ریاکاری سے بچائے


No comments: