سیاست اور ہم
سیاست اور ہم
سیاست اور ہم عوام کا بہت گہرہ رشتہ ہے ، کیوں کہ پاکستان میں تو ماشاءاللہ سیاست گھر سے ہی شروع ہو جاتی اور یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہو گا کہ آجکل جس کو سیاست نہیں آتی وہ اِس دنیا میں چل نہیں سکتا ،
دراصل سیاست ہے کیا !!
عربی لوگ اکثر کہتے ہے تم بہت سیاسی ہے مطلب کے غور فکر کرتا ہے کام میں، اور ہماری سیاست جھوٹ سے شروع ہوتی ، جو جھوٹا سیاسی پیسے والا ہے چاہے وہ ٹی وی پے بیٹھ کے جھوٹ بولے یا عام عوام میں پیسہ سب کا منہ بند کر دیتا !!
قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پر مشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، ا مر بالمعروف و نہی عن المنکر ،مظلوموں سے اظہارِ ہمدردی وحمایت ،ظالم اور ظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاور اولیأ کرام کا اندازِ سیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔
جس میں ایک آیت واضح ہے
ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقرر کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدار حکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اور صاحب علم بھی ““ (سورہٴ بقرہ، آیت 247 )
اَب حالات حاضرہ پے غور کیا جائیں تو سیاست کا طریقہ ہی مختلف ہے آج کی سیاست شروع ہی جھوٹ ، نا انصافی، چوری ، مال غنیمت اکٹھا کرنا عوام پہاڑ میں جائیں، ہر بندے نے اَپنیاں سٹوریاں گھڑی ہوئی وہی وہ عوام کو بتاتا ،
اور عوام ہماری ماشاءاللہ اتنی عقلمنـد کے ہر بہکاوے میں آ جاتی ،
ہمارے ملک کو چپڑاسی سے لے کے حکمرانوں تک لوٹا جا رہا ، اور یہ اللہ کی قدرت ہے یہ ملک ابھی بھی چل رہا ، ہم لوگ بس نام کے مسلمان ہے
ہم لوگوں نے تو سیاست کو گالی بنا دیا آپ لوگ تو گھر کی باتوں میں اَب ایسی گھٹیا سیاست کرتے کہ اپنے خون کے گھر تباہ کر دیتے ،
پھر ہمارے ہی وہ حکمران ہے نا چار دن چور کتی اکٹھے سیاست کرتے عوام کا دھیان بٹاتے پھر وہی ایک دوسرے کے خلاف عناب شناب بولتے اور آپ لوگ پھر بھی کھکھلیاں مارتے ،
اصل میں ہم خود لوگ اکٹھا نہیں ہونا چاہتے ہم سب اپنی انا اور چودھراہٹ میں آ گئے وہ اِس کو ووٹ دے گا تو ہم اُس کو دے گے
اس وجہ سے غلط چناؤ کی وجہ سے ہمارا ملک نیچے سے نیچے جا رہا اور ہم دیکھ کہ افسوس کر رہیں بس اپنے گریبان میں نہیں دیکھ رہیں!!


No comments: