Header Ads

Breaking News
recent

ناکام شخص قسط اول

 


ناکام 

تحریر : نواب فیصل اعوان 

@nawabfebi

پہلی قسط 

مبارک ہو آپکے ہاں لڑکا ہوا ہے 

کمرے سے نکلتے ہوۓ نرس نے لڑکے کے باپ کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا ۔

باپ جو کے پیشے کے لحاظ سے ایک پراٸیویٹ کمپنی میں سینٸر سیلز آفیسر تھے ۔

ان کے چہرے پہ پریشانی کے آثار بھی تھے اور گال خوشی سے لال بھی ہو رہے تھے پریشانی اس لیۓ کہ ان کے ہاں اب کی بار بھی لڑکا ہی ہوا تھا ان کے ہاتھ چوتھے بچے کی ولادت تھی جبکہ ان کی خواہش تھی کہ ان کے گھر میں رحمت کے روپ میں ایک بیٹی بھی ہوتی  ۔

گھر میں خوشی کا سماں تھا نوزاٸیدہ بچے کو اس کے بھاٸ اٹھا اٹھا کے پیار کر رہے تھے رشتے داروں سے گھر کا آنگن بھرا ہوا تھا دیگیں پک رہیں تھیں اور مٹھاٸیاں تقسیم کی جا رہی تھیں ۔

بچے کی ماں خوشی سے نہال تھی رشتے دار بچے کے اوپر جمع تھے کوٸ کہہ رہا تھا کہ ناک ماں پہ گیا ہے کوٸ کہہ رہا تھا کہ رنگ روپ باپ پہ گیا ہے تو کوٸ کہہ رہا تھا ماتھا پھوپھو پہ گیا ہے الغرض کے ہر کوٸ فرحت جذبات میں طرح طرح کی باتیں کیۓ جا رہا تھا ۔

اتنے میں بچے کے والد محترم رشتے داروں کے ہمراہ گھر سے ملحق گیلری میں داخل ہوۓ تو مبارکبادوں کی بہتات شروع ہوگٸ مبارکباد وصولتے وصولتے بچے کے والد نے ماں کے قریب سوۓ ہوۓ بچے کو اٹھایا اور پیار کرنے لگے کیا دیکھ رہے ہو میرے گانگے بچے کا والد اپنے بچے سے مخاطب تھا جو ان کی طرف دیکھے جا رہا تھا ۔

بچے کی ماں ہنستے ہوۓ بولی سنتے ہیں بچے کی خالہ کیا کہہ رہی تھیں کہ بچہ ہو بہو اپنے والد پہ گیا ہے ۔

بچے کے والد مسکراۓ ۔

ہاں جی آخر بیٹا جو میرا ہے تو رنگ روپ تو مجھ پہ ہی جاۓ گا  ناں ۔

رشتے داروں کے قہقے گھر میں گونجنے لگے ۔

پھوپھو جو اپنے چار بھاٸیوں کی اکلوتی بہن تھیں کہنے لگیں بھیا بچے کا نام سوچا ہے .؟

بچے کے والد مسکراۓ کہ  ان شاء اللہ چھٹی پہ نام بھی رکھ دیں گے زرا سوچنے تو دیں ۔

بچے کی خالہ اپنی زبان میں  بول پڑیں 

” ادا چوکرے ناں نام میں آپ رکھیساں ” 

مطلب کہ بچے کا نام میں رکھوں گی ۔

بچے کے بڑے چچا کی بیوی کہنے لگیں کہ چھٹی پہ جس کا نام اچھا لگا وہی رکھ لیں گے ۔

بچے کے والد محترم نے بڑی بھابھی کی ہاں میں ہاں ملاٸ ۔

شام ہو رہی تھی سب شام کے کھانے اور خیرات سے فارغ ہونے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹنے لگے ۔

اندھیرا ہو چکا تھا سردیاں اپنے عروج پہ تھیں آج چاند بھی آسمان پہ اپنا نور بکھیر رہا تھا ۔

بچے کے والد حضور بخش صاحب سب مہمانوں سے فارغ ہو کے کمرے میں وارد ہوۓ اور آتے ہی بچے کو پیار کرنے لگے اور اپنی بیوی اسما کو مبارک دی ۔

دونوں میاں بیوی نام سوچنے میں مصروف تھے کہ اسما بی بی اپنے شوہر سے مخاطب ہوٸیں اچھا میری بات سنیں ۔

حضوربخش اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولے جی بولیں سن رہا ہوں ۔

اسما بی بی بولنے لگیں آپ نے بچے میں کچھ محسوس کیا .؟

حضوربخش اپنی بیوی کے اس اچانک سوال پہ سٹپٹا گیۓ اور بولے اللہ خیر کرے کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ خیریت تو ہے نا سب .؟

اسما بی بی بولنے لگیں کہ میرا دل گھبرا رہا ہے میں بچے کا مستقبل دیکھ رہی ہو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میرا یہ بچہ میرے اور آپ کے ہاتھ سے نکل جاۓ گا بہت ضدی اور غصیلا محسوس ہوتا ہے مجھے ناجانے کیوں پر میں بہت پریشان ہوں ۔

حضوربخش اپنی بیوی سے مخاطب ہوتے ہوۓ بولے کہ دیکھو ایسے مت سوچو یہ بعد کی باتیں ہیں کیوں پریشان ہو رہی ہو پہلے ہی آپکی اتنی طبعیت خراب ہے اپنی صحت کا خیال رکھیں اور آرام سے سوجاٸیں ۔

اسما بی بی اپنے شوہر سے تسلی بخش جواب سن کے بظاہر سوگٸیں مگر اندر سے وہ پریشان تھیں ۔

صبح ہوتے ہی ہمساٸیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جو شام تک جاری رہا سب خوش تھے بچے کے بھاٸ تو باری باری اٹھا کے اس کے ساتھ کھیلتے پیار کرتے اور بلآخر اسے رلا دیتے ۔

دن گزرتے گیۓ اور چھٹا دن بھی آگیا جب رشتے داروں نے اکھٹا ہونا تھا اور ایک بہت بڑی خیرات کا بندوبست کیا گیا تھا کیونکہ آج اس بچے کا نام رکھا جانا تھا ۔

سب صحن میں جمع تھے حضوربخش صاحب نے بچے کو اٹھایا ہوا تھا خاموشی چھا چکی تھی اب سب نے بچے کا نام بتانا تھا جس کا اچھا لگتا وہی نام بچے کا رکھا جانا تھا ۔

حضوربخش صاحب نے خاموشی کے سکوت کو توڑتے ہوۓ اپنا گلا صاف کیا اور بولے اب آپ سب اپنے اپنے نام بتانے سے پہلے مجھ سے میرا نام پوچھیں جو میں اپنے بیٹے کیلۓ سوچا ہے .؟

صحن میں بیک وقت آواز آٸ کہ جو بتاٸیں آپ ۔

حضوربخش بولے کہ میں نے اس بچے کا نام سوچا ہے ۔۔۔۔ آگے وہ جان بوجھ کے خاموش ہوگیۓ ۔

سب تقریباً چلا اٹھے کے کیا ہے تنگ کیوں کر رہے ہیں بتاٸیں بھی ۔

حضوربخش اپنے بیٹے کو سینے سے لگاتے ہوۓ بولے کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام مبشر رکھا ہے

سب بیک وقت بولے مبشر۔؟

جی ہاں مبشر ۔

اسما بی بی اپنے شوہر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ بولیں کہ ماشاءاللہ بہت پیارا نام ہے اور سبھی اسی نام پہ متفق ہوگیۓ بچے کا نام مبشر رکھا جا چکا تھا ۔


 ( جاری ہے )

3 comments:

Powered by Blogger.