کیا آزاد کشمیر میں ریفرینڈم ہوگا؟؟؟
بقول وزیراعظم عمران خان کشمیر میں ریفرنڈم ہوگا۔
کل سے اچانک ایک مرتبہ پھر میڈیا میں شور غل مچ جاتا ہے کہ منتخب وزیراعظم پاکستان نے آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کی بات کر کے ملک توڑنے کا عندیہ دے دیا ہے. جس پر ہر طرف سے تنقید بھی ہو رہی ہے اور عمران خان صاحب کے چاہنے والے ان کے اس بیان کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہمیں خان صاحب کی پوری بات سننی چاہیے کہ خان صاحب نے کیا کہا ہے۔ خان صاحب نے شروع تقریر میں کہا ہے کہ کشمیری ڈیڑھ سو سال سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں اور 73 سال سے ہندوستان سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ خان صاحب نے مزید کہا کہ بہت جلد کشمیری سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق ہندوستان سے ریفرنڈم کے ذریعے آزادی حاصل کر کے پاکستان کا حصہ بن جائیں گے اور اس کے بعد میری حکومت پورے کشمیر کو ریفرنڈم کے ذریعے ایک موقع فراہم کعے گی جس میں انہوں نے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ خان صاحب کا یہ بیان ہر طرف برق رفتاری سے پھیل گیا۔
اب اگر دیکھا جائے تو اس بیان کے دو حصے ہیں کہ پہلے مقبوضہ کشمیر ہندوستان سے آزاد ہو جائے اور پھر آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کروا دیا جائے کہ وہ کس طرف رہنا چاہتے ہیں. وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کا یہ بیانیہ متضاد ہونے کے ساتھ ساتھ بانی پاکستان محترم جناب قائداعظم محمد علی جناح کے بیان کے بھی متضاد ہے کیونکہ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا "کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔" تو آپ پاکستان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے یہ بیان کیسے دے سکتے ہیں؟
دوسری طرف اگر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دیکھیں تو وہاں پر ڈیموگرافک چینج یعنی ہندوستان سرتوڑ کوششوں سے کشمیر میں ہندو آبادی کا تناسب بڑھا رہا ہے جس کے لیے اب تک تقریباً چھ لاکھ سے زائد ہندوؤں کو ڈومیسائل جاری کر دیئے گئے ہیں تو اس سے آپ کیلئے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں ہے کہ کل کو ریفرنڈم کس کے حق میں جائےگا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ساری صورتحال میں خان صاحب کا آزاد کشمیر میں ریفرنڈم والا بیان صحیح تھا؟ یا پھر اسے جوش خطابت کہیں گے؟ اگر آپ کے پاس اس سوال کا جواب ہے تو ضرور بتائیے گا۔
معین الدین بخاری
ٹویٹر آئی ڈی


No comments: