زندگی نام ہے تغیر کا
زندگی نام ہے تغیر کا
ہم اس جہاں فانی میں آئے ہیں ، ہمیں ایک مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے اس دنیا میں اور اس مقصد کو بھول کر ہم لوگ باقی کاموں میں لگے پڑے ہیں ۔
انسانی زندگی مسلسل تغیر کا نام ہے ، ایک انسان اپنی زندگی میں ہر قسم کے حالات سے گزرتا ہے ، خوشی ، غم یہ سب کیفیات انسانی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ہم خود سے جڑے لوگوں سے بہت متاثر ہوتے ہیں ، متاثر ہونے کی شرح آپکے حساس پن اور اس تعلق سے اٹیچمنٹ پہ منحصر ہے ۔ ہم کسی کے ساتھ حد سے زیادہ قربت رکھ رہے ہوتے ہیں اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی بات ہمیں متاثر کر رہی ہوتی ہے ۔
زندگی کے اسی چلتے تسلسل میں کسی نے ہمارے ساتھ صدا نہیں رہنا ہوتا ہے بعض دفعہ آپکا حد سے زیادہ قریبی تعلق آپکو یوں سیکنڈز میں چھوڑ دیتا ہے اور آپ اس کے غم کو دل سے لگا لیتے ہیں ، لیکن ایسا نی کرنا چاہیے ہم اگر اس بات کو لے کر بیٹھ جائیں تو زندگی میں کبھی آگے نہ بڑھ پائیں ، کوشش کریں جس سے بھی تعلق ہو ایک حد تک ہو ۔
خود سے زیادہ اہم کسی کو نہ سمجھیں اور زندگی میں آگے بڑھیں


No comments: