والدین کی فرمانبرداری
والدین کی فرمانبرداری
والدین حقیقت میں ہی انسان کے اس دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ انسان کا وجود اپنے والدین کے مرہون منت ہوتا ہے، اللہ تعالٰی نے مختلف مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور پیار سے پیش آنے کا کا حکم دیا اور ان کے حقوق کے ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ جہاں شرک کرنے سے اجتناب کی تعلیم دی ہے تو اسی کے ساتھ میں ہی والدین کے ساتھ صحیح روش اپنانے کی ترغیب دی ہے۔ والدین کے متعلق آپؐ کے فرمان میں بھی حسن سلوک کی تعلیم دے رہے ہیں، "
جس طرح والدین نے بچپن میں بچے پر رحم کیا۔ اس کی ضروریات کا لحاظ کیا۔ اس کے درد کو اپنا درد سمجھا، اس کی ضرورت کو اپنی ضرورت خیال کیا۔ اس کی تکلیف کے دفعیہ میں حتٰی الامکان سعی کی، اس طرح بڑھاپے میں بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ والدین کو نعمت سمجھیں، ان کی خدمت اپنے لئے اعزاز قرار دیں، اپنے گھر ان کا قیام اپنے لیے رحمت تصور کریں" آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اقوال وافعال سے اس کی تعلیم دی ہے۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اکثر بیشتر ماں اور باپ دونوں کے ساتھ حسن سلوک کا تذکرہ فرماتے تھے کبھی ایک کی ہی تخصیصِ فرماتے، ایک دفعہ ایک دیہاتی آکر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے سوال کرنے لگا کہ کس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ آپؐ نے دو دفعہ والدہ کا تذکرہ کیا تیسری دفعہ والد کا ذکر فرمایا (بخاری: ۱۷۹۵)۔
ایک موقعہ پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے ماں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ
"جنت کی تلاش کا آسان راستہ والدہ کی خدمت سے طے ہوتا ہے جو شخص جنت کا متلاشی ہو وہ فرائض واجبات کی ادائیگی کے ساتھ والدہ کی خدمت کو لازم پکڑے"
باپ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا، ایک باپ جو صبح گھر سے نکلتا ہے اور شام تک اولاد کی پرورش اور ان کی تربیت کے سلسلہ میں بے چین و پریشان رہتا ہے وہ اس خیال میں لگا رہتا ہے کہ اپنے بچوں کے اخراجات کی مکمل تکمیل کیسے ہو گی؟ والد کا مقام بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: "باپ جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے" (ترمذی: ۰۰۹۱)
اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو والدین کی فرمانبرداری اور ان کی اطاعت کرنے کی توفیق دے۔ آمین یارب العالمین


No comments: