ٹرین کا ایک اور حادثہ
ایک اور ریلوے حادثہ زمہ دار کون
گزشتہ تین سالوں کے دوران ٹرین حادثوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
وقتی طور پہ چند ملازمین کو نوکری سے برطرف کر کہ پھر خاموشی سے ایک اور حادثے کا انتظار کیا جاتا ہے اور نتیجتا تھوڑے ہی وقت میں ایک اور حادثہ ہوجاتا ہے وزرا پھر زمہ داری سابقہ حکومتوں پہ ڈال دیتے ہیں اور چند ملازمین کو برخاست کیا جاتا ہے پورا سال اسی دائرے کے گرد گھومتے رہتے ہیں
دیگر ممالک میں ایسے حادثات کے فورا بعد متعلقہ وزیر استعفی دے کہ برطرف ہوجاتا ہے اور تحقیقات کا آغاز کیا جاتا ہے جب کہ ہمارے وزرا صاحبان کی وجہ سے اگرچہ پوری ائیرلائن داؤ پہ لگ جائے لیکن وہ پھر بھی اپنے ضد پہ اڑے رہتے ہیں ایک وزیر صاحب نے اس ٹرین حادثے پہ بیان دیا ہے جب تک ایم ایل ون منصوبہ مکمل نہیں ہوتا حادثات میں کمی نہیں آئے گی
کوئی بھی عقل مند شہری اس بیان کے بعد ٹرین میں سفر کرنا پسند کرے گا الا یہ کہ سخت مجبوری ہو ۔
فواد چوہدری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں کی غلطی کی وجہ سے اعظم خان سواتی کیوں استعفیٰ دے موصوف سے سوال یہ ہے کہ چند دن پہلے ٹریک کی تیرہ جگہوں کی نشاندھی کی گئی تھی کہ ان جگہوں پہ کبھی بھی حادثہ ہوسکتا ہے تو اس وقت بھی سابقہ وزرا یا سابقہ حکومتوں نے ٹھیک کرنا تھا؟؟؟
وزیر موصوف کو حوش میں آنا چاہئے کہ ان کی حکومت کے بھی تین سال ہوچکے ہیں اگر سابقہ حکومتوں نے غلطیاں کی ہیں تو سدھارنا تمہاری زمہ داری ہے
خیر حکومت نے ہر شہید کے اہل خانہ کو 1500000 روپے دینے کا اعلان کیا ہے جواچھی بات ہے لیکن یہ پیسے لگ بھگ 6 کروڑ روپے بنتے ہیں اور ہر زخمی کو ایک لاکھ سے تین لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے جو تقریبا ایک سے تین کروڑ روپے بنتی ہے اگر یہ پیسہ شکایت کے فورا بعد ٹریک پہ لگایا جاتا تو حادثہ اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہوتا مگر اب پچتائیں کیا جب چڑیاں چک گئیں کھیت اب حکومت کو حوش کے ناخن لینا چاہئیے اور ٹریک کی مرمت کی جائے سابقہ حکومتوں نے جو کرنا تھا وہ کرچکے اب زمہ داری ان کے کندھے پہ ڈالنا کوئی عقل مندی نہیں
تحریر پسند آنے کی صورت میں لائک کمنٹ اور شئیر کرنا مت بھولئے


No comments: