Header Ads

Breaking News
recent

وقت کی آواز

 


‏وقت کی آواز

‎#حبیب_خان

دنیا کے بیشتر ممالک آہستہ آہستہ لیکن ایک خاص رفتار سے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔جیسا کہ قطر اور خلیجی ممالک کے تعلقات کی خلیج آہستہ لیکن قربت کی سمت بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اپنے مقاصد کے لیے اپنی ترجیحات کا تعین کر رہا ہے۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ چین اپنے پرانے حریف انڈیا سے تعلقات استوار کرنے کا خواہاں  ہے۔پاکستان بھی اپنے دوستوں میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں گزشتہ دنوں کویت اور پاکستان کے درمیان ویزہ سسٹم کو بھی آزاد کر دیا گیا۔ امریکہ افغانستان سے نکل کر اپنے مفادات کی نگرانی کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں پاکستان اس کے لیے بیش قیمت اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ امریکہ کی ماضی میں بے وفائی کو مدنظر رکھ کر چلنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے قریبی برادر ممالک بھی اسی بات کے خواہشمند ہیں لیکن پاکستان کسی صورت چین کو ناراض کر کے بے وفا دوست سے تعلق استوار نہیں کرے گا۔ کیونکہ پاکستان کی بقاء چین کے ساتھ منسلک ہے ایسے میں اپنی خارجہ پالیسی کو انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے

موجود حکومت کو اس کا ادراک ہے۔ لیکن پاکستان کے حریف ممالک اور موجودہ حکومت کے مخالفین ان تعلقات کو استوار کرنے میں روڑے اٹکاہیں گے۔ غلط فہمیاں اور پروپیگنڈے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ایسے میں عوام کو آنکھیں کھلی رکھ کر اپنے ملک کے مفادات کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

اس کھیل میں کبھی سیاست دان تو کبھی صحافی اور کبھی وکلاء یا دیگر معاشرے کے اہم عناصر کو استعمال کیا جاۓ گا۔

حکومت اپنےساتھیوں اور مخالفین کا تعین کرتے ہوۓ ملکی مفاد میں فیصلے کرے۔

لیکن ابہام کسی صورت پیدا نہ ہو

ملک کی تقدیر بہرحال عوام کے ہاتھ میں ہے۔ اب وہ اپنے شعور سے کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ اہم ہے


حبیب الرحمن خان کو ٹویٹر پہ فالو کرنے کیلئے لوگو پہ کلک کریں 


اگر آپ کو تحریر اچھی لگی تو کمنٹ میں رائے کا اظہار کریں 

No comments:

Powered by Blogger.