Header Ads

Breaking News
recent

ہماری قومی زبان اردو

 


دنیا میں کسی بھی ملک کی قومی زبان اُس کی پہچان ہوتی ہے اور اُس کی تعمیر و ترقی کے لئے بہت اہم ہوتی ہے- تمام ممالک کی قومی زبانیں اُس ملک کے معاشرتی تہذیبی اور ثقافتی اقتدار کے بارے میں بتاتی ہے اور یہ قومی زبان ہی ہے جو ملک کے تمام لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے اس کو لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ جب مسلمان ہجرت کر کے ہندوستان آئے تو اُن کی زبان عربی اور فارسی تھی، لہٰذا وہ بات چیت میں زیادہ تر اپنی زبان ہی کا استعمال کرتے تھے، کیونکہ وہ پوری طرح مقامی زبان سے واقف نہیں تھے،اِس لئے مقصد کےاظہار  کے لئے مختلف زبانوں کے الفاظ استعمال کرتے اور اِسی طرح اُردو زبان کا آغاز ہوا۔اُردو زبان درحقیقت مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے اور یہی وجہ بھی ہے کہ اس میں اکثر اوقات عربی اور فارسی کے لفظ بھی پائے جاتے ہیں۔یوں تو پاکستان کے مختلف صوبوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، جیسے کہ پنجابی، بلوچی، سندھی، پشتو وغیرہ  لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اُردو ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اس ملک میں اُس کی قومی زبان کو اہمیت دی جائے- جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیہے۔

نہوں نے ہمیشہ اپنی زبان میں ہی ترقی کی ہے۔ اگر ہم بات کریں امریکہ کی تو آج انہوں نے اپنی زبان کے ذریعے دُنیا بھر میں قبضہ کیا ہوا ہے اور آج کل کے زمانے میں انگریزی زبان سیکھنا اور بولنا ہر شخص کی ضرورت نہیں،بلکہ مجبوری بن چکی ہے۔ ہماری قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ بہت عرصے سے ہماری قومی زبان زوال کا شکار ہے اور اب ہم انگریزی زبان کو اُردو پر فوقیت دیتے ہیں۔ہمارے ہاں جو شخص انگریزی بول سکتا ہے صرف وہ ہی پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور اب تو عالم یہ ہے کہ آج کل کی نوجوان نسل اُردو بولنے کو اپنی توہین سمجھتی ہے۔ ہماری زبان اُردو جس کے فروغ کے لئے سر سید احمد خان نے دن رات محنت کی اور جس زبان نے ہمیں مرزا غالب اور علامہ اقبالؒ جیسے عظیم شاعر دیئے وہ ہی زبان آج اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہے۔ ہر ملک میں اُس کی قومی زبان کو سرکاری اہمیت حاصل ہوتی ہے اور تمام دفاتر، عدالتوں، سکولوں اور اسمبلیوں میں قومی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ملک میں قومی زبان کو فروغ ملے اور ہر شخص قومی زبان سے واقف ہو جائے،لیکن پاکستان میں اُلٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔1973ء کی قرارداد میں اُردو کو قومی زبان قرار دیا گیا اور اُسے سرکاری زبان بنانے کی بھی سفارش کی گئی، لیکن افسوس آج تک پاکستان میں انگریزی کو ہی سرکاری زبان کی اہمیت حاصل ہے اورتمام تر نصاب اور سرکاری ریکارڈ بھی انگریزی میں ہی موجود ہے۔اس بات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آج تک ہماری سوچ انگریزوں کی ہی غلامی کر رہی ہے اور انہوں نے آج بھی اپنی زبان کے ذریعے ہمیں اپنا غلام بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 72سال مکمل ہو چکے ہیں،لیکن آج تک کوئی بھی حکومت اُردو کو مکمل طور پر سرکاری زبان کی اہمیت نہیں دِلا سکی، ہر آنے والی حکومت یہ وعدہ تو ضرور کرتی ہے کہ اُردو کو فروغ دیا جائے گا،لیکن یہ وعدہ کبھی بھی اپنی پائے تکمیل کو نہ پہنچا۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ آج تک سندھ اور خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں سیاست دان حلف بھی اپنی علاقائی زبان پشتو اور سندھی میں اٹھاتے رہے ہیں، لیکن اُردو کے زوال کی وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمران نہیں،بلکہ پاکستان کا ہر ایک شخص ہے۔آج ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے بچے انگریزی میڈیم سکول سے ہی تعلیم حاصل کریں اور اور اُنہیں اُردو آئے نہ آئے، لیکن انگریزی ضرور بولنی آتی ہو، کیونکہ ہمارے ہاں جو شخص ٹوٹی پھوٹی اُردو بولتا ہے اُس کا تو نا ہی کوئی شخص مذاق اڑاتا ہے اور نا ہی اُسے کوئی شخص جاہل سمجھتا ہے، لیکن اس کے برعکس اگر کوئی شخص کبھی انگریزی کا کوئی جملہ غلط بول جائے تو محفل میں موجود تمام لوگ ہی اُسے جاہل قرار دے دیتے ہیں۔پاکستان میں کسی شخص کی اہلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتاہے کہ وہ انگریزی کس قدرعمدہ بولتا ہے اور اُسی شخص کو قابل بھی سمجھا جاتا ہے اور اُسے اُردو بولنے والوں پر فوقیت بھی دی جاتی ہے۔ آج تمام تر دفاتر میں بھی صرف انگریزی زبان بولنے والوں کا ہی راج ہے کسی بھی ایسے شخص کو قطعاً نوکری پر نہیں رکھا جاتا، جس کی انگریزی کمزور ہو یہ ہی وجوہات ہیں کے روز بروز اُردو زبان زوال کا شکار ہوتی جا رہی ہے، اور اُسے وہ مقام نہیں مل پا رہا، جس کی وہ مستحق ہے۔ہمارے ملک کے معاشی حالات خراب ہونے کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج بھی انگریز ہمارے ذہنوں پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر کسی بھی قوم کی زبان کو اُن سے چھین لیا جائے تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ قوم بھی تباہ ہو جاتی ہے اور ہمارے ساتھ بھی کچھ یوں ہوا ہے۔ ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں اور اب ہم ایک دھندلی سی شناخت لئے بس انگریزوں کی پیروی کرنے میں مگن ہیں اور یہ ہی وجہ ہے اب دُنیا میں ہماری کوئی پہچان نہیں،لیکن ا ب بھی دیر نہیں ہوئی ہے ابھی بھی اگر ہم اِس بات کا احساس خود کو دلائے گے کہ ہماری قومی زبان ایک نہایت ہی خوبصورت زبان اور اگر ہم چاہیں تو اس زبان کی خوبصورتی اور مقام اس کو واپس لوٹایا جا سکتا ہے توپاکستان پھر سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی قومی زبان کو فروغ دیں تاکہ یہ زبان زندہ رہ سکے۔انگریزی زبان سیکھنے میں کوئی ہرج نہیں،لیکن ہمیں اپنی قومی زبان بولنے اور سیکھنے میں بھی عار محسوس نہیں کرنی چاہئے،کیونکہ درحقیقت یہ زبان ہی ہر پاکستانی کا اصل اثاثہ ہے۔


حفیظ احمد کو ٹویٹر پر فالو کرنے کیلئے ٹویٹر کے لوگو پہ کلک کریں 



No comments:

Powered by Blogger.