صحافت یا غلاظت
جمہوریت کا چوتھا ستون صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، اگر نظام جمہوری نہ بھی ہو تب بھی صحافی قوم میں خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت میں صحافت کا لیول انتہائی گھٹیا ہے۔ صحافت کا پیشہ اتنا گندہ ہوچکا ہے کہ الحفیظ الامان۔
پاکستانی صحافیوں کی چند اقسام میں سے درج ذیل یہ ہیں۔
فیک نیوز رپورٹ کرنے والے
جھوٹی خبریں پھیلانے کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیل جب فلسطین پہ جارحیت اور ظلم کررہے تھے، اس وقت چند لنڈے کی صحافی نما نمونے الٹی رپورٹنگ کررہے تھے،ان کی ویڈیوز دیکھ کر لگتا تھا کہ اسرائیل کے پاس چند گھنٹے ہیں اور اس پر جوہری ہتھیاروں سے حملہ ہونے والا ہو ، کبھی بابر اعظم کی شادی بھارتی ادا کارہ سے کرواتے ہیں، محمد عامر کو تو تقریبا ہر ٹیم میں کھلا چکے ہیں ہر خبر بڑھا چڑھا کہ پیش کرنا ان صحافی نما نمونوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ بن چکا ہے۔ اس گروپ کا سربراہ حقیقت ٹی وی ہے جو جنگ عظیم سوم کا کمینٹیٹر بنا ہوا ہے، غزوہ ہند والی حدیث کی تشریح جیسے اس کے علاوہ کسی نہیں آتی۔ یاد رہے جھوٹی صحافت صرف یوٹیوب تک محدود نہیں بلکہ الیکٹرانک میڈیا پر بھی زور شور جھوٹ بولا جاتا ہے بلکہ یوٹیوب سے پہلے کا بولا جا رہا ہے، آئے روز فیک نیوز کی وجہ سے پیمرا ان چینلز کو نوٹس بھیجتا رہتا ہے۔
یہ لوگ خود دوسروں پر بے بجا تنقید تو کرتے ہیں لیکن خود پر بجا تنقید برداشت نہیں کرتے،
مولانا طارق جمیل صاحب کو، ان کو سچ کہنے کی وجہ سے لفافہ بریگیڈ سے دو دن تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
یہی لوگ آزادی صحافت کے علمبردار بھی ہیں، چاہئے میڈیا سچ کہے یا جھوٹ ان کے خلاف کوئی بات بھی نہ کرے درحقیقت یہ لوگ صحافت کے ص سے بھی واقف نہیں ہیں۔
حکومت کے کھلے مخالفین
کچھ صحافی حکومت کی برائی میں اتنے مگن ہیں کہ انہیں حکومت کی کوئی اچھائی نظر آتی ہی نہیں، وہ اس کا اظہار سوشل میڈیا پہ کھل کہ کررہے ہیں یہ لوگ صحافی کم سیاسی پارٹی کے رکن زیادہ ہیں۔
اس قسم کے صحافیوں میں ایک بیماری عام ہے ہر دوسرے دن حکومت گرادیتے ہیں،
ان کے تھمبنیل کچھ ایسے ہوتے ہیں۔
اسلام آباد میں کیا ہورہا؟؟
نیا وزیر اعظم بلاول ہوگا یا شہباز شریف ؟؟
اسٹبلشمنٹ عمران خان کو شدید غصے میں اگلے 48 گھنٹے اہم۔
کورونا وائرس بے قابو حکومت ناکام؟؟
آرمی چیف کی اپوزیشن لیٍڈر سے ملاقات حکومت گھر جانے والی ہے؟
اور ڈھٹائی کی انتہاء تو دیکھے ہر پیشن گوئی غلط ثابت ہونے کے باوجود اگلے دن اسی طرح کی اور پیشن گوئی ٹھونک دیتے ہیں۔
ڈاکٹر دانش نے تو الٹا ہوکہ بھی ویڈیو بنائی لیکن پیشن گوئی پھر بھی غلط ثابت ہوگئی ہے۔
ویسے بے چارے نے کافی محنت کی تھی جو رائیگاں گئی اور حبیب اکرم صاحب جس صفائی سے حکومتی کامیابیوں کو ناکامی بناتے ہیں اس کی داد دینی پڑے گی۔ اس گروپ میں سلیم صافی، طلعت حسین، ڈاکٹر دانش، حامد میر ، عاصمہ شیرازی، اور بیرونی خبر ایجنسیوں کے تقریبا تمام صحافی شامل ہیں۔
تیسری قسم جو حکومت کا ناقد ہے لیکن اپنی صحافت کا خیال رکھتے ہوئے جہاں تعریف کا موقع ہو تعریف کردیتے ہیں، ان صحافیوں میں سے شاہ زیب خانزادہ منصور علی خان وغیرہ شامل ہیں۔
چوتھی قسم کے صحافی حکومت کی تعریف زیادہ کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی تنقید بھی کرلیتے ہیں مثلا عمران خان، جمیل فاروقی۔
آخری قسم جو حکومت کے برے کاموں کو بھی اچھا کر کہ پیش کرتے ہیں اس گروپ میں کامران خان، مبشر لقمان وغیرہ شامل ہیں
۔
ان کے مطابق اس وقت مہنگائی کا نام ونشان نہیں ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں
ان کی بریکنگ نیوز کچھ اسطرح ہوتی ہے
حکومت کی بڑی کامیابی آئی ایم ایف سے قرضے کی ایک اور قسط موصول
ڈالر گھٹنوں کے بل گرنے والا ہے
معاشی ترقی منفی دو کی قریب حکومت کی بڑی کامیابی ہے
وغیرہ
یہ تو تھیں صحافیوں کی اقسام، مگر اب اصل بات کی طرف آنا چاہتا ہوں, صحافیوں کی گندی ترین ایک قسم ہے جو اپنے محافظوں پہ بغیر ثبوت کے الزام لگاتے ہیں۔ کسی کو کوئی خروش بھی آئے تو زمہ دار ہمارے حساس اداروں کو ٹہراتے ہیں وہ بھی بغیر ثبوت کے اور اس میں انہی زرہ برابر بھی شرم نہیں آتی۔ اگر ادارے واقعی زمہ دار ہیں تو ان کے خلاف بات بھی ہونی چاہئے اور قانون کی گرفت میں بھی لانا چاہئے، لیکن بغیر ثبوت کے ایسے الزامات ملک کے ساتھ،فوج کے ساتھ اور شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری ہے، غازیوں کے روحوں کے ساتھ غداری اور وہ صحافی خود کو غدار کہلوانا پسند بھی کرتے ہیں۔
دلیل ان کی یہ ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا گیا تو جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے اداروں پہ الزام نہیں لگائے تھے، آپ تو کھل کہ فوج کو اپنا دشمن کہہ چکے ہو یہی سیاسی وابستگی حامد میر کو لے ڈوبی، سندھ میں عزیز میمن کے قتل کو ایک پروگرام تک محدود کرنے والا حامد میر اسد طور پہ تشدد کیخلاف آکہ پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن چکا ہے۔ بغیر ثبوت کے قومی اداروں کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرنے پہ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں سے سخت ردعمل آیا تو جیو نیوز نے تحقیقات کے نام پہ حامد میر کو سائڈ کرلیا، جسے بھی میر اینڈ کمپنی نے فوجی دباؤ قرار دیا اور آزادی صحافت پہ ضرب قرار دیا، حالانکہ ایسی باتوں کی اجازت کسی بھی ملک میں نہیں، کسی بھی ملک کا صحافی اتنے گندے الفاظ کو صحافت نہیں قرار دے سکتا، آزادی کی بھی حد ہوتی ہے.
آخر میں اپنے صحافی بھائیوں سے گزارش کروں گا خدا را صحافت کو سیاست کے نظر سے نہ دیکھیں بلکہ تیسرے فرد کا کردار ادا کرتے ہوئے صحافت کیجئے، یقین جانیں اس سے ملک کو فائدہ ہوگا۔
جہاں تنقید ضروری ہو وہاں تنقید، جہاں تعریف ضروری ہو وہاں تعریف کریں، تاکہ تم پر لوگ بھروسہ کریں۔ اپنا کھویا ہوا اعتماد کا واحل حل غلاظت نہیں صحافت ہے۔
صحافی مکمل غیر جانبدار ہوتی ہے، براہ کرم پورے پاکستان میں سے کسی ایک غیر جانب دار صحافی کا نام کمنٹ کرکہ مجھے غلط ثابت کریں۔
یہی صحافی اداروں پہ الزام تراشی کرنے کے بعد قانون کے گرفت میں آتے ہیں تو آزادی صحافت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے پھر انسانی حقوق کی تنظیمیں، آزادی صحافت کی تنظیمیں حرکت میں آجاتی ہیں حالانکہ
حامد میر نے جو کیا وہ کسی بھی طریقے سے صحافت کے زمرے میں نہیں آتا
چند دن پہلے غزہ میں میڈیا کی پوری بلڈنگ گرادی گئی لیکن کیا کریں اسرائیل تو ان کا لاڈلا ملک جو ٹہرا
انڈیا میں چالیس سے زائد صحافی مارے گئے لیکن انڈیا انٹرنیشنل مارکیٹ جو ہے
امریکہ میں صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک جو ہوتا ہے لیکن وہ سپر پاور ہے اس لئے زبانیِں گنگ ہیں
ایک طرف پاکستان قانونی کاروائی بھی نہیں کرسکتا دوسرے طرف باقی ممالک کھلی عام غنڈہ گردی کررہے ہیں
ان تنظیموں کو آنکھیں کھولنی ہوں گی

No comments: