Header Ads

Breaking News
recent

شیخ ماہر المعقیلی کون ہیں

 


پاکستانی خاتون کا بیٹا حرم کا امام

شیخ ماہر المعیقلی:


فضیلة الشیخ قاری ماہر بن حمد مُعیقلی دنیائے اسلام کے ان نامور قرائے کرام میں سے ہیں، جن کی تلاوت سب سے زیادہ سنی جاتی ہے۔ تقویٰ و طہارت کی پیکر پاکستانی خاتون کے بطن سے جنم لینے والے شیخ ماہر پہلے رسول اقدس کی مبارک مسجد (مسجد نبوی) کے امام تھے اور اب وہ مسجد حرام میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ سات جنوری 1969ء کو شہر مقدس (مدینہ منورہ) میں پیدا ہونے والے شیخ ماہر اپنے منفرد انداز اور پر تاثیر لہجے کی وجہ سے بہت کم وقت میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔ وہ بھی دیگر ائمہ حرم کی طرح حفص عن عاصم کی روایت میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ مگر حق تعالیٰ نے انہیں لحن داؤدی سے نوازا ہے۔ سریلی آواز اور منفرد لہجے کے ساتھ وہ حدر میں جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو سامعین کے دل پگھل جاتے ہیں اور ان پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ شیخ ماہر خشیت الٰہی اور تقویٰ کا بھی پیکر ہیں۔ اکثر و بیشتر وہ نماز کے دوران روتے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے والوں پر بھی رقت طاری ہو جاتی ہے۔ حرم شریف کے سینئر ائمہ شیخ سدیس اور شیخ شریم کے بعد شیخ ماہر عالمی سطح پراپنی دلسوز تلاوت پاک سے مسلمانانِ عالم میں مشہور ہیں۔ عرب ملکوں میں حفظِ قرآن کے زیادہ ترطلبا تلاوت پاک میں ان کی نقل کرنا پسند کرتے ہیں، شیخ ماہر کی آواز میں سوز، شیرینی اور خوفِ الٰہی کا اثر جھلکتا ہے۔ آپ کی شیریں اور سوز سے بھری تلاوتِ قرآن کی آواز سے سامعین میں رقتِ قلب اور خوفِ الہی پیدا ہوتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ صاف و شفاف بہتے چشمے کی طرح رواں اس آواز کو بلا توقف سنتے رہیں۔

شیخ ماہر المعیقلی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ وہ حرمین شریفین کی امامت و خطابت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوں گے اور انہیں بیس لاکھ سے زائد حجاج کرام اور لاکھوں عمرہ زائرین کی امامت کا شرف حاصل ہوگا۔ شیخ ماہر نے بچپن میں ہی قرآن کریم مدینة الرسول میں حفظ کر لیا تھا۔ حفظ کے بعد مدینہ منورہ کے ایک اسکول سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کے بعد کلیة المعلمین میں داخل ہوئے اور وہاں سے ریاضی کے مضمون میں تدریس کی تربیت حاصل کی۔ جس کے بعد وہ مکہ مکرمہ کے ایک سرکاری اسکول میں ریاضی کے استاذ لگ گئے۔ مگر ملازمت کے ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ مکہ مکرمہ کے ”شہزادہ عبد المجید اسکول“ میں تدریس کے دوران ہی انہوں نے سعودی عرب کی مشہور یونیورسٹی، جامعہ ام القریٰ (مکہ مکرمہ) سے ”فقہ امام احمد بن حنبل“ پر ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اسی جامعہ سے فقہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور جامعہ میں ہی مدرس مقرر ہو گئے۔

شیخ ماہر کی قسمت کا ستارہ اس وقت چمکا، جب وہ مکہ مکرمہ کے علاقے العولی میں واقع مسجد السعدی میں امام و خطیب مقرر ہوئے۔ اب بھی وہ حرم شریف میں ان کے نماز پڑھانے کی ڈیوٹی نہیں ہوتی تو اسی مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اسی مسجد میں امامت کے دوران شیخ ماہر کی سریلی اور منفرد آواز کا چرچا ہوا تو سعودی حکومت نے رمضان المبارک 1427ھ میں انہیں رسول کریم کی مسجد میں امامت کے عہدے پر فائز کر دیا۔ شیخ ماہر نے جب مسجد نبوی میں تراویح کی نماز پڑھائی تو اپنے مخصوص اور خوبصورت انداز تلاوت کے باعث چہار دانگ عالم میں ان کی شہرت پھیل گئی۔ اس لئے سعودی حکومت نے اگلے ہی رمضان میں انہیں مسجد حرام کا امام و خطیب مقرر کر لیا۔

شیخ ماہر نے 1428ھ (2006ء) میں مسجد حرام میں پہلی بار تراویح کی نماز پڑھائی اور حرم شریف کے چینل سمیت متعدد ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنز نے اسے براہِ راست نشر کیا تو دنیا بھر کے لوگ ان کی آواز کے گرویدہ ہوگئے۔ اب بھی مختلف ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے ان کی ریکارڈنگ نشر ہوتی ہے، جبکہ انٹرنیٹ میں شیخ کی اپنی ویب سائٹ، اپنے یوٹیوب چینل سمیت مختلف ویب سائٹس پر ان کی تلاوت بے حد شوق سے سنی جاتی ہے۔ ان کا شمار عالم اسلام کے ان قرائے کرام میں ہوتا ہے، جن کی تلاوت انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ سنی جاتی ہے۔ شیخ ماہر عموماً فجر اور مغرب کی نماز پڑھاتے ہیں۔ جب راقم (شمس االعالم حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد کعبہ مشرفہ کو الوداع کہہ کر واپس لوٹ رہا تھا تو آخری نماز مغرب بھی شیخ ماہر نے پڑھائی تھی۔ شیخ صاحب نے کچھ اس انداز میں تلاوت کی یا یہ کعبہ سے جدائی کی حزین کیفیت تھی کہ نماز کے دوران شروع سے آخر تک آنسوؤں کا سیلاب بہتا رہا۔ رواں رمضان المبارک میں حرم شریف کی نمازوں کیلئے جاری شیڈول کے مطابق شیخ ماہر ہی آخری تراویح کی دس رکعتیں پڑھائیں گے۔ اس روز شروع کی دس رکعتوں میں شیخ بندر بن عبد العزیز بلیلہ امامت کرائیں گے۔ 

شیخ ماہر کے والد حمد بن معیقل کا اصل تعلق سعودی عرب کے شمالی علاقے ینبع النخل میں واقع سویقہ نامی ایک قصبے سے تھا۔ مگر بعد میں وہ مدینہ منورہ منتقل ہوگئے تھے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران شیخ حمد کی وہاں مقیم ایک پاکستانی خاتون سے ملاقات ہوئی، جن کی عفت و پاکدامنی اور تقویٰ و طہارت سے متاثر ہو کر شیخ حمد نے ان سے شادی کا ارادہ کرلیا۔ جب اپنے اہل خانہ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے سختی سے انکار کیا اور کہا کہ اس خاتون سے شادی کرکے تم ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ مگر شیخ حمد اس خاتون سے بہت متاثر ہوگئے تھے۔ اس لئے انہوں نے انہی خاتون سے شادی کرلی اور اپنے والد معیقل کا گھر چھوڑ کر دادا کے ساتھ رہنے لگے۔ اس پاکستانی خاتون کے بطن سے حق تعالیٰ نے شیخ حمد کو اولاد سے نوازا۔ شیخ حمد کا تو انتقال ہوگیا، مگر ان کی نیک پاکستانی بیوی نے اپنے تمام بچوں کو حفظ قرآن کے مدرسے میں داخل کر دیا۔ سارے بچے حافظ قرآن بن کر نکلے اور ان میں سے ایک امام المسلمین و امام حرم شیخ ماہر بن حمد المعیقلی بھی ہیں۔ شیخ ماہر کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ سب اپنے عظیم والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قرآن کریم حفظ کر رہے ہیں۔


(تحریر: مولانا شمس العالم)

شیخ صاحب کیلئے ایک لفظ کمنٹ کریں 

No comments:

Powered by Blogger.