Header Ads

Breaking News
recent

امام اور مقتدی


‏امام اور مقتدی

‎#حبیب_خان

امامت کے لیے آغاز اسلام میں ہی کچھ اصول مرتب کر لیے گۓ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر بہت بعد تک یہ اصول قاہم رہا کہ خلیفہ وقت منبر رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بیٹھ کر خطبہ دیا کرتا ہر ایک انتہائی احترام سے بات کو سمجھتا پھر پاک وہند میں مبلغین تشریف لائے اور دین حق کا پرچار شروع کیا۔ چونکہ ہندو مذہب میں زات و قوم کی اونچ نیچے عام تھی۔ کسی کو انتہائی اعلیٰ مقام حاصل تھا تو کسی کو کم زات (نیچ) سمجھا جاتا تھا

یہاں پر جب اسلام نے قدم رکھا تو ہندو معاشرے میں بطور خاص جنھیں گھٹیا زات کہا جاتا تھا اسلام کو خاص پذیرائی حاصل ہوہی

پھر عروج و زوال کی لڑاہی میں برطانیہ نے ہند پر قبضہ کر لیا اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف تدابیر کیں ۔ جن میں سے اہم ترین تدبیر یہ تھی کہ مسلمانوں میں سے ایسے افراد کو مقامی کمیونٹی کی مدد سےامام بنایا جاۓ جنھیں مقامی سطح پر اہمیت حاصل نہ تھی۔

سو اس طرح امام کی توقیر کی بجاۓ تحقیر ہونے لگی مقتدی من مانی کرنے لگے اور امام بھی مقتدی کا محتاج ہو کر انھیں کی مرضی کے دینی مساہل پیش کرنے لگے

عام آدمی دین سے دور ہونے لگا

علماء حق نے عوام کگا

طرف سے تحقیر ہونے پر دین کی ترویج میں دلچسپی چھوڑ دی۔

کچھ چیدہ علماء نے اپنی کوشش جاری رکھی جو کہ ناکافی تھی

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی نے بھی جھوٹ فراڈ یا دیگر گناہوں کو زندگی کا حصہ بنا لیا

خواتین جنھیں دین حق میں خاص اہمیت حاصل تھی غیر مسلم کا طریقہ اپنانے لگیں

آج ہم صرف علماء کو مورود الزام ٹھہراتے ہیں

لیکن ماضی میں غیر مسلم کی سازشوں اور اپنے کردار کو بھول جاتے ہیں

سوچیے گا

حبیب خان کو ٹویٹر پہ فالو کرنے کیلئے لوگو پہ کلک کریں 


اگر آپ اپنی تحریر اپلوڈ کروانا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں 




 

No comments:

Powered by Blogger.