معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سائنس
معجزہ سائینسی اصولوں سے بالاتر ہوتا ہے سائنس جتنی بھی ترقی کرلے وہ چٹیل پہاڑ سے جاندار پیدا نہیں کرسکتی اور نہ ہی وہ کسی اور معجزے تک پہنچ سکتی معجزہ کہتے ہی مافوق الفطرت کو واقعہ معراج بھی نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ٹائم روک دیا گیا پوری کائنات ایک ہی نقطے پہ رک گئی اللہ تعالی کے حبیب کے استقبال کیلئے سائنس دان جتنی بھی کوشش کریں نظام شمسی کے حدود سے بھی نہیں نکل سکتے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لامکاں تک گئے سائنس دانوں کو چاند تک جانا بھی معراج نبویﷺ کی تصدیق ہے شب معراج کو آپ ﷺ مکہ میں تشریف فرما تھے کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیت المقدس کے طرف چل دئیے ان کی سواری براق تھی اور رفتار روشنی کی برابر کیوں کہ جہاں آپ ﷺ کی نظر پڑتی اگلے لمحے براق وہیں سےنکل چکا ہوتا اور سائنس بھی مانتی ہے کہ جب کسی چیز کی رفتار روشنی سے تیز ہوجائے اس کیلئے وقت رک جاتا ہے بہر حال نبی کریم ﷺ نے بیت المقدس میں تمام انبیاء علیہم السلام کو نماز پڑھائی اور وہیں سے آگے کا سفر شروع ہوا ساتوں آسمانوں کے بعد آپ سدرۃ المنتہی تک گئے جہاں آپ ﷺ کی ملاقات اللہ تعالی سے ہوئی آپ ﷺ اپنے رب سے امت کیلئے نماز کا تحفہ لے آئے
بہرحال یہ بہت بڑا اعزاز ہے نبی کریم ﷺ کا اور ان کی امت کیلئے باعث فخر ہے سبحان الذی اسری بعدہ لیلا من المسجد الحرام
بطور مسلمان ہمیں واقعہ معراج کے بارے میں شک بلکل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جہاں انسانی عقل ختم ہوتی ہے وہیں سے معجزے کا آغاز ہوتا ہے اور ہم سب کا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بڑے معجزات میں سے معراج بھی شامل ہے اور کافروں کو بھی راہ فرار نہیں اب تو انسان چاند پہ پہنچ چکا ہے جس سے کئے شبہے ختم ہوچکے ہیں جو اعتراضات اس وقت وہ لوگ جن مفروضوں کو بنیاد بنا کہ کرتے تھے وہ مفروضے آج سائنس مسترد کرچکی ہے کائنات کی وسعت اور ترتیب سے روانی پکار پکار کہ رب کا پتہ دے رہی ہیں ہے کوئی ایمان لانے والا
ربنا ما خلقت ھذا باطلا سبحانک فقنا عذاب النار


No comments: