Header Ads

Breaking News
recent

اوئے

 

لینڈکروزر سے ایک سیٹھ صاحب اُترے۔ گیٹ پر موجود پولیس والے کو 'اوئے' کہہ کر بلایا۔

ابھی کل ہی اُس پولیس والے کے پاس سے ایک غریب ریڑھی والا اپنی ریڑھی ہانکتا ہوا گزرا۔ پولیس والے نے اُسے 'اوئے' کہہ کر بلایا۔

یہ جو 'اوئے' ہوتا ہے، یہ ہمیشہ اپنے سے غریب اور بے بس کے لئے ہوتا ہے۔

ہر تگڑا انسان اپنے سے تگڑے کو 'جی سرکار' 'جی جناب' کہتا ہے۔

غریبی اور بے بسی بذات خود 'اوئے' ہے۔

بعض اوقات رشتے داروں کا خون بھی سفید ہو جاتا ہے۔

پولیس والوں کے جو ہاتھ تگڑے بندوں کو سیلیوٹ کے لئے اُٹھتے ہیں

انہی ہاتھوں سے وہ اپنے سے ماڑے بندے کو تھپڑ مارنے میں دیر نہیں لگاتے۔

سر قلم ہوتے ہیں تو غریبوں کے۔

ہر جگہ۔ ہر قدم پر۔

غریب ' اوئے' ہے۔

ہر جگہ ہر قدم پر۔

اور غریب جھونپڑیوں میں بھی اپنے سے ماڑے بندے کے لئے 'اوئے' ہی چلتا ہے۔

ہر جگہ ہر قدم پر جی جناب اور 'اوئے' کی تقسیم ہے۔

یہ دنیاوی پروٹوکول کے نام پر  ہر جگہ 'اوئے' اور 'جی جناب' کا نظام ہے۔

غریب آبادیوں کا مولوی، مولوی ہوتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات ملا بھی ہوتا ہے۔

شاہی محل کا مولوی مولانا صاحب ہوتے ہیں۔

علم نہ بھی ہو تو بھی بعض اوقات "عالم صاحب' کہلاتے ہیں۔

بعض اوقات ترتیب ایسی ہوتی ہے کہ عقل دھوکہ کھا جائے۔

پرانے وقتوں میں پیر کی وجہ سے مرید پہچانے جاتے تھے۔

اب سیاسی مریدین کی وجہ سے اکثر پیر پہچانے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر فلاں سیاسی حکمران کے پیر صاحب۔۔۔


خون کا عطیہ مانگنا ہو تو ریڑھی والے کا خون بھی قیمتی ہے،

لیکن وہی ریڑھی والا اُس شاہی محل میں شاہی واش روم استعمال نہیں کر سکتا۔

ظاہر ہے

شاہی محل کے واش روم کے بھی ادب آداب ہوتے ہیں۔

'اوئے' اور 'جی جناب' کا فلسفہ

دردناک بھی ہے اور خوفناک بھی۔

بس اتنا خیال رکھا کریں کہ

قیامت کے روز

فرشتے

"اوئے' کہہ کر نہ بلائیں۔

فرشتوں نے اگر "جی جناب" کہہ کر بلایا تو بات بن جائے گی۔


اس اوئے کی بیماری کو تکبر کہتے ہیں اسلام میں تکبر کیلئے کوئی جگہہ نہیں اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتے ہیں قَالَ رسولُ اللَّهِ ﷺ: قَالَ اللَّه عزَّ وجلَّ: العِزُّ إِزاري، والكِبْرياءُ رِدَائِي، فَمَنْ يُنَازعُني في واحدٍ منهُما فقَدْ عذَّبتُه رواه مسلم. 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔وسلم۔کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں بڑائی میری چادر ہے اور جو یہ چادر مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے عذاب دوں گا

ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تکبر کرتا ہے، وہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل ومعمولی ہوتا ہے اگرچہ وہ اپنی نظر میں بڑا ہو؛ بلکہ ایسا شخص لوگوں کی نظروں میں کتا یا خنزیر بھی سے زیادہ ذلیل اور معمولی ہوجاتا ہے (مشکوة شریف، ص: ۴۳۴

تکبر کی وعیدوں سے بچنے کا واحد زریعہ تواضع حاصل کرنا ہے    اور تواضع حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی آخرت کو ہر وقت مد نظر رکھنے کی کوشش کرے اور اپنے خاتمہ کے سلسلہ میں فکر مند رہے۔ اور مزید تفصیل کے لیے امام غزالی کی ”تبلیغ دین“ اور حضرت حکیم اختر صاحب کی ”روح کی بیماریاں اور ان کا علاج“ کا مطالعہ کیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم

No comments:

Powered by Blogger.