Header Ads

Breaking News
recent

میں نے ویلنٹائن ڈے منانا کیوں چھوڑا؟؟


 میں نے ویلنٹائن ڈے منانا کیوں چھوڑا ؟؟



ميري عمر لگ بھگ 17 سال تھی جب پہلی بار میں نے لفظ ویلنٹائن ڈے سنا تھا 

اب کیوں کہ میرا تعلق  ایک دیہاتی علاقے سے تھا تو یہاں کے لوگ اس تہوار کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے 

میں نے اپنے سکول کے دوستوں سے کہا کہ آج ویلنٹائن ڈے منایا جا رہا اس کے بارے میں کیا جانتے ہو ۔۔ 

تو ان میں سے کچھ دوستوں نے وہ ہی سب کچھ بتایا جو آج کل بتایا جاتا ہے 

محبت کا دن 

ایک دوسرے کو تحائف پیش کرنے کا دن وغیرہ وغیرہ ۔

میں نے بھی سوچا اس میں کیا حرج ہے

اب کیوں کہ مجھے یہ سمجھایا گیا تھا کہ 

اس دن کی مبارک باد آپ کسی بھی اپنے کو دے سکتے ہو

میں نے بھی کچھ اپنو کو اس دن مبارک باد دیا 


ٹویٹر پہ ہمیں فالو کرنے کیلئے کلک کریں 




ان میں سے ایک میرے استاد محترم بھی تھے جن کے پاس میں نے کلام پاک ناظرہ پڑھا تھا 

میرا Happy Valentine's day سن نے بعد انھوں نے جو کہا وہ سن کر میں دنگ رہ گیا 

انھوں نے کہا 

جب قائد ملت لیاقت علی خاں کو پاکستان میں اسلامی آئین نافذ کرنے پر قتل کیا گیا تھا تو انکی جگہ سردار عبدالرب نشتر کو پاکستان کا وزیراعظم بنایا گیا تو انکی کوشش بھی اسلامی آئین نافذ کرنے کی تھی لیکن انگریزوں سے یہ برداشت نہ ہوا کہ پاکستان انکی غلامی سے نکلے اور انھوں نے سردار عبدالرب نشتر کو بھی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا اور پاکستان ایک دفع پھر انگریزوں کی غلامی میں آگیا اور یہ صدمہ محسن پاکستان سردار عبدالرب نشتر کو لے ڈوبا انھوں نے 14فروری 1958 کو وفات پائی،


میں نے سوال کیا جناب ان تمام باتوں کا ویلنٹائن ڈے سے کیا تعلق ہے ؟

انھوں نے جواب کا آغاز اک شعر سے کیا


نہ عشق باادب رہانہ حسن باحیا رہا

حوس کی دھوم دھام ہے نگر نگر 'گلی گلی


یہ وہ دن ہے جب ایک یہودی نے غلط روایت کو پروان چڑھایا جس نے غلط طریقے کو رائج کیا اور ناجائز تعلق کی بنیاد رکھی اور وہ پھانسی چڑھایا گیا لیکن نوجوان نسل نے اسی ویلنٹائن کی یاد میں 14فروری کو محبت سے یاد رکھا اور منایا جانے لگا جسکی شریعت میں کوئ حیثیت نہیں ہے


بیٹا میں بہت افسوس سے کہہ رہا ہوں  کہ ایک یہودی کی یاد میں اور وہ بھی ایک ناجائز تعلق کے دن کو مسلمان بڑے احترام سے مناتے ہیں اور یاد رھے کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا قیامت والے دن وہ ان میں سے ہوگا ۔

دین اسلام نے حیا کی اہمیت کو اجاگر کیاہے تاکہ مومن باحیا بن کر معاشرے میں امن سکون پھیلانے کا ذریعہ بنے۔

چلو اب 

14فروری کے دن کو قرآن و سنت کی روشنی سے دیکھتے ہیں کہ اس دن کی کیا اہمیت ہے اور  منایا جانے والا یہ تہوار کیسا ہے؟

پھر فیصلہ آپ خود کیجیئے گا کہ آیا اس دن کو ویلنٹائن کی یاد میں منایا جائے یا پھر حیا کے دن کے نام سے۔

حیا کی اہمیت قرآن کی روشنی میں

قرآن مجید میں بےحیائی کےلیے لفظ" *فحشاء* "استعمال ہواہے اور متعدد مقامات پر بےحیائی سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

اور بےحیائی بدی اور ظلم سے روکتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتاہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔(النحل :۹)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :

کہہ دو کہ میرے رب نے تو بےحیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے چاہے وہ بےحیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی ہو۔  (الاعراف :۳۳)

ہمارا دین آسانی والا دین ہے مکمل اور بہترین ضابطہ حیات ہے

اب دیکھتے ہیں حديث کی روشنی میں۔

حضور ﷺ کا فرمان ہے:

حیا ایمان کا حصہ ہے

(جامع ترمزی)

اسے واضع ہوا کے حیا کے بغیر ایمان نامکمل ہے 

گویا حیاایک مومن کی صفت لازمہ ہے

آج کی نوجوان نسل اپنے دین کی پیروی کو پس ِ پشت ڈال کر مغربی تہذیب کے پیچھے رواں دواں ہے ہوائے نفس کے گھوڑے پر سوار اپنی دھن میں سر مست ایک نئے انداز سے زندگی سے لطف اندوز ہونے کے بےہودہ طریقوں کو ویلنٹائن ڈے کا نام دیا جاتا ہے

دیکھو بیٹا 

 انگریزوں کے اس بےہودہ تہوار کو منا کر مسلمان قوم ان عظیم لوگوں کا بھی مزاق اڑاتی ہے اور دین اسلام کی بہی تضحیک کرتی ہے


بس وہ میری زندگی کا پہلا اور آخری ویلنٹائن ڈے تھا اس دن کے بعد میں نے یہ ٹھان لیا 

آج کے بعد اس دن کو نہیں مناوں گا 

ہاں میں انسان ہوں خطا کا پتلا ہوں 

مگر ایک چیز جانتے ہوئے بھی کہ اس کے پیچھے اسلامی تعلیمات کے دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں 

تو میں کیوں ایسے دن کو سیلیبریٹ کروں 

ہمارے لیے سال کا ہر دن محبتوں کا دن ہونا چاہیے 

نا کہ کوئی مخصوص دن جس دن فحاش آدمی کو مارا واصل جہنم کیا گیا۔۔۔


علامہ اقبال فرماتے ہیں

حیا نہيں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی 

خدا کرے جوانی تری رہے بےداغ

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے میری تحریر کو پراثر بنادے آمین

وآخرداعواناعن الحمدللہ رب العالمین

بلوچ بھائی کی ایک اور تحریر کیلئے کلک کریں 

تحریر عبدالعزیز بلوچ عرف بلوچ بھائی

اگر آپ نے اب تک جبلی ویوز کا چینل سبسکرائب نہیں کیا تو یہاں کلک کیجئے 



No comments:

Powered by Blogger.