Header Ads

Breaking News
recent

مجسمہ یا مذاق ؟





 لاہور کے ایک پارک میں نصب علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے مجسمے کو دیکھ کر مجھے تاج محل بنانے والے مستری یاد آئے

کہ شاہ جہاں نے جن کے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے کہ دوبارہ ایسا شاہکار نہ بنایا جاسکے

حاکم وقت سے میری گزارش ہے کہ اس شاہکار کو تخلیق کرنے والے مجسمہ ساز کے

صرف ہاتھ نہیں ، پاؤں اور سر دھڑ سے الگ کر دیا جائے تا کہ دوبارہ

ایسا شاہکار تخلیق کرنے پر ہر مجسمہ ساز جان کی امان پاتا پھرے

ہاتھ سینے سے باہر نکال کر علامہ صاحب کو خلائی مخلوق سے تشبیہ دی ہے 

اور بجائے قلم بنانے کے مسواکانہ انداز بنایا گیا ہے اس سے بہتر تو گھوڑوں اور گائے بھینسوں کے وہ مجسمے ہیں جو ہر شہر کے چوکوں میں نصب ہیں۔

شاعر مشرق کی اتنی بےادبی قوم اور خاص طور پر اقبال کے مداحین کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بنی ہے۔ حکومت فوری اس کا نوٹس لے اور اس گھٹیا حرکت کے ذمہ داروں سخت سے سخت سزا دی جائے۔

No comments:

Powered by Blogger.