Header Ads

Breaking News
recent

امتناع قادیانیت آرڈیننس اور نیشنل کمیشن برائے اقلیت

 

‏PM کی ہدایت پروفاقی کابینہ نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قادیانیوں کو نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں بطور غیرمسلم شامل کرنیکی اصولی منظوری دیدی

( یعنی اپنی مرضی کی عبات،مرضی کی عبادت گاہ وغیرہ کا حق)

اقلیتی حقوق کو رولز آف بزنس 1973 شیڈول 2، (12)34 کے تحت مذہبی وزارت کے حوالے کیا گیا (خبر)  

 بھٹو کے دور میں تحریک ختم نبوت کے نتیجے میں متفقہ طور پہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جب بھٹو کو پھانسی ہوئی اور جنرل ضیاء  برسراقتدار آئے تو قادیانیوں نے اپنی سرگرمیاں بڑھانا شروع کردیں تب  جنرل ضیاء الحق مرحوم نے 26 اپریل 1984ء کو آرڈیننس نمبر 20 موسوم بنام “امتناع قادیانیت آرڈیننس” جاری کر دیا ۔ جس کے تحت قادیانیوں/مرزائیوں/لاہوریوں کو ان کی خلاف اسلام سرگرمیوں سے روک دیا گیا ۔


آرڈیننس کے ذریعے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 بی اور سی کا اضافہ کر دیا گیا ۔ جس کے تحت لکھا گیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلا سکیں گے اورر سول اللہ کے اصحاب کے سوا کسی کے ساتھی مثلا مرزا غلام ملعون کے ساتھیوں کو صحابی کا خطاب، یا امیر المئومنین کے القابات سے موسوم نہ کیا جا سکے گا ۔ اسی طرح سوائے رسول اللہ کی ازواج کے کسی دوسرے کی بیوی مثلا مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی بیوی وغیرہ کو امہات المئومنین کا لقب بھی نہیں دیا جا سکے گا۔ اوررسول اللہ کے خاندان یا فرد کے سوا کسی اور کے خاندان یا فرد مثلا مرزا قادیانی کے خاندان و فرد وغیرہ کیلئے اہلبیت کا لقب استعمال کرنے کی بھی اجازت نہ ہو گی ۔ اسی طرح مسلمانوں کی عبادت گاہ کے سوا کسی بھی عبادت گاہ کو مسجد کا نام دینا بھی جرم قرار دیا گیا ،اور قادیانی اذان بھی نہیں دے سکیں گے۔


جواس کی خلاف ورزی کریگا اسے تین سال کی سزا اور جرمانہ ادا کرنا پڑیگا ۔ یہ آرڈیننس نافذ کر کے اسے “امتناع قادیانت آرڈیننس”کا نام بھی دیدیا گیا ۔ اس آرڈیننس کے بعد قادیانیت دوبارہ نہیں سنبھل سکی  تاہم عمران خان کی حکومت میں انہوں نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کردیا  جس کی وجہ یہ ہے 

قادیانیوں کے روحانی پیشوا اور خلیفہ مرزا مسرور کے مطابق عمران خان نے جب تحریک انصاف بنائی تو نہ صرف اس زمانے میں مرزا مسرور سے درخواست کی کہ وہ الیکشن میں تحریک انصاف کو ووٹ دیں، بلکہ 2013 کے الیکشن سے قبل، عمران خان نے اپنی جماعت کی ایک عہدہ دار نادیہ رمضان چوہدری کو مرزا مسرور کی بارگاہ میں ایک بار پھر بھیجا اور قادیانی جماعت کی سیاسی حمایت (ووٹ) کا مطالبہ دہرایا۔ 

اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان قادیانیت پہ مہربان ان کے ووٹ کے، حاصل کرنے کیلئے ہے ہم بطور عام شہری یہ درخواست کرتے ہیں کہ خان صاحب اس فیصلے سے یوٹرن لیں کیوں کہ اس فیصلے کے بعد قادیانیوں کو عام اقلیتوں کے طرح حقوق حاصل ہوں گے اور ان کا تحفظ ہماری زمہ داری بن جائے گی وہ اپنی مذھب کے تبلیغ کرسکیں گے وہ اپنی عبادت کو نماز اور عبادت گاہ کو مسجد کہہ سکیں گے 

امید ہے کہ وزیراعظم صاحب ٹھنڈے دماغ سے سوچتے ہوئے اس مسئلے کا درست حل نکالنے کی کوشش کریں گے مسیلمہ کذاب کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تحفظ نہیں دیا تھا ہم بھی انہیں کے پیروکار ہیں 

ختم نبوت پہ ڈاکہ ڈالنے والے مذھبی مجرم ہیں اور مجرموں کو تحفظ نہیں دیا جاتا 

اللہ ہمارا حامی وناصر ہو

No comments:

Powered by Blogger.