دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک مختصر تاریخ وخدمات
تعارف
دارالعلوم حقانیہ ملک کا بہترين مدرسہ ہے جہاں کے فضلاء کرام نے ہر محاذ کو۔سنبھال رکھا ہے دارالعلوم حقانیہ سے سالانہ ایک ہزار سے زائد علماء کرام فارغ ہوتے ہیں جو ملک کے طول عرض میں اشاعت دین کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں
تاریخ وخدمات
مدرسہ کے مہتمم اول مولانا عبدالحق صاحب رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے مدرس تھے تقسیم ہند کے بعد مولانا عبد الحق نے نوشہرہ کے اکوڑہ خٹک کے مقام پہ مدرسہ کا افتتاح کیا
مدرسہ نے کم وقت میں ترقی کے منازل طے کئے مولانا عبدالحق صاحب کا اخلاص تھا کہ چند ہی سالوں میں مدرسہ طالب علموں سے بھرچکا تھا
مدرسہ۔میں وقت کے ساتھ ساتھ توسیع کی جاتی رہی. 1967 کو مدرسہ سے ماہنامہ الحق کا اجراء کیا گیا جس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے دئیے
تحریک ختم نبوت 1974 میں دارالعلوم کا کردار کسی سے مخفی نہیں سیاسی طور پہ مولانا عبدالحق جو اس وقت ایم این اے تھے سرگرم رہے پارلیمنٹ میں مفتی محمود کی اعانت کیلئے مولانا سمیع الحق شہید اور مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم ایک ہی رات میں قادیانیت کے خلاف دلائل پہ مشتمل۔کتاب لکھ ڈالی سیاسی طور پہ مولانا سمیع الحق شہید نے نفاذ اسلام کی ہرممکن کوشش کی وہ تین دفعہ سنیٹر بھی رہے
خدمات شیخ سمیع الحق
شیخ سمیع الحق شہید رحمہ اللہ۔کی بات کی جائے تو انہوں نے دین کے ہر شعبے میں خدمات انجام دی ہیں تدریس کے میدان میں شیخ الحدیث تھے تو تبلیغ میں ایک عظیم مبلغ سیاست کے میدان میں طویل جدوجہد کی تو صحافت کے میدان میں ماہنامہ الحق کو اپنے اور غیروں نے تسلیم۔کیا
تصنیف کے میدان میں تفسیر لاہوری رح (طباعت کے مراحل میں ہے ) زین المحافل (شمائل ترمذی کی شرح جو دو جلدوں پہ مشتمل ہے) کے علاوہ کئی کتابیں لکھیں اور جہاد کے میدان میں امام المجاہدین اور شہادت کے بعد امام الشہداء کا لقب پایا ان کے دور میں مدرسہ حقانیہ نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی
مولانا انوار الحق
شیخ الحدیث مولانا انوار الحق حقانی مدرسہ کے تیسرے مہتمم ہیں وہ اس وقت وفاق المدارس کے نائب صدر بھی ہیں ان کا انداز بیاں شفقت سے بھرپور غصہ طلباء کو بہت پسند ہے استاد محترم طبعیت سے سخت مزاج ضرور لگتے ہیں لیکن حقیقت میں انتہائی ۔مشفق ونرم مزاج ہیں وہ کئ سالوں سے بخاری شریف کا درس دے رہے ہیں
مشہور فاضلین مدرسہ
مدرسہ کے مشہور فاضلیں درج ذیل۔ہیں
*مولانا یونس خالص حقانی سربراہ مجاہدین افغانستان بمقابلہ سویت یونین
*مولانا جلال الدین حقانی
سربراہ افغان طالبان بمقابلہ سویت وامریکہ
*مولانا شیخ سمیع الحق شہید مہتمم دارالعلوم حقانیہ و امیر جمعیت علماء اسلام س
* مولانا فضل الرحمان
امیر جمعیت علماء اسلام وسربراہ اپوزیشن تحریک پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ
* مولانا انوارالحق نائب صدر وفاق المدارس و مہتمم دارالعلوم۔حقانیہ
*شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب مشہور خطیب وسابق ایم پی اے کے پی اسمبلی
* ملا عمر مجاہد سربراہ امارت اسلامیہ افغانستان
* پیر عزیز الرحمان ہزاروی رحمہ۔اللہ
*شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحلیم عرف دیر باباجی
*سابق وزیر تعلیم مولانا فضل علی حقانی
*مولانا انوارالحق ایم این اے
ان کے علاوہ سینکڑوں جید علماء کرام کی فراغت اسی مدرسے سے ہے
اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ مدرسہ ترقی کے منازل طے کرتا رہے






No comments: