Header Ads

Breaking News
recent

نکاح کے فرسودہ رسوم

 


 

پڑھنا ضرور اپنی نسلیں سنوارنے کیلئے

ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو میں کافی حیران بی ہوا اور پریشان بی  میں گہری سوچوں میں گم ہو گیا یہ شادی مسلم گھرانے کے نہیں بلکہ غیر مسلم گھرانے کی تھی 

میرے ذہین میں تھا کہ بارات کِسی شادی ہال میں یا کسی فام ہاؤس میں جائے گی  میں نے سوچا سیدھا وینو پر جائیں گے وقت کی بچت ہو جائے گی جب میں نے  میزبان سے ایڈریس پوچھا تو اس نے کہا کہ میرے گھر آ جائیں وہاں سے نکلیں گے خیر میں نے زیادہ اسرار نہیں کیا  مقررہ دن اور وقت کے مطابق میں اُن کے گھر پہنچ گیا  اور کچھ دیر بعد ہم بارات کے ہمراہ روانہ ہو گئے  بارات سیدھی ایک مشہور چرچ کے دروازے پر روکی میں نے سوچا شاید عبادت کے لئے روکے ہیں اس لیے میں گاڑی میں روکا رہا  لیکن میں حیران رہ گیا جب ایک باراتی نے کہا سر اندر آ جائیں یہ ہی وینو  ہے خیر ہم مکرر کردا جگہ پر بیٹھ گئے کچھ دیر بعد دلہن ریت ویل میں کسی پری کی ما ند نمو دار ہوئی اور تھوڑی دیر بعد نکاح شروع ہوا جو کہ ایک مشہور پوپ نے پڑھایا  اور اس کے بعد مہمانوں کی  تواضح  کی گئی ۔

میں جب شادی کی تقریب سے رخصت ہوا تو میرے ذہن میں ایک بات بار بار دستک دے رہی تھی کہ ہم لوگ کیوں نہیں اسلامی طریقے سے شادی کا اہتمام کرتے ہماری شادیاں شروع ہی لڑکی والوں کے اخراجات سے ہوتی ہیں 

دس لاکھ کا جہیز۔

پانچ لاکھ کا کھانا۔

گھڑی پہنائی۔

انگھوٹھی پہنائی۔

ولیمے والے دن ناشتہ

مکلاوہ کھانا دیگیں۔

بچہ پیدا ہونا پر خرچہ

بیٹی ہے یا سزا ہے کوئی


مرد ہو ناں گے بڑھو کرو یہ سب خرچہ خود اور کرو چار شادیاں۔

سنت کیا صرف چار شادیوں پر ہی یاد ہے۔

  باقی سنتوں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کیا۔


بیٹیاں اکثر اس لیے باپ سے فرمائشیں نہیں کرتی تھی کہ پہلے ہی اسکی شادی کا خرچ اور جہیز بناتے بناتے اسکا باپ مقروض ہونے والا ہوتا ہے


منگنی کے بعد اکثر لڑکے والے آتے رہتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے کرتے اس کی ماں تھک چُکی ہوتی ہے مگر پھر بھی خالی جیب کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہر آنے والے کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھلاتی اور خوش کر کے بھیجتی ہے


  کبھی نند ، کبھی جیٹھانی ، کبھی چاچی ساس تو کبھی مامی ساس ہر رشتے کو یکساں احترام دلانے کے لیے وہ الگ الگ ٹولیوں میں آتے رہتے۔


ایسے میں شام کو اسکے بابا جب گھر آتے تو انکے پاس خاموش بیٹھ  کر انکا سر دبانے لگتی ہیں،  جیسے باپ کو ہمت دلا رہی ہو یا یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ سوری بابا میری وجہ سے آپ قرض لینے پر مجبور ہیں۔


شادی کی تاریخ فکس کرنا ایک تہوار بن چکا ہے، لڑکی والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ آئیں گے، انکے کھانے پینے کے علاوہ سب کیلیئے کپڑے خرید کر رکھنے ہوتے ہیں چاہے 5 لوگ ہوں یا 50

پھر بارات پر لڑکی کے باپ کو 10 بندے گھیر کر پوچھتے ہیں، جی کتنے بندے آ جائیں کیا بولے گا وہ

اگر 100 کہے تو جواب ملتا ہے 200 تو ہمارے اپنے رشتہ دار ہیں پھر محلے دار لڑکے کے دوست کچھ نہیں تو 400 افراد تو مجبوراً لانے پڑیں گے ساتھ.

اب لڑکی کا باپ کیا کہے مت لانا میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔


پھر فرسودہ نظام میں بارات والے دن لڑکی کے ساتھ 2 دیگیں کھانا بھی بھیجنا ہے، جہیز بھی خود بنا کر چھوڑ کر آنا ہے 


لو مسلمان پاکستانیو.! یوں ہوتی ہے ایک بیٹی گھر سے رُخصت اب اس کا آگے سسرال میں کیا مول اور وزن ہوگا  یہ اکثر ہم سنتے ہی رہتے ہیں۔


ہاتھ جوڑ کر التجا ہے  مت کریں ایسا توڑ دیں یہ رسمیں جن سے ایک باپ توبہ کرے کہ اسکو بیٹی نہ پیدا ہو.


  چھوڑ دیں یہ ہندوانہ رسمیں کہ بیٹیاں ماں باپ کی غربت دیکھ کر اپنی شادی کا خیال ہی دل سے نکال دیں


اپنے بیٹے کیلیئے سادگی سے نکاح کر کے بہو لا کر دیکھیں، اپنی بیٹی بھی یونہی سادگی سے رخصت کرکے دیکھیں، سکون ملے گا.

یقین مانیں کہ یہ بیٹیاں حضرت فاطمہ (رض) جتنی لاڈلی نہیں ہیں، نا یہ بیٹے حضرت علی(رض) جتنے محترم ہیں 



آنے والی نسل کہ زندگی آسان بنا دو اور اسلامی ثقافت کے مطابق نکاح کرو اور سادگی کو اپنائیں 


لڑکوں سے کہتاہوں  جہیز مت لو  

اپنی ہونے والی بیٹی پر ترس کھانا جو کل کو تمہارے خراب حالات سے اتنی ہی پریشان ہوسکتی ہے جتنی آج تمہاری ہونے والی بیوی پریشان ہے. 


اللہ نے تمہیں مرد پیدا کیا ہے، 

کما کر اپنی بیوی کو خوشیاں خرید کر دینا. 


اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

امجد چوہدری 

عرف وطن کا سپاہی 


3 comments:


  1. موجودہ ماحول میں بہت اچھی تحریر ہے۔

    اور اس وقت یہ معاملہ بہت سی پیچیدگیوں کا باعث ہے

    ReplyDelete
  2. ماشاءاللہ جی
    اللہ پاک ہمیں ہدایت دے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.