Header Ads

Breaking News
recent

ہم توبہ پہ قائم کیوں نہیں رہتے

 


ہم توبہ پر قائم کیوں نہیں رہتے:



ہماری توبہ ٹوٹنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ہمارے سر پر کچھ گناہ ہوتے ہیں جو ہمیں بے چین رکھتے ہیں، ہم کوئی نیکی کرنے کے لئے آگے بڑھیں تو وہ ہمیں روک لیتے ہیں

ہمارے یہ گناہ ہمیں اتنا تنگ کرتے ہیں ہم سوچتے ہیں یہ گناہ چھوڑ دیں اور توبہ کر لیں ہم کافی دن شش و پنج کا شکار رہ کر، آخر توبہ کر لیتے ہیں، اور ہمیں خوشی بھی ہوتی ہے لیکن ان گناہوں کی یادیں ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتیں اور ہم توبہ کے بعد بھی اپنے آپ کو گنہگار سمجھنے سے باز نہیں آتے ہمیں محسوس ہوتا ہے ہم منافقت کر رہے ہیں، ہم اتنے نیک نہیں ہیں جتنے نظر آنے لگے ہیں 

ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے چیزوں کے رخ اسی طرف ہیں، جس طرف پہلے تھے اور یہ کہ ایک دن ہماری منافقت کا بھانڈا پھوٹ جائے گا اور ہم خواہ مخواہ شرمندہ ہوں گے جیسے نیک کاموں نے ہمیں قبول ہی نہیں کیا ہمیں اپنے اندر کوئی تبدیلی ہی محسوس نہیں ہوتی ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے خود ایک دن ہمیں منافق ثابت کر دینا ہے ہم جسے خوش کرنے کے لئے گناہوں سے توبہ کر کے آئے تھے، ہمیں لگتا ہے وہ خود ہمیں گناہگار ثابت کرنے پر بضد ہے

اور ہوتا یہ ہے کہ ہم ایک دن چپکے سے اپنا گناہ دوبارہ اختیار کر لیتے ہیں 

بات یہ ہے کہ گناہ ہمارے اندر راستے بنا چکے ہوتے ہیں ہمارے دل و دماغ کے حصے بن چکے ہوتے ہیں جتنی دیر آپ کسی گناہ میں مبتلا رہے ہوں کم از کم اس سے دو گنا عرصہ آپ کو نیکی میں گزارنا چاہئے اگر آپ بیس سال پرانے گناہ کو ایک دو ہفتے میں مٹانا چاہتے ہیں تو آپ غلطی پر ہیں آپ نے جن حالات میں کوئی گناہ سرزد کیا ہوتا ہے ان حالات میں وہ گناہ پھر سامنے آ جاتا ہے، جیسے توبہ ہی نہ کی ہو

توبہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو گناہ کی کشش محسوس نہیں ہو گی، اور نہ توبہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو مزاحمت نہیں کرنی پڑے گی آپ کو بہکاووں سے لڑائی کرنا ہوتی ہے، اور بعض دفعہ کئی کئی سالوں تک یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ نیکی کی گنجائش پیدا کر رہے ہوتے ہیں اپنے اندر نیکیوں اور گناہوں کا پورا پورا وجود ہوتا ہے بعض دفعہ ہمارے دل و دماغ میں گناہوں کی اس قدر بھرمار ہو ہوتی ہے کہ اس میں کسی نیکی کا ٹھہرنا محال ہو جاتا ہے اس صورت میں توبہ پر قائم رہنا بڑی مردانگی کا کام ہوتا ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ کو سمجھنے اور پکی توبہ کرنے کی ہمت عطا فرمائے، آمین


صابر حسین


@SabirHussain43



No comments:

Powered by Blogger.