جاہل لبرلز اور نیا فتنہ
نیا فتنہ اور جاہل لبرلز
آج کل کچھ لبرلز اور دانشور بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ .
کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔
مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دے دو۔
حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے. کسی غریب یا حقدار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھالو ۔
تبلیغ میں نکلنے سے بہتر ہے کہ
کسی لاچار مریض کو دوا فراہم کر دو۔
تو کیا یہ قرآن کی نافرمانی نئ کر رہے ، قرآن میں آیت ہے
) وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo
(آل عمران، 3/ 104)
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔
اور پھر آگے لبرلز کیا کہہ رہیں
مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ ،کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔
یاد رکھیں۔
دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں.
بلکہ عین جہالت ہے۔
اگر تقابل ہی کرنا ہے.تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو !
15 ، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو. ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔
مذہب پے ہر بات کیوں لے جاتے؟
50 ، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو، ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍؤ... ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ،
ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو.
ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ
یہ کروڑوں کی گاڑیاں ، لاکھوں کے موبائل فونز، اورہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت،ان دانشوروں کو،
غرباء، فقراء، بےآسرا، بےسہارا لوگوں کو،
یاد رکھنے کی زحمت گوارا کیوں نہیں ہوتی۔۔۔؟
آخر یہ چڑ کعبہ، مسجد، حج وعمرہ، اور تبلیغ، ہی سے کیوں ہے؟
ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے.
فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں،
تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں۔
ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتیں؟؟؟
اک بار ضرور سوچیں.
کیا
انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ہےیا کہ فرائض کا ترک؟
یہ ہم لوگوں کا حق ہے جو شعور رکھنے والی نوجوان نسل ہے کہ ہم لوگ اس فتنہ سے سادہ لوح مسلمانوں کو بتائیں کہ یہ لبرلز طبقہ بس ہمیں دین سے گمراہ کرنے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا اور کچھ زمانے کے تھکے لوگ اپنا حوصلہ سمجھ کے انکو پسند کرتے ،
ہمارے دین میں مایوسی گناہ ہے مشکل کے آگے آسانی ہے اس طرح کے لوگوں پے یقین مت کریں اور اپنے ایمان پے ثابت قدم رہیں اور
یہ ہماری ایک مذہبی اور معاشرتی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے لوگوں کی فتنہ پرور باتیں دوسروں تک بھی پہنچائیں تاکہ وہ بھی اپنا دین دُنیا محفوظ رکھ سکیں


No comments: