بریڈمن کون تھا
بانگِ درا شاعرِ مشرقؒ کی شاعری کی پہلی کتاب ہے جو 1924 میں شائع ہوئی۔ اس شہرہ آفاق اور لازوال کتاب کا دیباچہ سر عبدالقادر نے لکھا جو اپنے زمانے کے مشہور صحافی اور قانون دان تھے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جج بھی رہے۔ انہوں نے دیباچے میں ایک بات ایسی لکھی جو آج تک مشہور و معروف ہے اور جس پر کئی محققین بات کر چکے ہیں۔ وہ جملہ کچھ یوں ہے:
"اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اللہ غالؔب کو اردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا اس نے ان کی روح کو عدم میں جا کر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کسی جسد خاکی میں جلوہ افروز ہو کر شاعری کے چمن کی آبیاری کرے اور اس نے پنجاب کے ایک گوشہ میں جسے سیالکوٹ کہتے ہیں دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبال نام پایا۔"
اسی ترتیب پر اگر یہ کہا جائے کہ ڈونلنڈ بریڈ مین کا کوئی اور روپ ظہیر عباس کی شکل میں دنیا میں رونما ہوا، چاہے بریڈمین کی زندگی میں ہی سہی، تو یہ ہرگز غلط نہ ہوگا۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے کریں کہ آج تک دنیائے کرکٹ میں کیسا کیسا عظیم کھلاڑی پیدا ہوا، مگر اگر کوئی دوسرا بریڈمین ہوا تو وہ صرف اور صرف ظہیر عباس ہیں۔
پاکستان کرکٹ کے کچھ بلے باز ایسے ہیں جن کے ذکر کے بنا پاکستان کرکٹ کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ محمد یوسف، سلیم ملک، مصباح الحق، اظہر علی، فواد عالم، رمیز راجہ، مدثر نذر، محسن حسن خان اور ماجد خان ایسے ہی بلے باز ہیں۔ تاہم کچھ بلے باز پاکستان نے ایسے بھی پیدا کیے، جن کا نام لیے بنا، دنیائے کرکٹ میں بلے بازی کی تاریخ مرتب نہیں ہو سکتی۔ سید ظہیر عباس کرمانی بھی ایسا ہی ایک شان دار نام ہے۔ ان کے کارناموں پر دیوانوں کے دیوان کہے جا سکتے ہیں۔
سنہ 1971 میں ظہیر عباس نے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا تو اس دور کے دانش وروں نے کہا کہ یہ لڑکا کبھی اچھا کھلاڑی نہیں بن سکتا۔ اس کی تکینک ناقص ہے جو کہ تیز گیند بازوں کے خلاف نہیں چل سکتی۔ اس زمانے میں سب گیند باز تھے ہی فاسٹ بولرز۔ سپنر تو ڈھونڈے سے نہ ملتا۔ اس لیے فاسٹ بولر کے سامنے ناکام ہونے کا مطلب یہی ہے کہ آپ کرکٹ کھیل ہی نہیں سکتے۔ لیکن ظہیر نے جو کارکردگی اپنی پہلی ہی سیریز میں دکھائی، وہ دانش وروں کا منہ بند کرنے کے لیے کافی تھی۔ شاید اس سیریز کے بعد دانش وروں نے کہا ہو کہ ایک سیریز میں چل کر کیا کمال کیا، واقعی اچھا بلے باز ہے تو پورا کیریئر اچھا کھیل کر دکھائے۔ ظہیر نے یہ بات بھی پوری کر دی۔
اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میچ میں انگلستان کے خلاف انگلستان میں ایجبسٹن کے تاریخی میدان پر 274 رنز کی شان دار اننگز کھیل کر ظہیر نے اپنی آمد کا اعلان کیا۔تمام انگریز گیند باز اس نئے لڑکے کے سامنے بے بس نظر آئے۔ ظہیر نے 9 گھنٹے دس منٹ تک انگریزوں کو اپنی وکٹ سے محروم رکھا۔ اس روز انہوں نے اپنے باپ دادا کو خوب کوسا ہوگا کہ وہ آخر کاہے کو برِصغیر میں کرکٹ کا کھیل متعارف کروا آئے۔ سنہ 1974 میں اوول کے میدان پر ایک اور ڈبل سنچری داغ کر ظہیر نے انگریزوں کو مزید ہزیمت سے دوچار کیا۔ وہ یہ کام تسلسل سے ساری زندگی کرتا رہا۔ فارمیٹ ٹیسٹ ہو یا ون ڈے، ظہیر انگلستان کی پٹائی کرنے سے کبھی باز نہ آیا۔ تمام اعداد و شمار اسی بات پر دال ہیں۔
ظہیر کی بلے بازی کی سب سے عمدہ بات اس کی ٹائمنگ تھی۔ کلائیوں کا استعمال اس قدر عمدگی سے کرتا کہ دیکھنے والے اش اش کر اٹھتے۔ خوب صورت بلے بازی کرنے کی بات ہو تو کین ولیمسن اور محمد یوسف ظہیر عباس کے آگے پانی بھرتے نظر آئیں۔ ظہیر کی فیلڈز کے درمیان سے گیپ نکالنے کی خوبی لاجواب تھی، جو کہ یقینی طور پر ایک بہت منفرد بات تھی۔ظہیر عباس کی بلے بازی کے مداح نہ صرف برِصغیر بلکہ پوری دنیا میں پائے جاتے۔ بلے بازی کی آڑ میں شاعری کرنے کا سلسلہ شاید ظہیر سے ہی شروع ہوا۔
ظہیر کا کھیل اس قدر شان دارتھا کہ وہ فرنٹ فٹ اور بیک فٹ پر ایک جیسا عمدہ کھیلتا تھا۔ ایسا شان دار امتزاج بہت کم بلے بازوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جن میں ہوتا ہے، وہ پھر ظہیر عباس ہی ہوتے ہیں۔ ان کے ریفلیکسز اس قدر شان دار تھے کہ وہ ایک ہی شاٹ میں فرنٹ فٹ اور پھر اسی سٹروک پر بیک فٹ پر جا کر گیند کو باؤنڈری تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے۔
یہ بات بھی مدِ نگاہ رہے کہ پاکستان کے بہت سے نامی گرامی بلے باز بھی کبھی آسٹریلیا کے خلاف اچھا ریکارڈ نہیں رکھ سکے۔ آسٹریلیا میں جا کر کھیلنا ہو تو معاملہ مزید خراب پایا جاتا ہے۔ تاہم ظہیر عباس اس معیار پر بھی ہر طرح سے عظیم ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف تین میچز کی ٹیسٹ سیریز میں ظہیر نے قریب ساڑھے تین سو رنز بنائے، جہاں ظہیر کی اوسط 57 سے زائد رہی۔
انگریزوں کے علاوہ جس ٹیم سے ظہیر نے سب سے زیادہ محبت کی، وہ بھارت کی تھی۔ بھارت کے گیند باز ظہیر کے سامنے کلب لیول کے گیند باز نظر آتے۔ ظہیر کی 12 میں سے 6 ٹیسٹ سنچریاں بھارت کے خلاف بنائی گئیں۔ سنہ 1978 کی سیریز میں ظہیر عباس نے 5 اننگز میں 583 رنز بنائے۔ اسی شان دار فارم کا تسلسل 83-1982 کی سیریز میں رہا۔ ڈبل سنچری سے آغاز کرنے کے بعد جب ظہیر نے یکے بعد دیگر دو مزید سنچریاں بنائیں تو بھارتی گیند باز انگریزی محاورے کے مطابق مکمل طور پر سمندر پر تھے۔ مذکوہ ڈبل سنچری ظہیر عباس کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں سوویں سنچری تھی۔ کیا کہنے بھئی!
وقار یونس اور کچھ دیگر گیند بازوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بہت سے بلے بازوں کے کیریئر یا ختم کیے یا بننے ہی نہ دیے۔ظہیر نے کچھ ایسا ہی بھارتی سپنرز کے ساتھ کیا۔ بشن سنگھ بیدی، دلیپ جوشی (جنہیں چھکا لگا کر جاوید میاں داد نے ان کے کمرے میں گیند پہنچانی تھی) اور ایراپلی پرسنا کی ظہیر کے ہاتھوں وہ درگت بنی، کہ وہ کبھی اس کے شکرگزار نہ ہوں گے۔ معین اختر مرحوم نے ظہیر عباس کا انٹرویو کرتے ہوئے اس بات کاتذکرہ کیا کہ بھارتی کھلاڑی ظہیر عباس کو "ظہیر، اب بس" کہا کرتے تھے۔ اس بات کا اعتراف دنیا کے بہترین ٹیسٹ اوپنر سنیل گواسکر نے بھی کیا۔
ٹیسٹ کرکٹ کے علاوہ ظہیر کے مزید دو حوالے بہت عمدہ ہیں۔ ظہیر عباس کو ایشیا کا بہترین فرسٹ کلاس کھلاڑی کہا جائے تو ہرگز بے جا نہ ہوگا۔ 459 فرسٹ کلاس اننگز میں ظہیر نے قریب 35 ہزار رنز بنائے، جن میں 108 سنچریاں اور 158 نصف سنچریاں بنائیں۔ دنیا آج ٹنڈولکر کی سو انٹرنیشنل سنچریوں پر جھومتی ہے۔ ظہیر عباس نے تو اس سے بھی بڑا کارنامہ کیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 100 سنچریاں بنانے کا کارنامہ اب تک پچیس بلے باز سر انجام دے چکے ہیں۔ ظہیر کے علاوہ یہ کام کسی اور ایشین بلے باز نے نہیں کیا۔ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ان پچیس بلے بازوں میں بلے بازی کی اوسط کے حساب سے ظہیر کا نمبر نواں ہے، یعنی صرف آٹھ بلے بازوں نے ان سے بہتر اوسط سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز کیے۔ ان آٹھ میں سے بھی ڈان بریڈمین کے علاوہ سب کی اوسط ظہیر کی اوسط سے معمولی طور پر ہی زیادہ تھی۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ظہیر کا ایک منفرد کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے آٹھ مرتبہ میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائیں، جو کہ آج تک ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ مزید یہ کہ ان میں سے چار موقعوں پر ظہیر نے ڈبل سنچری کے ساتھ سنچری بنائی۔
انگریز گیندبازوں سے خصوصی محبت کا ثبوت کاؤنٹی کرکٹ میں بھی دیا۔گلوسسٹرشائر کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ اس دور کے حساب سے کچھ غیر مقبول تھا، مگر اس فیصلے کو ظہیر نے رنز کا انبار لگا کر درست ثابت کیا۔ ظہیر نے تیرہ سیزنز کھیلتے ہوئے ہر سیزن میں 1000 سے زائد رنز بنائے اور کل ملا کر ظہیر کے رنز 16 ہزار سے زائد تھے۔ جو بندہ صرف کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے ہوئے 16 ہزار رنز کرے، وہ عظیم نہیں تو اور کیا ہے؟
ظہیر کا دوسرا عمدہ حوالہ ون ڈے کرکٹ ہے۔ ظہیر کو بلاشبہ پاکستان کا پائنیئر ون ڈے بلے باز کہا جا سکتا ہے۔ ظہیر کا کلائیوں کا استعمال چوں کہ بہت خوب تھا، اور پھر گیپ ڈھونڈے میں مشاق تھا، اس لیے اس کے بہت سے رنز چوکوں کی صورت میں بنے۔ اسی وجہ سے ظہیر عباس کا ون ڈے کرکٹ میں سٹرائیک ریٹ لگ بھگ 85 رہا۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں سٹرائیک ریٹ زیادہ ہو تو اوسط عمومی طور پر کم ہوتی ہے، مگر ظہیر کے معاملے میں ایسا نہ تھا کہ ان کی ون ڈے کرکٹ میں اوسط 48 کے قریب ہے۔وہ کھلاڑی جو 1985 میں ریٹائر ہو جائے، اس کے لیے یہ اعداد وشمار ہر معیار پر شان دار ہیں۔ سٹرائیک ریٹ اور اوسط کا ایسا تال میل تو شاید نوے کی دہائی اور مابعد میں بھی بہت کم دیکھنے کو ملا۔ پونٹنگ، لارا، سنگاکارا، ہیڈن – ان سب نے ظہیر کے بعد کرکٹ کا آغاز کیا اور ان سب کے ون ڈے سٹرائیک ریٹ ظہیر عباس سے کم ہیں۔ دور کا فرق بھی سامنے رکھیں، اور ظہیر عباس کو شان دار داد دیں!
اعداد وشمار پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ظہیر عباس کا ریکارڈ انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف نہایت شان دار ہے، البتہ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی کارکردگی کسی طور مثالی نہیں۔ تاہم اس بات کا گلہ ظہیر عباس نے ون ڈے کرکٹ میں خوب دور کیا، جہاں ان کی بلے بازی کی اوسط دنیا کی ہر ٹیسٹ پلیئنگ ٹیم کے خلاف 41 سے زیادہ ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ظہیر عباس کے ریفلیکسز کم زور ہوئے اور 1985 میں متنازعہ حالات میں ظہیر نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔ بہت سے دیگر پاکستانی کرکٹرز کی طرح ظہیر بھی شایانِ شان الوداع حاصل نہ کرسکے۔ کچھ میچز میں میچ ریفری کے فرائض سر انجام دینے کے علاوہ ظہیر پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر بھی رہے۔ سنہ 2015 میں ظہیر عباس وہ تیسرے کرکٹر بنے جو آئی سی سی کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ پچھلے برس ظہیر عباس کو آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
سال گرہ مبارک سر، دنیا کا کوئی بلے باز آپ کی خاک برابر بھی نہیں پہنچ سکتا!


No comments: