فلسفہ خاص وعام
دُور اندیش لوگوں میں شمار ہونیوالہ عجیب خلقت انسان نہ پروان نہ ڈھلوان کی پہچان سیدھا راستہ منزل کی جانب گامزن کیا سبق اور کیا مقصد چلتا ہوا مسافر راستوں میں حائل رکاوٹیں اور دُدشواریاں عجیب کئ قسمی انسان علیحدہ علیحدہ نظریات اور تفرقات ہزاروں میں سے ایک اچھا بات مقصد سینکڑوں سیڑھی کے پہلے قدم پر لڑھکنے والے فلاسفر نہ مقصد نہ منزل نہ زمین اور نہ آسمان نہ چاند نہ ستارے ان کے خواب میں۔
ہزاروں سال پہلے دورانِ ارتقائ مراحل آدمیوں کی شناخت کا پیمانہ نہ ہونے کے برابر چند خامیوں کے باعث انقلابِ شخصیت کا زوال،یکساں نظامِ زندگی کا مفلوج ہونا لیکن راستوں میں چراغ سے روشنی کی امید دیا سلائ کی وقت کے ساتھ تبدیلی، پھولوں،پرندوں سے جادوئی آواز ان سب کے درمیان اکیلا مسافر اصول و قوانین کاپابند۔
تفرق شخصیت کے پہچان کے اصولوں کی زوال پزیری۔چراغوں سے آتی روشنی سے راستوں میں امید کی کرن کا روشن ہونا۔تفرقِ شخصیت کو بیان کرنے کے بے شمار اصولوں کا موجود ہونا۔تمام شعبہ جاتِ زندگی میں موجود پہچانِ شخصیت میں نظم و ضبط،اصول و ضوابط سے مضبوط دیوار قائم کرنا عقلمندی اور دانشمندی سے آگے پہچانا۔
مسافر کا پیدل چلنا یا دوڑ کے جانا اپنی اندر پِنہاں چند خصوصیات کے باعث خوابوں کی تعبیر کا اپنے حوصلوں کے اوپر منسلک کیا جانا دستورِ زندگی میں شامل۔
آگے راستہ تاریک ہونے کی صورت میں قریبِ منزل مسافر کے غیر یقینی تاثرات سے خوشنودگی اصل حقیقت کو بیان کرنے کے مترادف اپنی آراء قائم کرنا۔راستوں کی ہمواری،خوشنودگی،حائل درختوں،جڑی بوٹیوں،،جانوروں،پرندوں کی آواز سے سیرابی وقت اور رفتارِ سفر میں کمی کا باعث بننا اپنےاوپر منحصر نوعیتِ موسم کے پیش نظرتفریق ممکن نہیں۔مناسب وقت و ماحول کا میسر ہونا یا انتظار کرنا منزل کیلئے موزوں۔
فلسفہ عام میں استقامت کا فُقدان۔اصول و ضوابط سے روگردانی راستہ دیکھنے میں نظر و عقل کا کمزور پڑ جانا۔دُشوار۔نا ہموار۔خوف و اضطراب۔سے سیراب راستہ چلنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنا اور راستہ تبدیل کر لینا عام فعل۔
فلسفہ خاص اپنے اندر کئ ناقابل یقین داستانوں۔پُراثرار سرگزشتُوں۔سے تکمیل دورانِ حالت ناقابلِ یقین فلسفہ عام کے لوگ سُننے میں قوتِ عقل میں کمی محسوس کرنا۔عام و خاص میں تفریق شخصیت تک محدود نہیں بلکہ اس زُمرے میں ہر فعلِ زندگی،اصول و قوانین،سوچنے تک شمار کرنا۔موسم کی اثر اندازی کو زیر بحث لاتے ہوئے خود سے خود کو تسلیم کروانا۔خود کو پَرکهنا۔جدا کرنا عجیب فعل لیکن بمطابق وقت اچھا فعل۔
ایک قدم دُور منزل سے پہلے راستوں میں موجود چراغوں کی روشنی میں اضافہ کرنا۔پھولوں کی خوشبو میں اضافہ۔سب سے مشکل مرحلے میں سفر میں تیزی۔شخصیت پر منحصر نہ ہونا خودکار منزلِ مقصود عام سے خاص میں تبدیلی سنہرے اوراق کو جنم دیتی ہے۔۔
تحریر: شہاب ثاقب
ٹوئٹر: @ShahabSaqibKhan


No comments: