بے چاری مغربی عورت
بیچاری مغربی عورت
تحریر: افتخار حسین
@I_H_101
تاریخ پہ نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عورت نے مختلف تہزیبوں اور ادوار میں عجیب و غریب رویوں کا سامنا کیا ہے۔بشمول قدیم یورپ دنیا بھر کے علماء عرصہ دراز تک سر کھپاتے رہے کہ کیا عورت میں بھی روح ہوتی ہے؟ اگر اس میں روح ہوتی ہے تو کیا انسانی روح ہے یا حیوانی روح؟ اگر انسانی روح ہے تو مرد کے مقابلے میں اس کا اصل معاشرتی مقام کیا ہے؟ کیا عورت پیدائشی طور پر مرد کی غلام ہے یا غلام سے اسکا مقام کچھ اونچا ہے؟ غرض قدیم یونانی، رومن اور ایرانی تہزیبوں نے بھی عورت کو ناپاک اور کمتر گردانا۔ یورپ میں پانچویں صدی قبل مسیح سے دسویں صدی تک عورت کو بنیادی طور پر انسان ہی تصور نہیں کیا گیا۔ وراثت کا حقدار صرف بیٹا تھا اسکے بعد پوتا تھا۔ بیٹی کا حق پوتے کے بعد آتا۔ آج کے سپر پاور امریکہ میں بھی انیسویں صدی تک عورت اپنے ووٹ دینے کے بنیادی حق کیلئے ہاتھ پاوں مار رہی تھی۔
دوسری طرف انسانی تاریخ میں ایسے شواہد بھی ملتےہیں کہ انسان جب خدا کے وجود کو جاننے میں بیتاب تھا تو جہاں اس نے سورج چاند ستاروں اور آگ کے شعلوں میں اسکو ڈھونڈنے کی کوشش کی وہیں عورت کو پوجنے والے بھی اپنے اس نظریے کے ساتھ وارد ہوئے کہ چونکہ پیدا کرنا خدائ وصف ہے پس عورت ہی خدا ہے۔ ان کے ہاں یہ نظریہ اتنا ہی پکا ٹھہرا جتنا کہ سورج ,چاند اور ستاروں کو خدا ماننے والوں کا تھا۔ عورت کو دیوی ماننے کا نظریہ ہندومت کے پیروکاروں نے خوب پروان چڑھایا اور آج بھی اس کے ماننے والے موجود ہیں۔ ہندو مت نے خدا کو ایک جنس مان کر یہ دعویٰ بھی کر ڈالا کہ خدا مونث ہے اور انکی یہی سوچ عورت کو پوجنے اور دیوی کا رتبہ دینے کا باعث بنی۔
خالق کائنات کی طرف سےانسان کی راہنمائ اور راہ راست دکھانے کیلئے وقتا" فوقتا" اپنے پیامبر بھیجنے کا جو سلسلہ جاری رہا اسکی بدولت عورت کو ایک جنس سمجھا جانے لگا۔ نہ صرف ماں،بہن،بیٹی اور بیوی مانا گیا بلکہ اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق اپنی غیرت اور حمیت کا نشان بھی بنا لیا۔ پھر خالق کائنات نے اپنی مخلوق کی حتمی راہنمائ کیلئے نبی آخرالزماں کو ایسی کتاب اور دین کے ساتھ بھیجا جسے مکمل ضابطہ حیات کہا گیا۔ جہاں دوسرے دینی اور دنیاوی معاملات کو روز قیامت تک طے کر دیا گیا وہیں عورت کے مقام اور حیثیت کو بھی واضح کر دیا گیا۔ مرد کو عورت کا نگہبان بنا کر دائمی تحفظ دے دیا گیا۔ شریعت محمدی نے عورت کو وہ مقام اور رتبہ دیا جسکا تصور بھی دوسرے معاشروں بشمول خطہ عرب میں ناممکن تھا۔ جوں جوں اسلام کی تعلیمات کی کرنیں پھیلتی گئیں عورت کے مقام اور رتبے میں اضافہ ہوتا رہا۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ عورت کو صحیح معنوں میں ایک انسان ہی دین اسلام کی تعلیمات کے بعد مانا گیا۔
جدید دور میں مغرب نےاپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کیلئے عورت کو اہک ہتھیار بنا کر ایک بار پھر عورت سے زیادتی کی۔ عورت کو ایک جنسی ہتھیار بنا دیا گیا۔ اپنے فائدے اور مقاصد کے حصول کیلئے عورت کے جسم کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس ہتھیار کا شکار زیادہ تر مشرق کے کرتا دھرتا رہے۔ اسی ہتھیار نے سلطنتیں اور بادشاہتیں کمزور اور بالاخر زمیں بوس کیں۔ مغرب کا مرد یہ سب کچھ کر کے اپنے مقاصد تو حاصل کر گیا اور عورت اور مرد کی برابری کا سبق پڑھا کر مرد نے اپنی جان چھڑا لی اور عورت نے بھی برابری کا تمغہ سجا کر خوشی سے اپنی تباہی اور بربادی کو قبول کر لیا اور اپنے آپ کو خود مختار تصور کر لیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ عورت ہی نہیں رہی۔ مرد سے برابری کا فریب اسے وہ سب کچھ کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو اسکے لئے مرد نے کرنا تھا۔ قارئین محترم کتنی عجیب بات ہے کہ مغربی عورت کے ساتھ تو زیادتی مغربی مرد نے کی اور اسکے مقام و مرتبے کو خاکستر کر دیا اسکے ماں بہن بیٹی اور شریک سفر جیسے خوبصورت رشتوں کو پائمال کر کے سیکس سمبل بنا دیا لیکن مشرقی معاشرے بالخصوص پاکستان میں مغرب کے برعکس یہاں کا مرد عورت کو ان تمام قباعتوں سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے جسکا شکار ہو کر مغربی عورت اپنا آرام، سکون، حیثیت اور عزت و آبرو کھو بیٹھی ہے لیکن عورت کے حقوق کے ڈھکوسلے کے نام پر کچھ نام نہاد لبرل یہاں کی عورت کو ان المیوں سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جسکا شکار بیچاری مغربی عورت ہے۔


No comments: