Header Ads

Breaking News
recent

تخلیقِ حضرت حوا


جب حضرت آدم علیہ السلام کو خداوند قدوس نے بہشت میں رہنے کا حکم دیا تو آپ جنت میں تنہائی کی وجہ سے کچھ ملول ہوئے تو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ پر نیند کا غلبہ فرما دیا اور آپ گہری نیند سو گئے تو نیند کی حالت میں آپ کی بائیں سب سے چھوٹی پسلی کو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے بدن سے جدا فرما کر اس ہڈی کی جگہ گوشت پیدا فرما دیا۔ پھر اس پسلی کی ہڈی سے حضرت حوا کو پیدا فرمایا۔ اسی لئے ہر مرد کے دائیں طرف اٹھارہ پسلیاں ہیں اور بائیں طرف ایک کم یعنی سترہ پسلیاں ہیں۔
پسلی کے جدا ہونے سے حضرت آدم علیہ السلام کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی بلکہ آپ کو احساس بھی نہیں ہوا کہ میری ایک پسلی جدا ہوگئی ہے جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک نہایت خوبصورت اور حسین و جمیل عورت آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ تم کون ہو؟ اور کس لئے یہاں آئی ہو؟ تو حضرت حوا نے جواب دیا کہ میں آپ کی بیوی ہوں اور اللّٰہ عزوجل نے مجھے اس لئے پیدا فرمایا ہے کہ آپ کو مجھ سے انس و سکون قلب حاصل ہو اور مجھے آپ سے انسیت اور تسکین ملے اور ہم دونوں ایک دوسرے سے مل کر خوش رہیں اور پیار و محبت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور خداوند قدوس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں۔ (صاوی ج ا ص 22)

قرآن مجید میں چند مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت حوا کے بارے میں ارشاد فرمایا مثلاً۔

ترجمہ کنزالایمان:- " اور حضرت آدم سے ان کی بیوی کو پیدا فرمایا اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پیدا فرمایا".

درسِ ہدایت
حضرت آدم و حوا علیہما السلام کی تخلیق کا واقعہ مضامین قرآن مجید کے ان عجائبات میں سے ہے جس کے دامن میں بڑی بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کے گوہر آبدار کے انبار پوشیدہ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا اور حضرت حوا کو ان کی پسلی سے پیدا فرمایا۔ قرآن کے اس بیان سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خالقِ عالم جل جلالہ نے انسانوں کو چار طریقوں سے پیدا فرمایا ہے۔

اول:- یہ کہ مرد و عورت کے ملاپ سے جیسا کہ عام طور پر انسانوں کی پیدائش ہوتی ہے چنانچہ قرآن مجید میں صاف صاف اعلان ہے کہ : انا خلقنا الانسان نطفته امشاج۔ یعنی ہم نے انسان کو مرد و عورت کے ملے جلے نطفہ سے پیدا فرمایا ہے۔

دوم:- تنہا مرد سے ایک انسان پیدا ہوا اور وہ حضرت حوا ہیں کہ اللّٰہ عزوجل نے ان کو حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا۔

سوئم:- تنہا عورت سے ایک انسان پیدا ہوئے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو پاک دامن کنواری حضرت مریم کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

چہارم:- بغیر مرد و عورت کے بھی ایک انسان کو خداوند قدوس نے پیدا فرما دیا اور وہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں کہ اللّٰہ عزوجل نے ان کو مٹی سے بنایا۔

ان واقعات سے مندرجہ ذیل اسباق کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ۔
خداوند قدوس ایسا قادر و قیوم اور خلاق ہے کہ انسانوں کو کسی ایک ہی طریقے سے پیدا فرمانے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ وہ جس طرح چاہے انسانوں کو پیدا فرما دے چنانچہ مذکورہ بالا چار طریقوں سے اس نے انسانوں کو پیدا فرما دیا جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی عظیم الشان خلاقیت کا نشان اعظم ہے۔

ممکن تھا کہ کوئی مرد یہ خیال کرتا کہ اگر ہم مردوں کی جماعت نہ ہوتی تو تنہا عورتوں سے کوئی انسان پیدا نہ ہوسکتا تھا۔
اسی طرح عورتوں کو یہ گمان ہوتا کہ اگر ہم عورتیں نہ ہوتیں تو تنہا مردوں سے کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔
اسی طرح مرد و عورت دونوں مل کر یہ ناز کرتے کہ اگر ہم مرد و عورت کا وجود نہ ہوتا تو کوئی انسان پیدا نہیں ہوتا۔
تو اللّٰہ تعالیٰ نے چاروں طریقوں سے انسانوں کو پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں دونوں کا منہ بند کر دیا کہ دیکھ لو! ہم ایسے قادر و قیوم ہیں کہ حضرت حوا کو تنہا مرد کے حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا فرما دیا لہٰذا اے عورتوں! تم یہ گمان مت رکھو کہ اگر عورتیں نہ ہوتیں تو کوئی انسان پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرما کر مردوں کو یہ تنبیہ فرما دی کہ اے مردوں! تم یہ ناز نہ کرو کہ اگر تم نہ ہوتے تو انسانوں کی پیدائش نہ ہوسکتی تھی دیکھ لو! ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تنہا عورت کے شکم سے بغیر مرد کے پیدا فرما دیا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے مٹی سے پیدا فرما کر عورتوں اور مردوں دونوں کا منہ بند کر دیا کہ اے عورتوں اور مردوں! تم کبھی بھی اپنے دل میں یہ خیال نہ لانا کہ اگر ہم دونوں نہ ہوتے تو انسانوں کی جماعت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ دیکھ لو! حضرت آدم علیہ السلام کے نہ ماں ہیں نہ باپ بلکہ ہم ان کو مٹی سے پیدا فرما دیا۔
حوا پہلی عورت، حضرت آدم کی زوجہ اور نسل بشر کی مادر گرامی ہیں۔ یہودی، مسیحی مقدس کتب میں آپ کا نام بیان ہوا ہے لیکن قرآن میں حوا کا نام ذکر نہیں ہوا صرف آدم کی زوجہ کے عنوان سے آپ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی تفسیری، تاریخی روائی کتابوں میں حوا کا نام ذکر ہوا ہے
توریت میں یہ نام عبری صورت میں "حوا" آیا ہے. تورات کے یونانی زبان میں ترجمے کے دوران یہ لفظ Evα اور لاتینی میں Heva تھا اور لاتینی سے Eve کی صورت میں مغربی زبان میں داخل ہوا ہے. حوا کے اصلی لفظ کی شناخت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس اصل کی شناخت کے لئے نو نظریے ذکر ہوئے ہیں.

پہلا نظریہ: عہد عتیق کے مطابق حضرت آدم نے اپنی زوجہ کا نام حوا رکھا، اس لئے کہ وہ تمام زندہ افراد کی ماں ہے. دوسرا نظریہ: ممکن ہے یہ کلمہ حیاہ سے تبدیل (حی کا معنی زندہ) کیا گیا ہو. اسکینر کی نظر میں حوا جو کہ ایک پہلی عورت اور حضرت آدم کی زوجہ کا مستقل نام ہے، احتمال دیا جاتا ہے کہ یہ ایک پرانے نظریے سے ماخوذ ہے جس کی بناء پر، پہلی ماں، اور وحدت نسل کی نمائندہ ہے. اس لئے، حوا کا لفظ اولاً حیات کے معنی میں اور اس کے بعد حیات کا سر چشمہ، یعنی مادر ہے

Fatwa : 545-55T/L=06/1440
جمہور مفسرین کی رائے کے مطابق حضرت حواء کی پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے ہوئی ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت حواء کی پیدائش اللہ تعالی نے حضرت آدم کو بناتے وقت بچی ہوئی مٹی سے کی ہے، لیکن پہلے والا قول ہی راجح ہے۔ فقط
منہما یعنی آدم وحواء ، قال مجاہد -رحمہ اللہ-: خلقت حواء من قصیري آدم ، وفي الحدیث: خلقت المرأة من ضلع عوجاء ۔ القرطبی: ۶/۶، سورة النساء : ۱، ط: موٴسسة الرسالة بیروت ، لبنان۔ وفی تفسیر روح المعانی: ”وخلق منہا زوجہا“ وہو عطف علی خلقکم داخل معہ في حیّز الصّلة، وأعید الفعل لإظہار مابین الخلقین من التفاوت لأن الأول بطریق التفریع من الأصل والثانی بطریق الإنشاء من المادة، فإن المراد من الزوج حواء وہی قد خلقت من ضلع آدم علیہ السلام الأیسر کما روي ذلک عن عمر - رضی اللہ عنہ- وغیرہ ۔ وروی الشیخان ”استوصوا بالنساء خیراً فإنہن خلقن من ضلع وإن أعوج شيء فی الضلع أعلاہ الخ“ وأنکر أبومسلم خلقہا من الضلع، لأنہ سبحانہ قادر علی خلقہا من التراب فأي فائدة فی خلقہا من ذلک، وزعم إن معنی ”منہا“ من جنسہا ․․․․․․ و وافقہ علی ذلک بعضہم مدّعیا أن بما ذکر یجر إلی القول بأن آدم - علیہ السلام- کان ینکح بعضہ بعضا ، وفیہ من الاستہجان مالایخفی ، وفي الہامش: وقیل إنہا خلقت من فضل طینہ ونسب للباقر ۔ روح المعاني: ۳/۱۸۱، الجزء الرابع ”مطلب فی الذي خلقکم من نفس واحدة الخ“ ط: مکتبة إمدادیة
تحریر فاطمہ بلوچ ‎@ZalmayX

1 comment:

  1. بہترین مضمون ہے اور مستند حوالہ جات سے مضمون کی قدر و قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.