تخلیق حضرت آدم علیہ السلام
تخلیقِ آدم علیہ السلام
حضرت آدم علیہ السلام کی کنیت ابو محمد یا ابو البشر ہے اور آپ کا لقب "خلیفتہ اللّٰہ" ہے اور آپ سب سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کے نہ ماں ہیں نہ باپ بلکہ اللّٰہ عزوجل نے ان کو مٹی سے بنایا ہے چنانچہ روایت ہے کہ جب خداوند قدوس نے آپ کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین سے ایک مٹھی مٹی لائیں۔ حکمِ خداوندی کے مطابق آپ نے آسمان سے اتر کر زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی تو پوری روئے زمین کی اوپری پرت چھلکے کی مانند اتر کر آپ کی مٹھی میں آگئی جس میں ساٹھ رنگوں اور مختلف کیفیتوں والی مٹیاں تھیں۔ یعنی سفید و سیاہ اور سرخ و زرد وغیرہ رنگوں والی اور نرم و سخت، شیریں و تلخ، نمکین و پھیکی وغیرہ کیفیتوں والی مٹیاں شامل تھیں۔ ( خازن ج ا, ص46 و جمل ج ا ص 39)
پھر اس مٹی کو مختلف پانیوں سے گوندھنے کا حکم فرمایا چنانچہ ایک مدت کے بعد یہ چپکنے والی لئی بن گئی پھر ایک مدت تک یہ گوندھی گئی تو کیچڑ کی طرح بودار گارا بن گئی۔ پھر یہ خشک ہو کر کھنکھناتی اور بجتی ہوئی مٹی بن گئی۔ پھر اس مٹی سے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا بنا کر جنت کے دروازے پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر فرشتوں کی جماعت تعجب کرتی تھی کیونکہ فرشتوں نے ایسی شکل وصورت کی کوئی مخلوق کبھی دیکھی ہی نہیں تھی۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اس پتلے میں روح کو داخل ہونے کا حکم فرمایا چنانچہ روح داخل ہو کر جب آپ کے نتھنوں میں پہنچی تو آپ کو چھینک آئی اور جب روح زبان تک پہنچ گئی تو آپ نے"الحمدللّٰہ" پڑھا اور اللّٰہ عزوجل نے فرمایا کہ" یرحمک اللّٰہ" یعنی اللّٰہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ اے ابو محمد میں نے تم کو اپنی حمد کے لئے ہی بنایا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ پورے بدن میں روح پہنچ گئی اور آپ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہو گئے۔ (خازن ج ا ص 46)
ترمذی اور ابو داؤد میں یہ حدیث ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا جس مٹی سے بنایا گیا چونکہ وہ مختلف رنگوں اور مختلف کیفیتوں والی مٹیوں کا مجموعہ تھی اسی لئے آپ کی اولاد یعنی انسانوں میں مختلف رنگوں اور قسم قسم کے مزاجوں والے لوگ ہوگئے۔
( خازن ج ا ص46)
آپ علیہ السلام نے نو سو ساٹھ برس کی عمر پائی اور بوقت وفات آپ کی اولاد کی تعداد کم وبیش ایک لاکھ ہوچکی تھی جنہوں نے طرح طرح کی صنعتوں اور عمارتوں سے زمین کو آباد کیا۔
(خازن ج ا ص47، صاوی ج ا ص 20)
قرآن مجید میں بار بار اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے ہوئی چنانچہ سورہ آلِ عمران میں ارشاد فرمایا کہ
" بیشک عیسیٰ ( علیہ السلام) کا حال آدم ( علیہ السلام) کی طرح ہے کہ انہیں مٹی سے بنایا۔ پھر فرما دیا کہ ہو جاؤ تو فوراً ہوگیا"
دوسری آیت میں اس طرح فرمایا کہ
" بیشک ہم نے انسانوں کو چپکتی مٹی سے بنایا" ( الصافات ع 1)
کہیں یہ فرمایا کہ
" اور بیشک ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں سیاہ بودار گارا تھی".
پیدائش
الله نے آپ کو تخلیق کیا
وفات
نامعلوم
وجہ وفات
طبعی
قبر
نا معلوم
زبان
عربی
علاقۂ بعثت
ہندوستان
صحائف
آپ پر دس صحائف نازل ہوئے
شمار
اول
منسوب دین
تمام ابراہیمی ادیان
آسمانی کتابوں میں ذکر
آدم، ادم کے نام سے
پیشرو نبی
اِن سے پہلے کوئی انسان نہ تھا
تخلیق حضرت ہوا علیہا السلام کے متعلق مضمون کیلئے یہاں کلک کریں


No comments: