شیطان کو اسماعیل سے ہمدردی تھی؟؟ یا اب جانوروں سے ہے؟؟
شیطان کو اسماعیل علیہ السلام کی جان عزیز تھی یا يا اج کل جانور کی جان عزیز ہے
آج عید کی چھٹیوں کے اختتام کے بعد کچھ لکنے کا دل کیا قلم اٹھائ تو کسی اور موضوع پر لکھنے کے لئے تھی لیکن اس سے پہلے کہ کچھ لکھتا ایک دوست کی فون کال ائی وہ دوست دیار غیر میں کافی عرصے سے رہتا ہے اس لیے فون کال اٹینڈ کرنا ضروری تھا رسمی گپ شپ کے بعد دوست نے ایک ایسی بات کی کہ میرا موضوع تبدیل ہو گیا اور میں نے سوچا کہ اب اسی موضوع پر لکھا جائے اب موضوع کی طرف آتے ہیں
کہیں چھری اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر نہ پھر جائے، شیطان کو اس کا بڑا درد تھا، وہ ہر طور اس عمل کو روکنے کے در پے تھا بھاگا پھرتا تھا کبھی بھاگتا باپ کے پاس جاتا کبھی دوڑ کر بیٹے کو ورغلاتا اور سر کے بل چلکر اس کی ماں کو جذباتی کرتا
بھلا کیوں؟
کیا اسے واقعی اسماعیل علیہ السلام کی جان عزیز تھی؟ اور وہ واقعی اسماعیل علیہ السلام کو بچانا چاہتا تھا؟
نہیں بلکہ وہ چاہتا تھا کہ کہیں حکم ربی کی تعمیل کرکے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اطاعت الہی کا وہ مقام نہ پا لیں جسے ٹھکرا کر خود شیطان راندہ درگاہ ہوا تھا
صرف یہ واقعہ ہی نہیں سنانا بس یہ بتانا ہے کہ قربانی سے روکنے والےجانوروں کا درد محسوس کرنے والے آج بھی کئی لوگ گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہے ہیں۔
دراصل
ان کے وجود میں چلاتے شیطان کو آج بھی درد جانوروں کا نہیں درد اطاعت الٰہی کے نتیجے میں ملنے والے اس اعزاز کا ہے قربانی کرنے والے جو پالیں گے
بے وقوف سمجھتا نہیں کہ جب محبت الٰہی میں باپ کو بیٹے کے گلے پہ چھری پھیرنے سے نہ روک سکا تو حکم ربی کی تعمیل میں جانوروں کے گلے پر چھری پھرنے سے کیسے روک سکتا ہے
لیکن شیطان ہے نا لگا رہے گا۔ اور اس کے چیلے بی اپنی ڈیوٹی کرتے رھے گے اور ہم اپنی ڈیوٹی نبھاتے رہیں گے اِن شاء اللہ
خیر ۔
وہ نافرمانی میں لگا ہے
آپ فرمانبرداری میں لگے رہئے
دلوں کے بھید اللہ وجہہ الکریم بہتر جانتا ہے
اگر میری تحریر پسند ائے تو فیڈ بیک لازمی دیں کمنٹ کی صورت میں
تحریر امجد چوہدری عرف وطن کا سپاہی


ماشاء اللہ بہت اچھی تحریر ہے
ReplyDeleteاللہ کرم جزائے خیر عطا فرمائے
آمین