Header Ads

Breaking News
recent

کیا میں موبائل کے بغیر جی پاؤں گا؟؟

 


‏کیا میں موبائل کے بغیر جی پاوں گا؟

1996کے ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل شروع ہونے سے پہلے جنگ کا میدان قرار دیا جاچکا تھا۔ ہر طرف روائتی تبصرئے جاری تھے۔ مجھے کرکٹ کی الف ب کا پتہ نہیں تھا۔ فور کلاس کا طالب علم تھا بس ارد گرد ہوتی باتوں کو سن اور دیکھ سکتا تھا۔ گاوں کے چائے کے کھوکھے پر کافی رش تھا۔ ٹی وی اکا دکا تھے اس لئے فرنٹ سیٹیں پہلے سے بک ہوچکی تھیں۔ چند کھڑئے لوگوں کے درمیان سے سرکتا ہوا میں بھی اسکرین دیکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ سدھو سکھ کی ہر طرف دھوم تھی۔ میچ روائتی جوش جذبے سے جاری تھا کہ پینتالسویں اوور کے دوران بجلی چلی گئی۔ شوروغل مچا۔ وہاں سے واپس سرکتا ہوا ماموں کے گھر پہنچا تو نیشنل پیناسونیک کا ریڈیو چوکوں چھکوں کی برسات سنا رہا تھا۔دروازے پر اسکور پوچھنے والوں کو میں ایسے بتا رہا تھا جیسے پویلین میں بیٹھا ہوں۔ 2019کا ورلڈ کپ تھا۔میچ پھر روائتی حریفوں کے درمیان تھا۔جوش و جذبہ وہی تھا مگر نہ کھوکھے پہ رش تھا نہ فرنٹ سیٹ بک کروانیکی ٹینشن۔ ایک بینچ پہ بیٹھا میں ریٹائرڈ استاد سے پرانی یادیں تازہ کررہا تھا تو انہوں نے کہا اب تو مسئلہ ہی نہیں وہ موبائل ایپ پر ہی سارئے میچ کی کمنٹری پڑھ لیں گے۔ ساتھ میں منجے ہوئے کھلاڑیوں کے ٹوئٹ بھی آتے ہیں۔سب گھروں میں ٹی وی تھے مگر ہر کوئی موبائل پر دیکھنے کو ترجیح دیتا نظر آیا۔ ہجوم میں میچ دیکھنے کی حسرت ہی رہی۔ ساتویں کلا س میں تھا۔ چھت پر بسیرا تھا۔ آدھی رات کو ہمسائے کو پیٹ میں درد اٹھا۔ ہمدردی کو ہم بھی بھاگے۔ نوجوان سمجھ کر گاوں کے دو عدد ڈاکٹر حضرات کے دروازے پیٹے مگر نہ کھلے واپس آکر تسلی اور دلاسہ دیا۔ قہوہ کا تجربہ آزمایا گیا۔ افاقہ ہوا تو باقی ماندہ نیند پوری کی۔ 2021کی ایک رات والدہ نے جگایا بیٹا بڑا بھائی مسلسل قے کررہا ہے۔ کسی ڈاکٹر کو لاو۔ گوگل بھائی جان کو پھرولا کینو کا تازہ جوس پلانے کی تجویز پسند آئی۔ گاڑی نکالی سٹاپ پر کھلی واحد دکان سے کینو خریدئے۔ جوس پلایا۔ فوری نیند نے غلبہ پالیا۔ 2007میں موٹرسائیکل کی تازہ تازہ جانکاری ہوئی۔یار خاص کے ساتھ لانگ ڈرائیو پہ چل دئے۔ ایسے بھٹکے کہ کئی افراد کو داستان غم سنا کر گھر کا راستہ ملا۔ 2018میں نارووال ایک حکیم صاحب کے پاس معدئے کے مرض کے لئے جانا ہوا۔ ایڈریس کو گوگل میپ میں درج کیا۔ اور سیدھے حکیم صاحب کی دکان پر جاپہنچے۔وقت پر پہنچنے کی خوشی بھی تھی اور کوئی ایڈونچر نہ ہونیکا کا ملال بھی۔ جب بھی بجلی کا بل ادا کرنیکی ذمہ داری لگائی جاتی۔ آخری تاریخ کے ہجوم کے خوف سے پہلے ہی بل جمع کروانے پہنچ جاتا۔ لیکن اب آن لائن چند سیکنڈز کے مرحلے نے تاریخ کے جھنجٹ کی فکرکو رفوچکر کردیا۔ کاش میں تیرئے ہاتھ کا کنگن ہوتا کاجادو سرچڑھ کر بول رہا تھا۔وصی شاہ کی زبان سے سنا کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں میں ملے گی۔ خریدنے کے لئے تین مہینے پیسے جمع کئے۔خریدی پڑھی اور پھر آج تک نہیں خبر لی کہ کہاں ہے؟۔موبائل پر فرحت عباس شاہ محسن نقوی پروین شاکر ایک کلک پر اپنا کلام لئے حاضر ہیں۔ دھواں ایک ایسا ڈرامہ ہے جس کا ذکر ہر طبقہ فکر میں ملتا ہے۔ نہ دیکھنے کا قلق تھا۔ یوٹیوب باجی نے بولا میری آغوش میں آو میں الف نون بھی دکھاوں گی۔ اندھیرا اجالا بھی پڑا ہے۔ تم بولتے جاو میں دکھاتی جاوں گی۔چناچہ اب میں بولتا رہتا ہوں اور دیکھتا رہتا ہوں۔کبھی چارجر میرئے سرہانے کبھی میں چارجر کے سرہانے۔ لیکن اس تمام صورتحال میں ایک سوال مجھے اکثر تنگ کرتا ہے کہ کیا موبائل کے بغیر میں جی پاوں گا؟ کیا آپکو بھی یہ سوال تنگ کرتا ہے؟


سبحان اختر



No comments:

Powered by Blogger.