انسانیت اپنے گرداب میں
انسان اپنے گرداب میں۔۔۔
جدائی کا راستہ ایک لمبا اور کٹھن راستہ ہے۔زندگی میں جدائی کا راستہ نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرنا ہے تو پھر وقت کو تبدیل کرنے کا کوئ فائدہ نہیں۔جب صاحب خود عادات و خصائل کے اصولوں سے روگردانی کریں تو اچھے یا برے نتائج کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔زندگی میں منحمک شدہ لوگ پھولوں کی خوشبووں،پھلوں کی لذتوں،ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں منحمک ہوتے ہیں اُن کے نتائج واضح ہوتے ہیں انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
انسان ہمیشہ سے ہی اپنی بہتری میں مصروف عمل رہا ہے۔اِسی دوران اپنوں سے ہی لمبے عرصے کے لئے جدا ہونا پڑتا ہے۔کیوں جدا ہونا پڑتا ہے؟ کیونکہ اپنا ہی تخلیق کردہ گرداب اتنا مضبوط بن چکا ہوتا ہے جدائ کے علاوہ کوئ دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔انسان ہی انسان کا دشمن ہے۔انسان اپنی بقاء کی حفاظت کیلئے سینکڑوں اقوام کی بقاء خطرے میں ڈال دیتا ہے تب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول عملاً دیکھنے میں آتا ہے۔اپنی حفاظت کیلئے جو مدار تشکیل دیا ہوتا ہے اُس سے کہیں زیادہ دوسرے نے تشکیل دیا ہوتا ہے۔
انسان اکیلا بے یار و مددگار ،مفلس کتنے اپنے گرد مداروں کا مقابلہ کر پائے گا۔پہلے انسان کو مظلوم بنایا جاتا ہے،کمزور بنہیں۔
اتا ہے،مُفلس بنایا جاتا ہے پھر اُس کے گرد شنکنجہ ڈالا جاتا ہے۔کتنا عجیب انسان ہے طاقت کے نشے میں خود کا انجام بھول جاتا ہے۔انجام کے نزدیک ایک تاریک رات استقبال کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔تب دماغ مفلوج ہو چکا ہوتا ہے۔پہلے کمزور کرتا ہے پھر کمزور کیا جاتا ہے۔پہلے مفلس کرتا ہے پھر مفلس کیا جاتا ہے۔افسوس اس بات کا ہے دوسرے لوگ اس کو قدرت کا انتقام کا نام دیتے ہوئے قدرت کے اصولوں کے بر سرِ پیکار ہوتے ہیں۔اپنا انجام بھول جاتے ہیں۔مرنا بھول جاتے ہیں۔
سچ پوچھو تو طاقت کا نشہ واحد نشہ ہے جو انسان سے انسانیت کا مقصد اور سبق چھین لیتا ہے۔اپنے عروج اور ہمیشہ زندہ رہنے کے علاوہ سوچتا ہی نہیں۔لوگوں سے عقیدے چھین لیتے ہیں رسم و رواج چھین لیتے ہیں اور چھین لینے کے دوران طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔بازو توڑ دیے جاتے ہیں عقل کو مفلوج کر دیا جاتا ہے اُڑنے کیلئے پَر جلا دیے جاتے ہیں۔بولنے کیلئے میٹھے بول اُگلنے والی زبان کو کاٹ دیا جاتا ہے پھر ہلکا سا چارہ ڈالا جاتا ہے۔زمین روٹی ہے انسانیت کی جب تذلیل کی جاتی ہے۔پھر بھی طاقت برقرار رہتی ہے۔پھر انتقام کی آگ کے شعلے میں تیزی آتی ہے تب انسانیت یاد آتی ہے اصول یاد آتے ہیں ماضی بُهلا دیا جاتا ہے۔مخالف زیادہ طاقتور ہو چکا ہوتا ہے ۔
اپنی بقاء خطرے میں نظر آتی ہے۔آزادی کا سورج طلوع ہو چکا ہوتا ہے۔پھر جُدا ہونا پڑتا ہے موت کی دعا کرنی پڑتی ہے اپنے ملک و ملکیت سے جدائ اختیار کرنی پڑتی ہے۔دوسروں کیلئے تشکیل کردہ گرداب میں خود کو آنا پڑتا ہے۔دوسرے لوگ عروج و زوال کی داستانیں لکھنے میں مصروفِ عمل ہوتے ہیں۔یہی داستانیں نسل دَر نسل ہوتی رہتی ہیں۔
ایک سبق پڑھایا جاتا ہے۔مقصد واضح کیا جاتا ہے انسانیت پڑھای جاتی ہے اصول سکھائے جاتے ہیں۔قوانین اور نظم و ضبط پڑھائے جاتے ہیں۔زندگی کے بہترین اصول وضع کیئے جاتے ہیں۔جوخُوشحالی اور امن و سلامتی نظم و ضبط سے قومیں پروان چڑھتے ہیں۔تاریخ کے اوراق تبدیل ہوتے ہیں۔ملک خوشحال ہوتے ہیں۔عوام میں نئ امید کی کرن زندہ ہوتی ہے۔عقیدے پُختے ہوتے ہیں۔سچے انسان ہوتے ہیں۔مخلص دوست ہوتے ہیں۔تب انہی لوگوں کے اچھے مستقبل ہوتے ہیں۔اونچے خواب ہوتے ہیں۔اونچے مقصد ہوتے ہیں۔اپنے گرد ہر گرداب کو مخص کر ڈالتے ہیں۔اور یہی لوگ زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں۔


No comments: