گل مکئی (ملالہ) کو جواب
نوٹ : ہمیں کوئی ضرورت نہیں ان فضول لوگوں پر تنقید کرنے کی، لیکن یہاں تنقید اسلام کے دفاع میں کی جارہی ہے۔
دہشت گردی کے دور میں پاکستان میں کتنے ہی بچوں کو شہید کیا گیا اور کتنے ہی زخمی ہوئے، چاہئے وہ سوات ہو یا خیبر پختون خواہ کے دیگر علاقے عام عوام کے مرد خواتین، اور بچے ہوں یا باقی پاکستان کے عوام، کئیں شہید ہوئے اور زخمی بھی اور کئیں اغوا بھی ہوئے اور گمنام موت مارے گئے، لیکن مغرب نے ایک دم سے گل مکئی (ملالہ) کو اتنا کیوں اچھالا ؟؟؟ اسے ہی کیوں ہیرو بنا کہ پیش کیا؟ اس بات کو سمجھنے کیلئے آپ کو تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا، جب ملالہ نے اسلامی حکم پردے کو پتھر کے دور کی علامت اور داڑھی کو فرعون سے مشابہت دی، یہی بیان اسے مغرب کے نظروں میں بلندیوں پہ لے گیا اسلاموفوبیا کا شکار مغرب کوئی بھی مسلمانوں کے نام والا اسلام کے خلاف بولتا ہے اسے اہمیت اور فوقیت دیتا ہے، اور حیرت یہ ہے کہ ان بیانات پہ بظاہر سمجھدار دکھنے والا اس کا باپ ضیاء الدین یوسفزئی بلکل خاموش رہا جیسا کہ اب خاموش ہے، شنید تو یہ بھی ہے کہ ضیاء الدین کو اس کے والد جو عالم دین تھے لبرل ہونے کی وجہ سے گھر سے نکالا تھا باقی حقیقت کیا ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
لبرل انتہاء پسند جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور قرآن مجید کے احکام کو کھلے عام چیلنج بھی کرتے ہیں پردہ، نکاح جیسی باتوں سے منکرین بھی ہیں، تو ان جیسوں کے ایمان بھی شکوک وشبہات میں گھرا ہے۔
گل مکئی اپنا نام انگریزی رکھ کر جو بھی کرے لیکن پاکستان کی بدنامی کا باعث نہ بنے بقول جمیل فاروقی۔
" اگر کسی کو ”پارٹنرشپ یا تنظیم سازی“ کے ذریعے نَسل آگے بڑھانی ہے تو یہ اُس کی انفرادی چوائس ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی دِین کی بنیادی اساس ”میرج یعنی نکاح“ پر طبع آزمائی فرما کے اپنی انفرادی تسکین کو بالاتر ثابت کرنے کی کوشش کرے گا تو پھر اُسے جواب سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہو گا"
اب گل مکئی کے دفاع میں ضیاء الدین آئے گا تو اسے بھی جواب دیں گے اور بائیڈن آیا تب بھی جواب دیں گے، کمال ہے ڈھٹائی سے اسلام اور شعائر اسلام پر تو بولتے ہیں جب ان پر تنقید کی جاتی ہے تو برداشت نہیں ہوتی، پشتو محاور ہے "د بل کونی کہ چی گوتہ منڈی خپل کونی کہ دی لاس زئے پریگدہ" ترجمہ میں یہاں نہیں کروں گا، سمجھنے والے سمجھ جائیں گے البتہ مطلب یہی ہے کہ دوسروں کو چھیڑنے سے پہلے یہ سوچیں کہ تمہیں بھی کوئی چھیڑ سکتا ہے اس لئے پہلے سے ہمت کر کہ دوسرے کو چھیڑنا۔
اب آتے ہیں نکاح کی طرف تو قرآن مجید میں اسکا ذکر اور حکم کئی جگہہ موجود ہے، اور جگہ جگہ بے حیائی ، زنا، سے بچنے کی تلقین بھی نکاح پہ دلیل ہے۔
احادیث کی تقریبا ہر کتاب میں میں کتاب النکاح نام سے ایک لمبی بحث ہوتی ہے ابن ماجہ کی ایک حدیث کے مطابق نکاح کا منکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نہیں ہے۔
علماء کرام نے گناہ کے غلبے کے خدشے کی صورت میں فرض قرار دیا ہے۔ رہی بات پارٹنر شپ یعنی کہ زنا کی، جو زنا کے جواز کا قائل ہو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔
حال ہی میں گل مکئی کے والد ضیاء الدین یوسف زئی نے بیان دیا ہے کہ ملالہ کا بیان سیاق وسباق سے ہٹا کر سوشل میڈیا پہ ڈالا جا رہا ہے، حالانکہ سیاق وسباق کے ساتھ بھی تو یہی الفاظ بنتے ہیں۔
اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ملالہ بے نقاب ہوتی جارہی ہے ورنہ پاکستانی قوم تو اسے ہیرو بہت پہلے ڈکلئر کرچکی ہے۔
یہی لوگ پاکستان پر حکمرانی کا خواب دیکھتے ہیں، بعض حضرات گل مکئی کو پاکستان کا مستقبل کہتے ہیں، اگر ہمارا مستقبل ایسا ہوگا تو اس مستقبل پہ سو بار لعنت۔
آخر میں گل مکئی (ملالہ) سے گزارش ہے کہ اپنے والدین سے ایک بار ضرور پوچھنا کہ وہ نکاح کا نتیجہ ہے یا پارٹنرشپ کا نتیجہ۔
والسلام رضوان احمد حقانی
اگر آپ اپنی تحریر ویب سائٹ پہ اپلوڈ کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں
مضمون پسند آیا تو کمنٹ ضرور کریں۔


بہترین
ReplyDelete