Header Ads

Breaking News
recent

مسلمانو! مسجد اقصیٰ بلا رہی ہے



 امت آج ایک بار پھر فاتح بیت المقدس جناب سیدنا عمرؓ فاروق اور صلاح الدین ایوبی کی منتظر ہے صیہونی مسلمانوں کو للکاررہے ہیں۔

مسجد کی بے حرمتی تو معمول بن چکا ہے نہتے لوگوں کو پہ مظالم ڈھانا کوئی نئی بات نہیں مسجد کی حفاظت کیلئے پتھروں کا سہارا لیا جارہاہے، اور یقین جانئیے یہ پتھر رکھے ہوئے میزائلوں سے ہزار درجہ بہتر ہیں کم از کم مسجد کے تحفظ کیلئے استعمال تو ہورہے ہیں۔ 









حسب سابق ہم نے مذمتی بیان کو ہی اپنا فرض سمجھا ہے، لیکن افسوس ہمیں اپنے قبلہ اول کا درد محسوس نہ ہوا ستاون اسلامی ممالک کی تنظیم نے بھی مذمت کو ہی نجات سمجھا، جو لوگ اقوام متحدہ کو نجات دہندہ سمجھ کر یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ آئے گی اور فلسطین کا مسلہ حل کرے گی،تو یہ ایک خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے والا،ستر سال سے زیادہ گزر چکے ہیں اقوام متحدہ نے ہندوستان کے خلاف جا کر کشمیر کی آزادی میں کچھ نہیں کیا،پھر بھلا وہ ان یہودیوں کے خلاف جانے کی ہمت کیسے کرستکی ہے جن کے پیسوں سے اقوام متحدہ کے بڑے رکن ممالک کی معیشت چلتی ہے؟ قبلہ اول ہمیں پکار رہا ہے ڈیڑھ ارب مسلمانو، اسی لاکھ یہودی تمہیں للکارتے ہوئے مسجد کے تقدس کو پامال کررہے ہیں، ہمیں عملی طور پہ اس میدان میں اب کودنا ہوگا اور بزور بازو مسجد کے تقدس کی حفاظت کرنا ہوگی اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔ ہم سے بہتر تو وہ بچے ہیں، جو ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر اور دوسرے ہاتھ میں پتھر لے کر مسجد کے تحفظ کا ارادہ رکھتے ہیں، جمہوریت کے نام پہ ہم ایک دوسرے کے پیچھے ہی لگے ہوئے ہیں مسجد کو آگ لگادی گئی یہودی خوشیاں مناتے گئے اور ہم نے مذمت سے آگے قدم بڑھانا مناسب نہ سمجھا ، مراکش سے لیکر برونائی تک تمام قومیتوں میں بٹے ہوئے مسلمانوں کے ممالک کے حکمران جو کہ اپنے آقاؤں کے حکم پر ہمیں ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ہمیں آپس میں لڑا کر ہم پر حکومت کررہے ہیں، کیا تمہیں ان سے امید ہے کہ وہ میدان میں آئیں گے اور قبلہ اول کی حفاظت کریں گے؟ اگر آج خدانخواستہ تم پر کوئی ملک چڑ دوڑے،یہ لوگ سب کچھ چھوڑ کر اپنے آقاؤں کے قدموں میں بیٹھے ہوں گے، آج بھی وقت ہے مسلمانوں تمہارے متحد ہونے کی دیر ہے خدا کی قسم یہ یہود اور نصاری کل بھی تمہارے سامنے ہیچ تھے اور ہمیشہ کیلئے رہیں گے، ہمیں اپنا حال بدلنا ہے زندگی نے ہمیں القدس کیلئے اتحاد کا موقع دیا ہے، اگر ہم متحد نہ ہوسکے تو پھر کبھی نہیں ہوں گے انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین آج امت مسلمہ کو پکاررہی ہے ۔پر افسوس ہم مذمت سے آگے ہی نہیں بڑھتے۔۔۔۔

‏1969 میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر او آئی سی وجود میں آئی تھی، آج پھر مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور فلسطینی شہید ہو رہے ہیں مگر اردگان کے علاوہ کسی مسلمان لیڈر نے للکارا تک نہیں، سب نے مذتی بیانات دے کر اپنا فرض پورا سمجھا جبکہ اس کے برعکس ہمیں متحد ہوکر مسجد اقصی کی حفاظت کی ضرورت ہے۔!۔

اللہ تعالی سے دعا یے کہ وہہ مسلمانوں کو اتحاد کی توفیق دے اور القدس کی خاطر جہاد کی توفیق دے۔

 آمین والسلام رضوان احمد حقانی

مضمون پسند آنے کی صورت میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کمنٹس میں کریں 

قرآن مجید اور سائنس سیریز پڑھنے کیلئے کلک کریں



1 comment:

Powered by Blogger.