اس عید کی خوشیوں میں اپنے کشمیری اور فلسطینی مسلمان بھائیوں کو نہ بھولیں
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد گرامی ہے كُلُّ يَومٍ لا يُعصَى اللّه ُ فيهِ فَهُوَ عِيدٌ "
مومن کے لئے ہر وہ دن عید ہے جس دن وہ کوئی گناہ نہ کرے
آج عید الفطر کا مبارک دن ہے
عید کے بارے چند عربی شعر ترجمہ کے ساتھ پیش کر رہا ہوں
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدِ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ خَافَ بِالْوَعِیْدِ
عید ان کی نہیں جنہوں نے عمده لباس زیب تن کر لیا بلکہ عید تو ان کی ہے جو الله کے خوف اور اس کی پکڑ سے ڈر گئے۔
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَبَخَّرَ بِالْعُوْدِ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَابَ وَلَا یَعُوْدُ
عید ان کی نہیں جنہوں نے آج عمده خوشبوؤں کا استعمال کیا بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کی توبہ کی اور پهر اس پر قائم رہے۔
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ نَصَبَ الْقُدُوْرَ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ سَعَدَ بِالْمَقْدُوْرِ
عید ان کی نہیں جنہوں نے عمده کهانوں کی ڈشیں پکائیں بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے حتی الامکان سعادت حاصل کی اور نیک بننے کی کوشش کی۔
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَیَّنَ بِزِیْنَةِ الدُّنْیَا
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَوَّدَ بِزَادِ التَّقْویٰ
عید ان کی نہیں جنہوں نے دنیاوی زیب و زینت اختیار کی بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کو اختیار کیا اور اسے اپنا توشه بنایا۔
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ رَکِبَ الْمَطَایَا
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَرَکَ الْخَطَایَا
عید ان کی نہیں جنہوں نے عمده سواریوں اور گاڑیوں پر سواری کی بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے گناہوں کو چهوڑ دیا۔
لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ بَسَطَ الْبَسَاطَ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ جَاوَزَ الصِّرَاطَ
عید ان کی نہیں جنہوں نے اعلیٰ درجہ فرش سے اپنے مکانوں کو آراسته کیا بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے پل صراط کو پار کیا۔
اللہ تعالی ہم سب کو گناہوں سے بچائے اور رمضان کے مبارک مہینے میں ہم نے جس طرح عبادات کیں، رمضان کے بعد بھی اسی طرح عبادات کی توفیق دے، رمضان کا سبق بھی یہی ہے کہ ہم جس طرح اس مہینے میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ایسی طرح دیگر مہینوں میں بھی گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
بہرحال رمضان جانے کا دکھ ہے، کیا معلوم اگلے رمضان تک ہم زندہ ہوں یا نہ ہوں، عربی کا محاورہ ہے، العِیدُ ساعَاتُُ والرَمضان کلہ عید
کہ عید تو چند گھڑیاں ہیں جب کہ رمضان مکمل عید ہے۔
میں جبلی ویوز کی پوری ٹیم کے طرف سے تمام امت مسلمہ کو عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں. خصوصا مسافر بھائیوں کو جو بیرون ملک محنت مزدوری کر کہ نہ صرف اپنے گھر کی کفالت کر رہے ہیں، بلکہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں. پشتو محاورہ ہے " مسافروں کی بھی کیا عید ہوتی ہے شام کو دیوار کے طرف منہ کر کہ آنسو بہاتے ہیں، اللہ تمام مسافر بھائیوں کی مشکلات کو آسان فرمائے۔امین
ٹیم جبلی ویوز اس عید کو کشمیری، اور فلسطینی مسلمانوں کے نام کرتے ہیں کیونکہ وہ مصائب کے وجہ سے باقی عیدوں کی طرح اس سال بھی عید دکھ اور غم میں منا رہے ہیں، ہم ان مظلوم مسلمانوں کیلئے دعاگو ہیں ۔
میری طرح آپ میں سے بہت لوگ اپنے ان پیاروں کو یاد کرتے ہوں گے جو اس عید پہ ہمارے ساتھ نہیں میں اپنے پیاروں سمیت آپ کے پیاروں کی مغفرت کیلئے دعاگو ہوں، عید ہوتی ہے اپنے غم اور خوشیوں کو بانٹنے کیلئے۔
کہا جاتا ہے غم بانٹنے سے کم اور خوشیاں بانٹنے سے زیادہ ہوتی ہیں آپ بھی کمنٹ میں اپنے غم اور خوشیاں بانٹیں تاکہ ہم بھی آپ کی غم اور خوشیوں میں شریک ہوں ۔
آخر میں ایک بار پھر میں اپنے اور اپنی ٹیم کے طرف سے آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


No comments: