Header Ads

Breaking News
recent

احساس

 



💓احساس💓


آج کی تحریر خصوصی طور پر میں اپنی ماؤں،بہنوں ،بیٹیوں کے نام کرتا ہوں جو سارا دن گھر کے کام کاج کرتی ہیں اس کے باوجود مرد حضرات کی طرف سے بجاۓحوصلہ افزائی کے ان کی دل شکنی کی جاتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔

پھر بھی یہ اپنی ذمہ داریاں پوری محنت سے ادا کرتی ہیں۔۔۔


تو قارئین کرام بات شروع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم کے سلسلے میں، میں پچھلے ایک ہفتے سے فیصل آباد میں مقیم ہوں اور بات واضح ہے کہ اس دوران کپڑے تبدیل تو کرنے ہی تھے میرے پاس ایک ہفتے کے ڈریسز موجود تھے 

یوں پورا ہفتہ کپڑے دھونے کی نوبت نہ آئی۔

آج میرا آخری سوٹ تھا تو میں نے دوستوں سے مشورہ کیا کہ کپڑے کہاں سے دھلوائیں ؟ تو آخر فائنل یہ ہوا کہ خود دھوئیں گے۔

اور ایک دوست نے بڑی پیاری بات کی جب ہم کپڑے دھوئیں گے تو یہ بات ملحوظ خاطر رکھیں کہ جب ہماری ماں ہمارے کپڑے دھوتی تھی تو وہ کیسی مشقت برداشت کرتی تھی ۔سب دوستوں نے کہا ٹھیک ہے ۔

المختصر کہ جب میں نے برش پکڑا اور کپڑے پر ملنے لگا تو یکایک ذہن میں خیال آیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری مائیں کتنی مشقت برداشت کرتی ہیں۔ کیوں کہ برش ملنے کی وجہ سے 

میرا بازو درد کر رہا تھا۔۔۔۔۔

جب کہ ایک ماں سارا دن گھر میں کام کرتی ہے اور بیٹا سمجھ رہا ہوتا کہ کون سا مشکل ہے

ایک بہن سارا دن کچن میں کام کرتی ہے تو بھائی کہتا ہے یہ تو میں یوں کر لوں گا 

بیوی سارا دن گھر کے ساتھ بچوں کو سنبھالتی ہے شوہر سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ سارا دن ٹی وی دیکھ کر گزار رہی ہے۔

جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔

ہم اپنے زاویے سے سوچ رہے ہوتے کہ میں سارا دن دفتر میں کام کرتا ہوں تو تھک جاتا ہوں ۔

یوں لگتا ہے کہ بس اپنی فکر ہے دوسرے کا احساس نہیں ہے ۔

میں ان حضرات سے کہتا ہوں کہ ایک دن گھر کے کام کر کے دیکھیں تو احساس ہوگا ۔۔

جب کچن میں کھانا بناتے ہوئے پسینے سے شرابور ہوں گے تو احساس ہوگا کہ میری ماں ہر روز میرے لیے اتنی مشقت برداشت کرتی ہے۔

جب کپڑے دھوئیں گے تو احساس ہوگا کہ میری بہن کس محنت سے میرے لیے ہر روز میرا سوٹ دھونے کے ساتھ استری کر کے دیتی ہے ۔

جب بچوں کو تیار کر کے سکول

بھیجیں گے تو احساس ہوگا کہ میری بیوی سارا دن گھر میں چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے کس قدر تھک جاتی ہے ۔ 

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم گھر میں آکر ان کا ہاتھ بٹاتے ایک تو اس سے ان کی دلجوئی ہوتی اور دوسرا سنت پر عمل کرنے سے ثواب ملتا اور ہمارا گھر خوشیوں کا گہوارہ بنتا جبکہ کہ ہم نے ان پر تنقید شروع کر دی۔۔

ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی کوشش کریں ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ حضورؐ کے گھر کے معمولات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے دوسرے لوگوں کے ہوتے ہیں۔ کھانے کا وقت ہو تو کھانا کھاتے ہیں، گھر کا کوئی کام کاج ہو تو وہ کر دیتے ہیں، کوئی سودا وغیرہ منگوانا ہو تو وہ منگوا دیتے ہیں، ہمارا حال احوال پوچھتے ہیں، ہمارے ساتھ گفتگو بھی کرتے ہیں، گھر کی کسی چیز کی مرمت کرنی ہو تو وہ بھی کر دیتے ہیں، کوئی جوتا گانٹھنا ہو تو گانٹھ دیتے ہیں، چارپائی سیدھی کرنی ہو تو کر دیتے ہیں،گانٹھنا ہو تو گانٹھ دیتے ہیں، ، کسی کام میں ہمارا ہاتھ بٹانے کی ضرورت ہو تو ہاتھ بٹا دیتے ہیں۔ 


تو آخر میں ،میں عرض کروں گا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے گھر والوں کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔

ہمارا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ جب ھم گھر سے نکلیں ماں کی دعائیں حصار بن کر ہماری حفاظت کریں۔

بہن بھائی کی کمی کو محسوس کرے

بیوی شوہر کی راہ میں پلکیں بچھاۓ ۔۔۔۔۔


         

       ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔ 

یہ اس وقت ہوگا جب ہم انہیں اہمیت،عزت ،پیار دیں گے ۔۔۔

        خواتین کو اسلام نے جو حقوق دئیے ہیں ان سے کوئی انکار نہیں لبرل آنٹیاں جسم کی مرضی،  ٹائر بدلنا،  وغیرہ سے بڑھ کر آگے سوچیں یقینا عورت مرد کیلئے ہر رشتے میں قابل احترام ہے اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ ان کو اپنی عزت تار تار کرنے کی اجازت دی جائے ملکی سطح پہ خواتین کی خدمات بہترین ہیں اس سے انکار نہیں عورتوں کے لئے عورت پولیس ہی بہتر خدمات دے سکتی. ہیں تعلیم وتعلم کا شعبہ بھی خواتین کے بغیر ادھورا ہی ہے خواتین اپنے اصلی حقوق کو پہچان کر ان کیلئے آواز بلند کریں ان لبرل آنٹیوں کے زد میں آگئں تو یہ آزادی کے نام پہ کپڑا چھین لیں گیں عورت اور مرد میں اللہ نے فرق رکھا ہے اور اس حساب سے زمہ داریاں دی ہیں ہر ایک کو اپنی زمہ داریوں کے ساتھ دوسرے کی زمہ داری اور مشکلات کو سمجھ کر احساس کرنا چاہئے 


کیا ہی اچھا ہوتا عورت مارچ میں عورتیں میرا جسم میری مرضی کے بجائے یہ سلوگنز اٹھائی رکھتیں 

یورپ مسلم عورتوں سے مذھبی پابندیاں ہٹائے 

عافیہ صدیقی کو رہا کیا جائے 

کشمیر میں ماؤں بہنوں کو جینے دیا جائے 

فلسطین کے ماؤں کے گود اجاڑنا بند کرو 

میں تیری ماں /بہن /بیٹی/ بیوی ہوں مجھ سے اسلام کے مطابق سلوک رکھا جائے 

اسلام نے جو حقوق عورتوں کو دیئے ہیں وہ ہمیں دیاجائے 

ملک سے بے حیائی ختم کی جائے تاکہ عورتوں سے زیادتیاں نہ ہوں 


یاد رہے اسلام۔نے عورت کو جو عزت دی ہے لبرل عورتیں  وہی حقوق چھین رہی ہیں 

اسلام نے فیملی سسٹم دیا جو سب سے بہترین ہے 

عورت کی ماں کے روپ میں خدمت کرنے کو حج قرار دیا گیا 

بیوی کے ساتھ اچھا سلوک اور مسکرانے کو صدقہ قرار دیا گیا 

بیٹی کے ساتھ مسکراکر زندگی گزارنا اور اس کے شادی پہ جنت کی ضمانت دی گئی ہے 

بہن کے ساتھ اچھا سلوک کا حکم۔دیا گیا ہے 

اس کے علاوہ سب کو میراث میں حق دیا گیا ہے 

میراث میں بہن کو ایک حصہ دیا گیا اس میں بھی حکمت ہے اس کے بدلے کفالت مرد کے ذمے قرار دی گئی ہے 

عورت سے شادی کرنے پہ حق مہر عطاء کیا گیا ہے 

ان سے بڑھ کر کیا حقوق ہوسکتے ہیں 

یقینا 

زنا اجازت نہ مرد کو ہے نہ عورت کو نہ مرد کے جسم کی اس کی مرضی ہے اور نہ ہی عورت کے جسم پہ اس کی مرضی ہے 

کس کا جسم کونسی مرضی 


والسلام۔

رضوان احمد حقانی 



No comments:

Powered by Blogger.