قرآن کریم کے سائنسی معجزات
آج تک کوئی اس میں زیر اور زبر کی تحریف ثابت کرسکا نہ کرسکے گا, قرآن پاک نے دنیا کے تمام صاحب عقل لوگوں کو اس وقت چیلنج کیا تھا کہ تم میں سے کوئی ہے جو قرآن مجید جیسا کتاب سامنے لاسکے؟ اگر پورا قرآن پاک سامنے نہیں لاسکتے تو دس سورتیں لے آؤ، وہ بھی نہیں کرسکتے تو کم از کم ایک چھوٹی سورت جیسی سورۃ ہی لے آؤ، تاریخ گواہ ہے کہ ماؤں نے ایسے بچے جنے ہی نہیں جو اس چیلنج کو پورا کرسکے۔
وقت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے اور کئیں معجزے کھل کہ سامنے آرہے ہیں،جیسے فرعون کی لاش کے دریافت سے پہلے تک اس آیت کا صحیح مطلب کسی کو بھی معلوم نہیں تھا،جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم تمہارے جسم کو آنے والوں کے لئے بطور نشانی محفوظ کرلیں گے ایسے ہی قرآنی معجزات سائنس کے ترقی کے ساتھ ہی کھل کر دنیا کے سامنے ظاہر ہورہے ہیں، جو لوگوں کو پکار پکار دعوتِ فکر دیتے ہیں۔
چودہ صدیوں پہلے ، اللہ تعالیٰ نے کتابِ ہدایت کے طور پر انسانوں پر قرآن مجید کو نازل فرمایا۔ اور انسانوں کو حکم کیا کہ وہ اس کتاب کی پاسداری کرتے ہوئے حق کی طرف پلٹ آئیں اور اپنی زندگیوں کے تمام شعبوں میں اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کریں۔ اس کے نزول کے دن سے لے کر قیامت تک ، یہ آخری آسمانی کتاب انسانیت کے لئے واحد رہنمائی رہے گی۔
قرآن کا بے مثال انداز اور اس میں اعلی حکمت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اس کے علاوہ ، قرآن میں متعدد معجزاتی اوصاف ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے وحی ہے۔ ان میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ متعدد سائنسی علوم اور حقائق جنہیں ہم صرف 20 ویں صدی کی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی سمجھ سکے ہیں یا جن کا صرف اس صدی کی جدید ٹیکنالوجی کے مدد سے ہی عیاں ہونا ممکن تھا، قرآن مجید میں 1،400 سال پہلے ہی ان کے متعلق بیان کر دیا گیا تھا۔
تاہم ، قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے ، یہ آیات یعنی نشانیوں کی کتاب ہے! بہت سارے سائنسی حقائق جن کا قرآن مجید کی آیات میں انتہائی جامع اور گہرے انداز میں اظہار کیا گیا ہے وہ صرف 20 ویں صدی کی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی دریافت ہوئے ہیں۔ یہ ایسے حقائق ہیں جو قرآن کے نزول کے وقت اس دور میں بغیر جدید مشینوں کے معلوم نہیں کئے جاسکتے تھے ، اور یہ اس سے بھی زیادہ اور بڑا ثبوت ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔
قرآن کے سائنسی معجزہ کو سمجھنے کے لیے ، ہمیں پہلے اُس وقت کی سائنس کی سطح پر ایک نظر ڈالنی ہوگی جب اِس مقدس کتاب کا نزول ہوا تھا،کہ اس دور میں سائنس کس حد تک ترقی کرچکی تھی کہ وہ اس جدید دور کے سائنسی نظریات اور حقائق کو 14 سو سال قبل سمجھ سکتی یا دریافت کرسکتی۔
ساتویں صدی میں ، جب قرآن نازل ہوا ، عرب معاشرے میں بہت سے توہم پرست اور بے بنیاد عقائد تھے جہاں سائنسی امور کا تعلق تھا۔ کائنات اور فطرت کو جانچنے کے لئے ٹیکنالوجی کی کمی کے سبب ، یہ ابتدائی عرب پچھلی نسلوں سے وراثت میں پائے جانے والے داستانوں پر یقین رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر ، ان کا خیال تھا کہ پہاڑوں نے اوپر آسمان کو سہارا دیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ زمین چپٹی ہے اور اس کے دونوں سرے پر اونچے پہاڑ ہیں۔ یہ سوچا جاتا کہ یہ پہاڑ ستون ہیں جنہوں نے آسمانوں کی کناروں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
تاہم قرآن کے ذریعہ عرب معاشرے کے ان تمام توہم پرست عقائد کو ختم کردیا گیا۔ سورت ص ، آیت نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اللہ وہ ہے جس نے بغیر کسی سہارے کے آسمانوں کو اٹھایا ..." (قرآن ، 2:38)۔ اس آیت نے یہ عقیدہ باطل کردیا کہ پہاڑوں کی وجہ سے آسمان اوپر کھڑا ہے۔
بہت سے دوسرے موضوعات میں ، اہم حقائق ایسے وقت میں قرآن کریم کے نزول کے ساتھ سامنے آئے تھے جب کوئی ان کو جان بھی نہیں سکتا تھا، خاص کر بغیر کسی جدید مشینری کے۔
قرآن (جو اس وقت نازل ہوا تھا جب لوگ علم فلکیات ، طبیعیات ، یا حیاتیات کے بارے میں بہت کم جانتے تھے ) میں کائنات کی تخلیق ، انسان کی تخلیق ، ماحول/ایٹموسفئیر کی ساخت کی تشکیل اور نازک توازن جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتے ہیں، جیسے مختلف موضوعات پر کلیدی حقائق کے ساتھ ایک جامع الہامی کتاب ہے۔
ہماری تحریروں کی سیریز 12 مضامین پر مشتمل ہوگی، ہر ہفتے ایک مضمون شائع کیا جائے گا، اور ہوسکتا ہے کہ کوئی مضمون یا نوٹ صرف ایک یا دو پیراگراف پر مشتمل ہو۔ ہمارا مقصد لمبے لمبے مضامین شائع کرکے کمائی کرنا نہیں، بلکہ ایک مختصر اور جامع تحریر آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا ہے۔ تاکہ آپ کے علم میں آضافہ ہو،اور وقت آنے پر آپ اس علم کو بطور دلائل ملحدین حضرات کو پیش کرسکیں،تاکہ دین کا کام جاری رہے،اور ہوسکتا ہے اس سے کسی کا بھلا ہو جائے اور اسکی آخرت سنور جائے۔
ہم مندرجہ ذیل عنوانات کے ساتھ قرآن کے سائنسی معجزات کو اپنے تحریروں میں ہر ہفتے پیر کے دن آپ حضرات کے حضور پیش کریں گے۔
- زمین کا ماحول/آٹموسفئر
- قرآن حکیم اور انسانی ایمبریونک ڈویلپمنٹ
- قرآن حکیم اور پہاڑوں کی حرکات
- قرآن حکیم اور کائنات کی ابتداء
- قرآن حکیم اور انسانی دماغ
- قرآن حکیم اور سمندر و دریا
- قرآن حکیم اور سمندر کی گہرائیاں و انٹرل ویووز
- قرآن حکیم اور کائنات کی وسعت اور پھیلاؤ اور بگ بینگ تھیوری
- قرآن حکیم اور بادلوں کی خصوصیات
- قرآن حکیم اور لوہے کا معجزہ
- رومیوں کی فتح اور زمین کا سب سے نچلا مقام
- قرآن کا مکڑی کے جالے کے متعلق بیان اور سائنسی وضاحت
نوٹ: آپ سب سے درخواست ہے کہ چاہے ہماری ویب سائٹ کے باقی مضامین کو شیئر کریں یا نہ کریں،مگر ان تمام آنے والے مضامین کو ضرور شیئر کیجیے گا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
والسلام
طالب دعا: سید محمد علی ناصر الدین شیرازی و رضوان احمد حقانی
نوٹ
اس سلسلے کے بارے میں اپنی قیمتی رائے کمنٹ کیجئے


بے شک قرآن پاک ہدایت کا سرچشمہ اور ہمارے لئے مشعل راہ ہے
ReplyDeleteاس میں کوئی شک نہیں
Deleteبہت اچھا سلسلہ ہے۔ اسے جاری رکھیں
ReplyDeleteانشاء اللہ
DeletePlz continue
ReplyDeleteبہت پیاری معلومات دیتے ہے
ReplyDeleteاعلی
ReplyDelete