Header Ads

Breaking News
recent

آئیے ایک خواب ہم بھی دیکھیں

 

آئیں ایک خواب دیکھیں 
جس کی تعبیر ایک فلاحی ریاست ایک اسلامی ملک ایک خودمختار اسلامی ملک ایک ترقی یافتہ قرضوں سے پاک ملک جیسے علامہ محمد اقبال نے دیکھا اور قائد نے پورا کیا ایسے ہم بھی پورا کریں ایک عظیم قوم کو ایک عظیم ملک ملا تھا آج اس عظیم ملک کو عظیم قوم کی ضرورت ہے 
۔
حکمران کیسے ہوں 
۔
حکمران اسلامی احکام کے پابند ہوں تاکہ وہ ملک کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے یوم حساب کو یاد کر کہ فیصلہ دیں جھوٹ، الزامات ، غیبت اور بہتان سے پاک سیاست دان ہوں جو پانچ سال پورے ہونے پہ اپنے چھوٹی کامیابیوں کو بڑا کر کہ پیش کرنے کے بجائے ایام اقتدار میں ہونے والے خامیوں پہ معافی مانگیں اپنے ملکی سلامتی کیلئے ہر حد تک جائیں 
۔
ججز کیسے ہوں 
۔
ججز خود کو قوم کا خادم سمجھتے ہوں ہر فیصلہ بغیر دباؤ کے اسلامی قوانین کے مطابق جلد از جلد فیصلہ کرتے ہوں عوام کو جواب دہندہ۔ہوں اپنے ضمیر کا سودا نہ کرتے ہوں فیصلوں میں غریب امیر کا فرق نہ کرتے ہوں 
۔
بیوروکریٹس کیسے ہوں 
۔
بیوروکریٹس ملک کو اپنے آپ سے مقدم رکھتے ہوں رشوت، سود،  جرائم کے راہ میں رکاؤٹ ہوں اپنا کام ملکی ودینی فریضہ جان کہ کرتے ہوں  
۔
امیر کیسے ہوں 
۔ 
امیر غریبوں کا خیال کرتے ہوں سود جیسی لعنت سے بچتے ہوں رعب جمانےبکے بجائے غریب کو غربت کا احساس تک نہ ہونے دیں اپنے مال کو اللہ کا امتحان سمجھتے ہوں اس میں اپنے بجائے اللہ کا کمال سمجھتے ہوں ٹیکس + زکواۃ بروقت دیتے ہوں 

تاجر کیسے ہوں 
 
تاجر جھوٹ نہ بولتے ہوں،  ملاوٹ کو گناہ سمجھتے ہوں اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوں رمضان میں اشیاء پہ منافع کے بجائے اصل قیمت وصول کرتے ہوں اپنے دین وملت کو اپنی ذات پہ مقدم رکھتے ہوں 
۔
عالم کیسے ہوں 
۔ 
علم دین ایک بڑی نعمت ہے اس کا صحیح استعمال کرتے ہوں دین کو اپنے مطلب کیلئے استعمال نہ کرتے ہوں لوگوں کو صحیح راہنمائی کرتے ہوں حق نہ چھپاتے ہوں  اور فرقہ واریت سے پاک ہوں 

مزدور کیسا ہو 

مزدور مزدوری کرتے وقت اللہ کو یاد کرتے ہوں کام میں خیانت نہ کرتے ہوں ، کام میں دو نمبری نہ کرتے ہوں 

غریب ومحتاج کیسا ہو 

غریب غربت کو اللہ کا امتحان سمجھتا ہو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچتے ہوں  

پولیس کیسی ہو 

پولیس لوگوں کی حقیقی محافظ ہو لوگوں کی بے جا جان نہ لیتی ہو ہر کسی دہشتگرد نہ سمجھتی ہو چیک پوسٹوں پہ عزت سے پیش آتے ہوں 

مرد کیسے ہوں

مرد عورت کا۔محافظ ہو عورت کو کمتری کا احساس نہ ہونے دیتا ہو عورت کو باندی کے بجائے اس سے اچھا سلوک رکھتا ہو جنسی زیادتیوں سے دور ہو قتل اور دوسرے گناہوں سے بچتے ہو 

عورت کیسی ہو 

عورت،  شوہروں کے فرمانبردار ہوں ان کی عزت کا خیال کرتی ہوں اپنی جان اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کرتے ہوں بے حیائی سے دور ہوں  غیبت بہتان سے دور رہتی ہوں 

ان تمام شعبوں میں ان صفات کے حامل لوگ ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر  اگر یہ چھوٹا سا خواب پورا ہو تو اس ملک میں نہ خون۔خرابہ ہو نہ ہی دہشتگردی ہو نہ ہی نا انصافی ہو نہ ہی کرپشن ہو، نہ ہی ظلم وزیادتی ہو نہ ہی ملاوٹ ہو نہ علماء کی بے قدری ہو نہ ہی کسی چیز کی قلت ہو نہ ہی مہنگائی ہو تب بارشیں بھی وقت پہ ہوں گی، زلزلے بھی نہیں آئیں گے ہر چیز کی فراوانی ہوگی ہمیں۔حکومت سے گلے شکوے بھی نہیں ہونگے ملک پہ بیرونی قرضے بھی نہیں ہونگے اگر پچاس فیصد بھی لوگ اس طرح ہوں تو یقینا نتائج یہ نہ ہوں جو. موجودہ ہیں 
جمہوریت میں یہ باتیں ہو تو اثرات یہ ہوں گے اگر خلافت ہو تو سونے پہ سہاگہ 
آئیں ایک خواب ہم بھی دیکھیں.
تحریر رضوان احمد حقانی
اگر آپ کو ہماری تحریر اچھی لگی تو ایک کمنٹ کر کہ ہماری حوصلہ افزائی کریں 
شکریہ 
#ٹیم_جبلی_ویوز

No comments:

Powered by Blogger.